کیا حیض کے دوران نہانا نقصان دہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حیض جسے پیریڈ یا ماہواری بھی کہتے ہیں، سے متعلق خواتین غلط فہمی کا شکار ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ دوران حیض نہانا نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ یہ مفروضہ محض ایک myth ہے۔

خواتین کا خیال ہے کہ پانی خون کے اخراج کو روک دیتا ہے یا گرم پانی خون کے بہاؤ کو بڑھا دیتا ہے، لہذا دوران حیض نہانا صحت بخش نہیں ہے۔ جبکہ تحقیق سے ثابت ہے کہ حیض کے دوران نہانا صحت بخش عمل ہے :

1۔ نیم گرم پانی سے نہایا جائے تو اس سے خون کے بہاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جس کا فائدہ یہ ہے کہ اعصابی کھچاؤ اور دوران حیض پٹھوں میں نمودار ہونے والے کھچاؤ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ گرم پانی بچہ دانی کے پٹھوں کو آرام دیتا ہے جس کے باعث خون کے بہاؤ میں اضافہ ہوتا ہے، یوں درد میں کمی واقع ہوتی ہے۔

2۔ پانی خون کے اخراج کو نہیں روکتا۔ تاہم پانی کے دباؤ کے باعث عارضی طور پر خون کے اخراج میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

3۔ حیض کے دوران بال دھونا قطعاً نقصان دہ نہیں ہے ؛ بلکہ بال دھونے اور نہانے سے موڈ اچھا ہو جاتا ہے اور چڑچڑے پن سے نجات ملتی ہے۔ یوں حیض کی علامات سے نمٹنے میں آسانی ہوتی ہے۔

4۔ پیڈز اتارنے کے بعد ہزاروں جراثیم انسانی جسم سے چپک جاتے ہیں۔ یہ جراثیم بچہ دانی کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔ لہذا ان سے نجات کے لیے نہانا بہت ضروری ہے۔ غسل نہ کرنے کی صورت میں انفیکشن کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

5۔ پچھلے سال میڈیکل نیوز ٹو ڈے کی رپورٹ کردہ تحقیق کے مطابق نہانے سے بچہ دانی کی سوجن میں کمی آتی ہے جبکہ خون میں گلوکوز کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔

خواتین حیض کے دوران بے خوف ہو کر نہائیں۔ دوران حیض نہانا نقصان دہ نہیں ہے۔ در حقیقت نیم گرم پانی سے غسل کرنے کے بے تحاشا فوائد ہیں۔

مزید براں دوران حیض درج ذیل اقدامات مفید ثابت ہو سکتے ہیں :
1۔ ورزش کرنا جیسے واک یا یوگا۔
2۔ پیٹ کا مساج کرنا۔
3۔ کمر اور پیٹ کے نچلے حصے پر گرم پانی کی بوتل لگانا۔

4۔ کیفین، کاربونیٹڈ مشروبات اور میٹھی اشیا کے استعمال میں کمی کرنا۔ یہ اشیا دوران حیض اکڑن، سوجن اور درد کا باعث ہوتی ہیں۔

5۔ ہربل چائے کا استعمال کرنا
6۔ اپنے ڈاکٹر سے رجوع کر کے ان کی دی گئی ہدایات پر عمل کرنا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •