اپنے بابے کی خیر منائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترکاری کی دکان پر ایک بزرگ گئے، دکاندار سبزیوں پر پانی کا چھڑکاؤ کر رہا تھا، وہ دیکھتے رہے، جب دکاندار فارغ ہوگیا بولا، بزرگو کون سی سبزی دوں، انہوں نے جواب دیا جسے ہوش آ گیا ہو،

حالات کے تھپیڑے پڑنے، کئی بار ٹھوکریں کھانے، بحرانوں کے منجدھاروں میں غوطہ زن ہونے کے باوجود ہم لوگوں کے ہوش ٹھکانے نہیں لگے، شاید اب بھی کسی چھڑکاؤ کے منتظر ہیں، اس کے بعد ہی ہمیں حقیقی معنوں میں ہوش آئے گا۔

سیاست کی کتاب کے صفحے مسخ کردیئے گئے، تحریریں دھندلی پڑتی جارہی ہیں، ہر نیا آنے والا اسے کھول کر سبق سیکھنے کے بجائے اردگرد کے حالات کو استاد بنا رہا ہے۔ کسی نہ کسی کو اپنا ”بابا“ بنایا ہے، جس کی تقلید ہی اس کا نظریہ ہے، ایک سوچ قائم کرلی جاتی ہے، اس کا ساتھ دینا ہے، اس کی مخالفت کرنا ہے، زیادہ مضبوط بنیادوں پر اختلاف کی دیوار نہیں کھڑی ہوتی۔ بس دھڑے بندی، تعلق اور کبھی کبھار ہم خیال، یا یوں کہہ لیں کہ، ہم مزاج ہونا معیار قرار پاتا ہے۔

عدم برداشت سماج میں سیاست کی وجہ سے آیا، دوسرے کی رائے سننا تک گوارا نہیں کیا جاتا۔ اپنی بات اور موقف کو مقدم رکھنا، دوسرے الفاظ میں اپنی سوچ کو منوانا ذاتی تسکین کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ہر وقت دوسرے کی غلطی تلاش کرکے اسے نیچا دکھانے کی ایک دوڑ لگی ہے، کسی کی اصلاح کر کے اس کی مدد کرنا آسانی پیدا کرنا شاید مزاج سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ سیاست مجموعی فلاح کا راستہ دکھانے، جبر ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتی تھی، مگر اب میرا لیڈر ہیرو اس کا لیڈر ولن بن جاتا ہے، مخالف سوچ یا سیاست دان کسی صورت قبول نہیں، جمہوری روایت کیا ہوتی ہے، اس کے تقاضے کیا ہیں، نہ کسی نے زیادہ جاننے کی پروا کی اور نہ سمجھ آئی۔

مذہب کی طرح جیسے سیاست میں بھی مسلک بن گئے ہیں، اپنے گروہ اور بابے کو اوپر رکھنے کی دوڑ لگی ہے، لیڈر بھی پیر بن گئے ہیں۔ ان کی تقلید جیسے عقیدت کا رتبہ اختیار کرگئی ہے، کسی غلط بات کی نشاندہی کرنے پر پیروکار شدید ردعمل دکھاتا اور غصے کا بھرپور مظاہرہ کردیتا ہے۔ جمہوریت کیسی، عدم برداشت کا کھلم کھلا اظہار، دوسرے کو شدت پسند، انتہا پسند کہنے والا بہت کم تحمل مزاجی دکھا پاتا ہے۔

سماج ایک بے ترتیبی اور سوچ کے انتشار کا شکار ہوچکا ہے، جنہیں باشعور طبقات میں شمار کیا جاتا رہا انہیں بھی سوشل میڈیا پر اصلاح پسندی ترک کرکے گالم گلوچ تک اترتے دیکھ رہے ہیں، بات ریاستی اداروں کی ہو، حکومت یا پھر سیاسی مخالفین کی، خوب لتے لئے جاتے ہیں، تنقید بہت ضروری ہے، اس کے بغیر اصلاح ہو بھی نہیں پاتی، لیکن کیا ہمارا مزاج ہے کہ تنقید کو تعمیر کے لئے استعمال کریں۔ سوچ کی وسعت، کھلاپن، رائے کو سنجیدگی سے لینا، نہ جانے کیوں اب کتابی باتیں یا ماضی کے قصے لگتے ہیں۔

ہم کسی مسئلے میں اپنی سوچ اپنا موقف یا کہہ لیں اپنا بابا تلاش کرنے لگتے ہیں، اسی کی نسبت اپنی رائے دینے لگتے ہیں، کسی بھی معاملے میں دیکھتے ہیں میرا بابا کہاں ہے، یعنی میں نے کس کی مٹی پلید کرنی ہے، کسے ہدف تنقید بنانا ہے، بس پھر اپنی توپوں کا رخ بھی متعین کرلیتے ہیں۔ ظاہری طور پر کوشش کسی کی اصلاح کرنا ہی ہوتی ہے، لیکن ذاتی تسکین کا پہلو زیادہ ہوتا ہے۔ ہم خود کتنے اشاروں کی پابندی کرتے ہیں، دوسروں کی اوورسپیڈنگ کا گلہ اور قانون سے ناواقفیت کی شکایت ہمارے لبوں پر رہتی ہے۔

کبھی کبھی لگتا ہے یہ سماج ناصحین سے بھرا پڑا ہے، جیسے ہر کسی کا خط درست ہے، اور دوسرے کی قطار ٹھیک کرانے کے درپے ہے۔ سوشل میڈیا ہی ہمارے جھوٹ اور سچ کا پیمانہ بنا ہوا ہے، ہر اچھی بات کی تائید میں آنے والا ردعمل اس کی مقبولیت کا واحد ثبوت ہوتا ہے۔ وہی ٹاپ ٹرینڈ بن جاتا ہے۔ کیا کریں ہمیں اپنے بابے بہت عزیز ہیں، درحقیقت یہی ہماری سوچ اور نظریے کا محور ہے۔ اسے ترک کرنا، اس پر کوئی صحت مند مکالمہ کرنا ایسا کم ہی ہوپاتا ہے، ہمارا مزاج بات چیت والا نہیں رہا، دوسرے کو سننا اس کی رائے کا احترام کرنا، کچھ مشکل سا معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ ہاں اور ناں کے درمیان کوئی تیسرا راستہ نہیں۔

ریاستی اداروں کے بڑے بھی میڈیا میں آکر اچھی اچھی باتیں کرجاتے ہیں، ایک دوسرے کو دو ٹوک ہوش کے ناخن لینے کا کہہ دیتے ہیں، لیکن جس قوم کے ہوش ہی من مانے فیصلوں نے ٹھکانے لگادیئے ہیں، وہ کیا ذہنی طور پر سنبھلے گی۔ ہر کوئی اپنے بابے کو درست ثابت کرنے میں لگا ہے۔ نہ جانے درست فیصلے کرنے کی ہمت کیسے آئے گی، لوگوں کا فائدہ کیا ہے، یہ انہیں بتانے اور اس کی راہ دکھانے میں کتنا وقت لگے گا۔ بقائے باہمی کی بات کیوں نہیں ممکن۔ بھٹکنے کے بجائے راستے کا تعین مل کر کیوں نہیں کرلیتے۔ زندگی سب کے ساتھ گزارنا ہے پھر ہمراہیوں سے کیوں بگاڑنے میں لگے ہیں۔ کیا اس سفر میں رکاوٹیں ڈال کر منزل ڈھونڈنے میں وقت ضائع کرتے رہیں گے۔

قیادت ہمارے پاس رہے، ہم ہی پاسبان ہیں، ایسی سوچ کبھی کبھار نقصان دہ ہوتی ہے، اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرکے فیصلے کرنے میں زیادہ مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ یہ کسی کے فائدے میں نہیں۔ راستہ دینے سے کسی کے لئے جگہ بنے گی، پھر کوئی بات بھی مانے گا اور فیصلہ بھی تسلیم کرے گا، وگرنہ ہر کسی کو اپنے بابے کی خیر منانا ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں سنیئر پروڈیوسر نیوز کے عہدے پر پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

nauman-yawar has 72 posts and counting.See all posts by nauman-yawar