گناہ گار عورتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں صحن سے گزر رہی تھی تو میرے پھپھی زاد بھائی نے میری کلائی پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیا اور گدگدی کرنے لگے، مجھے بہت ہنسی آئی، اگلے دن وہ مجھے چپس دلانے کے لئے محلے کی دکان پر لے گئے اور واپسی پہ ایک ویران احاطے میں لے گئے، مجھے کچھ سمجھ نہ آئی لیکن کچھ ایسا عجیب محسوس ہوا کہ درد کی شدت سے میرے اندر جیسے تیزدھار آلے سے اعضاء کٹ رہے ہوں، چیخ کر امی کو پکارا تو بھائی جان نے اتنی زور سے گلا دبایا کہ آنکھوں کے آگے اندھیرا آ گیا، پانچ دن بعد میری لاش گندے نالے سے ملی۔ سب میرا قصور تھا، میری آنکھوں میں لگا سرمہ، چوڑیوں کی چھن چھن، بھرا بھرا جسم اور کھلکھلاتی ہنسی کسی بھی شریف النفس مرد کی فطری جنسی خواہش کو ہوا دینے کے لئے کافی تھی۔ اگر مجھ میں یہ سب دعوت گناہ کے عناصر نہ ہوتے تو آج میری چوتھی سالگرہ ہوتی اور بھائی جان بھی گناہ کرنے پر مجبور نہ ہوتے۔

پھر میں ایک چھوٹے سے قصبے کے غریب گھرانے میں رہتی تھی، ابو اپاہج تھے اور میں امی کے ساتھ لوگوں کے گھروں میں کام کاج اور مزدوری کرتی، میری عمر شاید سولہ برس ہوگی جب ایک دن پڑوسی کے لڑکے نے گلی میں اکیلے آتے میرا ہاتھ پکڑا، میں نے گھبرا کر چیخ ماری تو وہ زور سے ہنسا اور وہاں سے بھاگ گیا، میں نے ڈر اور شرم کے مارے کسی کو کچھ نہ بتایا، کچھ دن بعد جب امی بیمار تھیں اور میں اکیلے کام سے واپس آ رہی تھی تو دو لڑکوں نے میرے مں ہ پر رومال رکھ کر بے ہوش کر دیا، جب ہوش آیا تو خود کو برہنہ ایک کمرے کے فرش پر پایا، جسم دکھ رہا تھا اور ٹانگوں پر خون جما تھا۔

تھوڑی دیر میں وہی پڑوسی کا لڑکا اور اس کا دوست اندر آئے اور مل کر مجھ سے زبردستی کرتے رہے، مں ہ اور جسم پڑ تھپڑ اور مکے بھی برساتے رہے میں پھر درد کے مارے بے ہوش ہو گئی اور اگلے روز میری لاش نہر سے ملی۔ کچھ دن پہلے میری بڑی بہن نے بھی زہر کھا لیا تھا اور اب مجھے اس کی وجہ بھی سمجھ میں آ گئی تھی۔ ہم بہنوں کا ہی قصور تھا جو جوان ہو گئیں، غریب تھیں، ڈرپوک تھیں، دوپٹہ صرف سر پہ ہی لیتی تھیں برقعے سے مں ہ جونہیں ڈھانپتی تھیں۔ آخر ہمارے معاشرے کے حاکموں ہمارے مردوں کو ہمارے وجود نے بہکا دیا اور ان پارساؤں کو ہم نے گناہ کی طرف دھکیل دیا اور ہم ان کی آخرت کی خرابی کی ذمہ دار بنیں، اچھا ہوا جو مار دی گئیں ورنہ کل کو کسی اور مرد کا ایمان خراب کرتیں۔

پھر جب میں شادی کے بعد اس نئے محلے میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگی جس کی گلی میں چند حلالی نوجوان اپنا وقت گزارا کرتے۔ میں برقعے میں ملبوس اپنے محرم اپنے شوہر کے ساتھ وہاں سے گزرتے ان کی چیرتی ہوئی نظروں کا سامنا کرتی۔ اکیلی ہوتی تو سیٹیاں اور جملے سننا پڑتے، دوپہر میں گھر پہ اکیلی ہوتی کوئی دستک دے کر بھاگ جاتا۔ ایک روز جب میرے شوہر اپنے والدین کو ملنے شہر سے باہر گئے اور میں اکیلی تھی تو کچھ لوگ چھت پھلانگ اندر داخل ہوئے کمرے کی کنڈی توڑی اور اندر آگئے، اگر اپنے بیڈ روم میں اس دن میں شاید بے پردہ نہ ہوتی تو عزت بچ جاتی، انہوں نے مں ہ میں کپڑا ٹھونس اور ہاتھ باندھ کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور یوں میرے گناہ کی سزا مجھے دیتے رہے۔

واقعے کے بعد شوہر نے بھی اپنی غیرت اور اخلاقی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا، والدین کے گھر آبیٹھی تو ٓاشناؤں کے ساتھ رنگ رلیاں منانے کی باتوں اور شک بھری نظروں سے تنگ آکر حرام موت کو گلے لگا لیا اور خود کشی کر کے والدین کی عزت رکھ لی، اب باقی سزا روزحشر دوزخ میں بھگتوں گی۔ غالباً برقعہ پہنے گلی میں چلتے وقت اپنے قدم آہستگی سے زمین پہ رکھتی تو گناہ گار نہ ہوتی اور نہ ہی قدموں سے پیدا ہونے والی موسیقی کے دم سے راست باز مردوں کی جنسی خواہشات بھڑکتیں، اب مرد بیچارہ کیا کرے اپنی نگاہ کی حفاظت کربھی لے تو کان تو نہیں بند کیے جا سکتے نا، اپنی فطری جذبے سے مغلوب ہونے کے سوا اس کے پاس کیا چارہ رہ جائے گا۔

پھر میں ایک ماڈرن، امیر اور تعلیم یافتہ لڑکی تھی جو آرٹس کالج میں ڈرامہ اور مصوری کی تعلیم حاصل کر رہی تھی، لڑکوں کو جوتی کی نوک پہ رکھتی تھی۔ لیکن کیا کیاجائے وہی ازلی گناہ گار عورت جو ٹھہری جس نے قصوں کے مطابق آدم کو بھی جنت سے نکلوا کر دم لیا تھا۔ میرا تلخ مزاج، نیل پالش، اونچی ایڑی کی جوتی اور میرا سارا وجود ہی میرے گناہ تھے جس کی سزا دینا معاشرے کے عزت دار مردوں پہ فرض تھا سو دی گئی۔ مجھے اغوا کرنے کے بعد امیر زادوں نے اجتماعی زیادتی کی اور چھریوں کے وار سے قتل کر دیا اور لاش گناہ کی پوٹلی کی مانند سڑک کے کنارے پھینک دی۔ یوں فرزندآدم نے اپنا فرض ادا کیا اور مجھے میری آزاد خیالی اور نسوانی اعضاء کی حامل ہونے کے گناہ کی پوری پوری سزا دے دی گئی۔ اگر میں ان باحیا مردوں کا دھیان ان کی عبادات اور تعمیری سرگرمیوں سے ہٹا کر اپنی طرف مائل نہ کرتی تو انہیں زنا با الجبر اور قتل جیسے قبیح افعال پر مجبور نہ ہونا پڑتا۔

اسی طرح میں لاکھوں پتی امیر اور تین کمسن بچوں کی ماں بھی تھی جس کو اس کے گھر سے نکلنے کی سزا دی گئی، میں ایک بڑے بنگلے میں رہنے والی ستر سالہ بوڑھی بھی تھی، میں ان پڑھ خادمہ بھی تھی اور پڑھی لکھی مالکن بھی، میں صوم و صلوٰة کی پابند پردہ دار اور چار دیواری میں بند پارسہ بھی تھی اور الٹرا ماڈرن ورکنگ لیڈی بھی، میں کنواری بھی شادی شدہ بھی، بیوہ بھی اور طلاق یافتہ بھی، تین سالہ کم سن بھی اور ساٹھ سالہ سن رسیدہ بھی۔ ہر روپ میں ہر رنگ میں میں جنسی زیادتی کی ترغیب ہی دیتی رہی۔ میں نے جنم لیا گناہ کیا، مر کر گناہ کیا جی کر گناہ کیا۔ میرے وجود نے مرد کو زناکار بنا دیا۔

میری صنف ہی میرا گناہ ہے چاہے اکیلی ہوں یا محرم کے ساتھ ہر حال میں پرہیز گار بھلے مانس مردوں کو صراط مستقیم سے گمراہ کرتی چلی جاتی ہوں۔ میں نہ ہوں تو مردوں کی یہ دنیا جنت کا گہوارہ ہو۔ مجھے کسی احتجاج کا کیا حق، جب گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو نتائج تو بھگتنا ہوں گے اور نیک چلن مردوں کو بہکانے پر ان کے حصے کی دوزخ کی بھی ہم ہی حقدار ہوں گی۔

گنہگاروں میں شامل ہیں گناہوں سے نہیں واقف
سزا کو جانتے ہیں ہم خدا جانے خطا کیا ہے

Latest posts by ڈاکٹر کامران عبداللہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •