جرائم کی روک تھام میں پولیس کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موٹروے گجر پورہ کے قریب ہونے والے ریپ کے واقعہ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ اس واقعہ نے پولیس اور حکومتی اداروں کی غفلت، غیر ذمہ داری اور نا اہلی ظاہر کردی۔ ایسے واقعات کی روک تھام اور مستقبل میں ایسے جرائم سے بچاؤ کے لئے کیا کچھ کیا جانا ضروری ہے اسی تناظر میں کچھ تجاویز وآراء چند روز سے موضوع بحث رہیں ہیں۔ ان کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔ ریپ اور دیگر سنگین جرائم کی روک تھام پولیس کے روایتی طور طریقوں سے ممکن نہیں۔

ریپ، بچوں سے زیادتی، رہزنی، ڈکیتی، اغواء اور قتل جیسے مقدمات کی تفتیش ماہر اور تجربہ کار تفتیشی اہلکاروں کے سپرد کی جانی چاہیے جن کو دیگر حکومتی اداروں سے معلومات اور حقائق فوری ملنے چاہیے پولیس اور دیگر تفتیشی اداروں کا کردار عوام کے محافظوں جیسا ہونا چاہیے اور مضروب/متاثرہ فریق کی فوری مدد اور رہنمائی پولیس کا اولین فرض ہونا چاہیے۔ جرائم کی رپورٹ کا فوری اور درست اندراج کیا جانا ضروری ہے اور ایسے پولیس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی ہو جو رپورٹ درج کرنے میں سستی یا تاخیر کرے۔

جرم کی اطلاع ملتے ہی پولیس اہلکاروں کو موقع واردات پر فوری پہنچنا چاہیے مضروب کا ابتدائی بیان اور واقعاتی شہادتوں کو اکٹھا کرنا پولیس اہلکار کی ذمہ داری ہے اور اگر جرم سنگین ہے تو فرانزک ایجینسی کو موقع واردات سے شہادتیں اور نمونے سائنسی طریقے سے محفوظ کیا جانا ضروری ہے۔ متاثرہ فریق مضروب کی ذہنی حالت اگر موقع واردات پر بیان دینے کے قابل نہ ہو تو پولیس اہلکاروں کا رویہ ہمدردانہ ہونا چاہیے۔ زناء، اغواء اور زیادتی سے متاثر فریق کی کونسلنگ ہونی چاہیے۔ ماہر نفسیات کی رہنمائی سے مضروب کی دلجوئی کی جانی چاہیے اور ایسے مقدمات میں خاتون اہلکار کی موجودگی میں بیانات لیے جائے تاکہ مضروب بلاجھجک اپنا موقف اور بیان ریکارڈ کروائے۔

پولیس کو ہسپتال اور دیگر اداروں سے فوری ریکارڈ لینا چاہیے۔ پولیس، تفتیشی اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں میں بروقت معلومات کا تبادلہ ہونا چاہیے۔ تفتیش سائنسی بنیادوں پر جدید خطوط اور ٹیکنالوجی و ذرائع کا استعمال کرکے پولیس مجرم کو فوری گرفتار کرے۔ جرائم کا ریکارڈ مرتب ہو اور مجرموں کا ڈیٹا بینک پولیس کے پاس محفوظ ہے جو ہونے والے جرائم کی تفتیش میں پولیس کی مدد کرے۔ پکڑے جانے والے مجرموں سے تفتیش جلد مکمل ہو۔

اور پولیس مجرموں سے واردات میں استعمال ہونے والی چیزیں اور مسروقہ سامان جلد برآمد کروائے۔ مجرموں کو عدالتوں سے فوری سزائیں ہوں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اس لئے محکمہ پولیس، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام میں اصلاحات درکار ہے۔ ان اداروں کو درکار مالی وسائل اور افرادی قوت مہیا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ یہ ادارے اپنے اہلکاروں کی تربیت کرسکے اور اس سے ان کی استعداد کار اور صلاحیت میں بہتری آئے۔ دوران ٹرائل پولیس اور استغاثہ مجرموں کے خلاف ناقابل تردید شواہد پیش کرے جس سے مجرموں کو ٹرائل کورٹ سے قرار واقعی سزا ملے۔ عادی مجرم نظام انصاف کی خامیوں کی وجہ سے مقدمات سے بری ہو جاتے ہیں کیونکہ گواہ اپنے بیان سے مکر جاتے ہیں۔

پولیس کو گواہان کو تحفظ دینا چاہیے تاکہ گواہ بلا خوف اپنا بیان پولیس اور عدالت میں ریکارڈ کروائے۔ قوانین کا اطلاق ہو اور بدلتے وقت کے ساتھ قوانین میں ترامیم ہو تاکہ فوری سزاؤں پر عمل درآمد ہو اور عدالتی کارروائی تیز تر ہو کہ جلد مقدمات نمٹائے جائے۔ عدالتی عمل میں تاخیر مجرم کو فائدہ دیتی ہے جس سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ معاشرے کے دیگر طبقات خصوصاً نمبردار کونسلر چوکیدار اور اثر رسوخ رکھنے والے افراد کو عادی مجرموں پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور مخبری کرکے مجرموں کو گرفتار کروانا چاہیے۔

اس طرح کے اقدامات سے جرائم کا خاتمہ تو شاید نہ ہو مگر یہ ضرور ہے کہ جرائم میں کافی کمی آئے گی اور شہری اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں گے۔ یہ سب اقدامات حکومتی اداروں کی شراکت اور تعاون سے ممکن ہوسکتے ہیں عوام کی جان مال املاک کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ تبھی ہو سکتا ہے کہ جب پولیس بغیر سیاسی دباؤ کے کام کرے۔ تاکہ موٹر وے ریپ جیسے سنگین واقعات دوبارہ نہ ہو۔

ریپ اور دیگر سنگین جرائم کی روک تھام پولیس کے روایتی طور طریقوں سے ممکن نہیں۔ ریپ، بچوں سے زیادتی، رہزنی، ڈکیتی، اغواء اور قتل جیسے مقدمات کی تفتیش ماہر اور تجربہ کار تفتیشی اہلکاروں کے سپرد کی جانی چاہیے جن کو دیگر حکومتی اداروں سے معلومات اور حقائق فوری ملنے چاہیے پولیس اور دیگر تفتیشی اداروں کا کردار عوام کے محافظوں جیسا ہونا چاہیے اور مضروب/متاثرہ فریق کی فوری مدد اور رہنمائی پولیس کا اولین فرض ہونا چاہیے۔

جرائم کی رپورٹ کا فوری اور درست اندراج کیا جانا ضروری ہے اور ایسے پولیس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی ہو جو رپورٹ درج کرنے میں سستی یا تاخیر کرے۔ جرم کی اطلاع ملتے ہی پولیس اہلکاروں کو موقع واردات پر فوری پہنچنا چاہیے مضروب کا ابتدائی بیان اور واقعاتی شہادتوں کو اکٹھا کرنا پولیس اہلکار کی ذمہ داری ہے اور اگر جرم سنگین ہے تو فرانزک ایجینسی کو موقع واردات سے شہادتیں اور نمونے سائنسی طریقے سے محفوظ کیا جانا ضروری ہے۔ متاثرہ فریق مضروب کی ذہنی حالت اگر موقع واردات پر بیان دینے کے قابل نہ ہو تو پولیس اہلکاروں کا رویہ ہمدردانہ ہونا چاہیے۔ زناء، اغواء اور زیادتی سے متاثر فریق کی کونسلنگ ہونی چاہیے اور ایسے مقدمات میں خاتون اہلکار کی موجودگی میں بیانات لیے جائے تاکہ مضروب بلاجھجک اپنا موقف اور بیان ریکارڈ کروائے۔

پولیس کو ہسپتال اور دیگر اداروں سے فوری ریکارڈ لینا چاہیے۔ پولیس، تفتیشی اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں میں معلومات کا تبادلہ ہونا چاہیے۔ تفتیش سائنسی بنیادوں پر جدید ذرائع اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے پولیس مجرم کو فوری گرفتار کرے۔ جرائم کا ریکارڈ مرتب ہو اور مجرموں کا ڈیٹا بینک پولیس کے پاس محفوظ ہے جو ہونے والے جرائم میں پولیس کی مدد کرے۔ پکڑے جانے والے مجرموں سے تفتیش جلد مکمل ہواور پولیس مجرموں سے واردات میں استعمال ہونے والی چیزوں اور مسروقہ سامان برآمد کروائے۔

مجرموں کو عدالتوں سے فوری سزائیں ہوں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اس لئے محکمہ پولیس، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام میں اصلاحات درکار ہے۔ ان اداروں کو درکار مالی وسائل مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ اپنے اہلکاروں کی تعداد اضافہ کرسکے اور اس سے ان کی استعداد اور صلاحیت میں بہتری آئے۔ اور دوران ٹرائل پولیس اور استغاثہ مجرموں کے خلاف ناقابل تردید شواہد پیش کرے جس سے مجرموں کو ٹرائل کورٹ سے قرار واقعی سزا ملے۔ عادی مجرم نظام انصاف کی خامیوں کی وجہ سے مقدمات سے بری ہو جاتے ہیں کیونکہ گواہ اپنے بیان سے مکر جاتے ہیں۔

پولیس کو گواہان کو تحفظ دینا چاہیے تاکہ گواہ بلا خوف اپنا بیان پولیس اور عدالت میں ریکارڈ کروائے۔ سزاؤں پر عمل درآمد ہونا چاہیے اور عدالتی کارروائی تیز تر ہو کہ جلد مقدمات نمٹائے جائے۔ عدالتی عمل میں تاخیر مجرم کو فائدہ دیتی ہے جس سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ معاشرے کے دیگر طبقات خصوصاً نمبردار کونسلر چوکیدار اور اثر رسوخ رکھنے والے افراد کو عادی مجرموں پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور مخبری کرکے مجرموں کو گرفتار کروانا چاہیے۔

اس طرح کے اقدامات سے جرائم کا خاتمہ تو شاید نہ ہو مگر یہ ضرور ہے کہ جرائم میں کافی کمی آئے گی اور شہری اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں گے۔ یہ سب اقدامات حکومتی اداروں کی شراکت اور تعاون سے ممکن ہوسکتے ہیں عوام کی جان مال املاک کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ تبھی ہو سکتا ہے کہ جب پولیس بغیر سیاسی دباؤ کے کام کرے۔ تاکہ موٹر وے ریپ جیسے سنگین واقعات دوبارہ نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شکیل احمد بٹ کی دیگر تحریریں