حکومت اور حکومت گر دونوں ابہام دور کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات تو درست ہی ہے کہ خاتون رات کے اوقات میں بغیر کسی محرم کے نکلی ہی کیوں تھی۔ پھر یہ کہ اگر سفر ہی کرنا تھا تو بجائے جی ٹی روڈ سفر اختیار کرنے کے موٹروے کو کیوں منتخب کیا مگر ان سب سے پہلے اس بد قسمت خاتون سے یہ پوچھا جائے کہ وہ فرانس جیسے غیر اسلامی ملک سے ایک اسلامی ملک میں تشریف ہی کیوں لائی تھیں۔ نہ وہ پاکستان آتیں، نہ ان کو تنہا گاڑی ڈرئیو کر کے ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی ان کے ساتھ ایک اسلامی ملک میں درندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔

سی سی پی او کی ہر بات میں بڑا وزن ہے لیکن سب سے زیادہ وزن اس بات میں ہے کہ خاتون بغیر کسی محرم گھر سے نکلی ہی کیوں تھیں۔ آپس کی بات ہے۔ کیا سی سی پی او کے گھر کوئی بھی خاتون نہیں۔ کیا ان کی خاتون خانہ عید بقرعید یا کسی کے گھر میں شادی بیاہ کی ضروری خریداری پر کبھی ”صاحب“ کے بغیر نہیں گئیں۔ کیا ان کی یا ان کے اپنے بھائی بندوں کی بہو بیٹیاں نہیں۔ کیا وہ سب پرائمری اسکول سے لے کر کالج تا یونیورسٹی ہمیشہ اپنے محروموں کے ساتھ ہی گئیں۔

اگر صاحب نے بہت ہی تیر مارلیا ہوگا تو سرکاری گاڑی مختص کردی ہوگی یا پھر ذاتی گاڑی یا پھر اسکول اور کالج وین میں آنے جانے کا انتظام کیا ہوگا۔ سرکاری گاڑی، ذاتی کار یا اسکول کالج وین بچیوں کے چاچا ماما تو بحر حال نہیں چلاتے ہوں گے ۔ آخر کب ایسا نہیں ہوا ہوگا کہ ان کی خواتین، بہن بیٹیاں، نواسیاں، پوتیاں، بھانجیاں یا بھتیجیاں، دن اور رات کے اوقات میں بنا محرم گھر سے باہر نہیں نکلی ہوں گی ۔ کیا انھیں خبر نہیں کہ ان کے اور پاکستان کے لاکھوں گھروں میں کام کرنے والیاں رات اور دن کے اوقات میں گھر سے باہر نکل کر رزق حلال کمانے پر مجبور ہیں۔

وہ صرف گھروں سے باہر ہی نہیں بلکہ غیروں اور انجانوں کے گھروں میں کئی کئی گھنٹے کام کرتی ہیں اور بعض تو ان میں سے وہ بھی ہیں جو رات دن غیروں کے گھروں میں ہی موجود رہتی ہیں۔ سی سی پی او صاحب سے بصد احترام فقط اتنا پوچھنا ہے کہ کیا ایسی تمام خواتین، نو عمر بچیوں اور جوان العمر خواتین کے ساتھ برا کیا جانا صرف اس لئے جائز ہوگا کہ وہ بغیر محرم گھروں سے باہر کیوں نکلیں؟ کیا آپ ہر اس قسم کے واقعے کے بعد یہی کہتے نظر آئیں گے کہ ان کو غیروں کے گھروں میں داخل ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ ان کے اپنے محکمے کی ساری خواتین اہلکار آپ ہی جیسی سوچ کی حامل ہیں اور نعوذ باللہ وہ سب کی سب محکمے کے لئے حلال کردی گئی ہیں۔ میرا یہ آخری جملہ بے شک نامناسب سا ضرور ہے لیکن اس سے کم زہر بھرا ہے جو آپ نے ایک مظلوم ترین خاتون کے لئے ادا کیا ہے۔

آپ کا فرمان سر آنکھوں پر لیکن اگر کسی خاتون کو کسی بھی وجہ ایسا کرنا پڑجائے، وہ نکلے تو دن ہی کے اوقات میں مگر راستہ بھٹک جائے تو کیا ”اسلامی“ جمہوریہ پاکستان میں اس کے ساتھ درندگی جائز سمجھ لی جائے۔ عوام کی کمائی کے ٹیکسوں سے آپ اور آپ کے محکمے والوں کو تنخواہیں کیا یہی سب طعن و طنز سننے کے لئے دی جاتیں ہیں۔

واقعی ایک عورت کو، دن ہو یا رات، بنا محرم نہیں نکلنا چاہیے لیکن کیا پاکستان میں ایسا کچھ رات کے وقت تنہا نکلنے والی خواتین اور بچیوں کے ساتھ ہی کیا جاتا ہے۔ سیکڑوں ایسے واقعات ہیں جو گھروں میں گھس کر کیے جاتے رہے ہیں۔ نہ جانے کتنی جون العمر خواتین کو اسی طرح رسوا کیا گیا ہے، کتنی بچیوں کی بے حرمتی کے بعد ان کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اسی پاکستان میں 64 سالہ خاتون تک کو گھر میں گھس کر اجتمائی زیادتی کا نشانہ بنایا جانے جیسا سنگین واقعہ اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کا وہ محکمہ جو عوام ہی کے ٹیکسوں پر پالا جا رہا ہے اور جس کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ وہ عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے، وہ ایسا سب کچھ کرنے میں نہ صرف سخت ناکام ہو چکا ہے بلکہ اتنا پتھر دل ہے کہ سنگین سے سنگین درندگی کے بعد بھی نہ تو اس کا دل روتا ہے نہ اس کے بشرے پر شرمندگی کے پسینے کی دو بوندیں نمودار ہوتی ہیں۔

مجھے اس مذہبی بحث سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ایک عورت کے لئے محرم کے بغیر نکلنے یا نکلنے کے پس پردہ کہاں تک پابندیاں ہیں لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ عورت کو عذر کے ساتھ باہر جانے یہاں تک کہ رزق حلال حاصل کرنے کی اسلام مکمل آزادی دیتا ہے۔ حد یہ کہ عدت میں بیٹھی خاتون بھی عذر شریعہ کے ساتھ گھر سے باہر جا سکتی ہے۔ میرے ناقص علم میں یہ بھی کہ اسلامی مملکت میں ایک جوان، تنہا عورت رات کی تاریکی میں سونا اچھالتے ہوئے بھی سفر کرے تو کوئی اس کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا چہ جائے کہ اس کی عزت اس کے بچوں کو سامنے تار تار کرکے رکھ دی جائے۔

سی سی پی او کا علم یا تو محدود ہے یا پھر خود ان کا کردار اس واقعے میں مشکوک ہے، اس بات کا واضح ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ رپورٹ کے مطابق خاتون نے پولیس کو ہی فون کیا تھا تو کسی درندے کو خاتون کے تنہا ہونے کی خبر کیسے ہوئی، یہ سوال کوئی معمولی نہیں بلکہ ہزاروں سوالوں کو اس لئے بھی پیدا کرتا نظر آ رہا ہے کہ اکابرین حکومت سی سی پی او کا ڈٹ کر تحفظ کرتے نظر آ رہے۔ یہ بات حکومت اور حکومت گروں، دونوں کے لئے کوئی اچھا گمان نہیں لہٰذا اس ابہام کو جتنی جلد ہو سکے دور ہوجانا ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •