سانحہ موٹروے اور ہمارا نظام انصاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظاہراً انسان اشرف المخلوقات ہے۔ بڑا معتبر اور باصفا ہے۔ کائنات کے سارے رنگ اسی کے دم سے آباد ہیں۔ مگر جب یہ انسان درندگی پر اتر آئے تو پھر ایسی ایسی داستانیں جنم پذیر ہوتی ہیں کہ لکھتے ہوئے قلم اور ہاتھ کانپ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک بڑا گھناؤنا اور دلوں اور روحوں کو گھائل کرنے والا انسانی المیہ دو تین روز قبل رات کی تاریکی میں ایک نوجوان عورت جو کہ دیار غیر سے اپنی پاک سرزمین پر اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر آئی تھی۔ انہی معصوم اور بے بس بچوں کے سامنے جو حرکت کی گئی نہ تصور کی جا سکتی ہے نہ لکھی جا سکتی ہے۔ اس پر انسانیت شرمندہ ہے۔ بطور پاکستانی ہمارے کھاتے میں تو پہلے ہی کچھ زیادہ نیک نامی نہ تھی کہ میڈیا کی ترقی کے اس گلوبل ویلیج کے تصوراتی دور میں ایک اندوہناک اور شرمناک سانحہ کس قدر بھیانک نتائج اور پاکستانی معاشرہ کی اخلاقی طور پر دگرگوں صورتحال کی غمازی اور تصویر کشی کرتے ہوئے ہمارے تمام معاشرتی تضادات کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک ڈراؤنے خواب کے اثرات چھوڑ گیا ہے۔

یہ بحث بالکل لاحاصل ہے کہ رات کے اس حصہ میں ایک ویران اور بغیر سکیورٹی کے سڑک پر ایک تنہا عورت کو اپنے معصوم بچوں کے ساتھ سفر کرنا چاہیے تھا یا نہیں۔ اس سڑک پر سکیورٹی فراہم کرنا کس کی ذمہ داری تھی۔ چھ ماہ سے مکمل شدہ اس سیالکوٹ موٹروے پر ابھی تک موٹروے پولیس کیوں تعینات نہ ہوئی۔ کون سی فائل کس دفتر میں رکی اور اس کے ذمہ دار کون کون لوگ ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ رات کے تقریباً بارہ بجے جب وہ مظلوم عورت موٹروے پولیس سے اور پھر ان کے بتائے دیگر نمبر پر مقامی پولیس سے گاڑی میں پٹرول ختم ہونے کی اطلاع کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ وہ اس ویران سڑک پر اپنے معصوم بچوں کے ساتھ تنہا بے یارو مددگار کھڑی ہے۔ تو رات دو بج کر پچاس منٹ کے قریب ڈولفن پولیس کے کچھ جوان جنگل میں اسے تلاش کرنے نکلتے ہیں۔ بقیہ سب کچھ میڈیا پر آ چکا ہے۔ دہرانے کی ضرورت نہ ہے۔ جس المیے کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں وہ قابل غور ہے کہ لاہور جیسے صوبائی دارالحکومت میں شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک بے بس عورت ہر قسم کی پولیس سے مدد طلب کرتی ہے۔ ایک راہ گیر رات دو بجے 15 ایمرجنسی نمبر پر عورت کی لوکیشن اور اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی اطلاع دیتا ہے۔ اور وہ راہ گیر یہ اطلاع دیتے دیتے اور جوابی سوالات سے پولیس حکام کو مطمئن کرتے کرتے موٹروے کا سفر مکمل کر کے اپنی منزل مقصود سیالکوٹ پہنچ جاتا ہے۔ مگر پولیس پورے پچاس منٹ بعد حرکت میں آتی ہے۔ یہ کس طرح کا ایمرجنسی پولیس نظام ہے۔ یہ اصل لمحہ فکریہ ہے۔

اپنے طویل عدالتی تجربہ کے تناظر میں پوری ذمہ داری سے یہ بات لکھ رہا ہوں کہ ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم مکمل طور پر گل سڑ چکا ہے۔ ہم ایک ناکام نظام کو دھکا لگا کر چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جس نظام انصاف میں ملزم قانون کی نظر میں
favourite child of law
ہو اور عدالتی نظام میں باضابطہ اسے قانون کا پسندیدہ بچہ نہ صرف سمجھا جائے بلکہ ہر معمولی سے شک کا فائدہ بھی ملزم کو ہی دے کر مقدمہ سے باعزت بری کر دیا جائے۔ جہاں کسی وقوعہ اور سانحہ کے بعد مدعی مقدمہ ظالم اور ملزم مظلوم نظر آئے۔ جہاں تفتیشی اداروں کی ساری خامیاں اور تکنیکی موشگافیوں کا فائدہ ملزم کو پہنچے۔ جہاں گواہان کو نہ تو کوئی تحفظ نہ ہی تھانہ کچہری میں کوئی عزت و توقیر تو پھر ایسے نظام انصاف میں معاشرے زندہ نہیں رہتے۔ اس طرح کے سانحے اکثر رونما ہوتے ہیں۔ وقتی طور پر معاشرہ اور سوسائٹی کو ایک دھچکا لگتا ہے اور پھر اگلے سانحہ تک ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں۔

اس سانحے کے تناظر میں اگر ہمارا فوجداری نظام ٹھیک ہو جائے یا اس میں کچھ بنیادی اصلاحات تجویز ہو کر رو بہ عمل آ جائیں تو حکومت وقت کا اس قوم پر ایک احسان عظیم ہو گا۔ کچھ تجاویز پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

1۔ ہمارا ضابطہ فوجداری (CrPC) تقریباً سوا سو سال پرانا ہو چکا ہے اور ہمارے موجودہ دور کے جرائم، طریقہ واردات، ڈیوائسز اور انسانی ذہن کی سائنسی میدان میں ترقی اور جرائم کے جدید طریقوں کا کوئی حل تجویز نہ کرتا ہے۔ مجبوراً ہمیں کئی نئے قوانین بنانے پڑ رہے ہیں۔ مگر جب تک ہم عدالتی طریقہ کار یا پروسیجر کو تبدیل نہیں کریں گے کسی خاطر خواہ کامیابی کی طرف گامزن نہ ہو سکیں گے۔

2۔ عدالتی نظام میں ملزم کو جس طرح قانون کا ایک پسندیدہ بچہ اور ہر قسم کے معمولی سے شک کا فائدہ دے کر باعزت بری کیا جاتا ہے اس روش اور رویہ کو ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ دنوں میں عدالت عظمٰی کے فاضل جج صاحبان نے ضمانت قبل از گرفتاری کا سکوپ جس طرح محدود کرنے کی بات کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔ اور اسی طرح کی قانونی اپروچ سے ہم آ گے بڑھ سکتے ہیں۔

3۔ ہماری پولیس کا تفتیش کا نظام بے شمار خامیوں اور نقائص سے بھرا نظر آتا ہے۔ ہماری ہر حکومت کی اور پولیس کے آئی جی کی ہمیشہ لا اینڈ آرڈر پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ تفتیش نہیں۔ یہ بات عام مشاہدہ کی ہے کہ اچھے اور الرٹ پولیس افسران آپریشن میں ایس ایچ او یا ایس پی اور مقابلتاً کم صلاحیتوں کے لوگ تفتیشی افسران لگائے جاتے ہیں۔ تفتیشی افسران کی کوئی خاطر خواہ ٹریننگ نہیں کی جاتی۔ انہیں فرانزک ایویڈنس محفوظ کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوئی خاص سوجھ بوجھ نہیں ہوتی۔ ایک واردات کے ملزم کو اگلی واردات تک کھلی چھوٹ ہوتی ہے۔ ساری تفتیش اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے ہوتی ہے۔ ملزم آئندہ کسی واردات میں یا کوئی نشان چھوڑ جاتا ہے یا پکڑا جاتا ہے۔ تو سابقہ جرم کی کڑیاں اس سے ملا دی جاتی ہیں۔ اسی طرح کا معاملہ اس سانحہ میں بھی مبینہ ملزمان تک پہنچنے کے بعد نظر آ رہا ہے۔ لہٰذا پولیس کے سارے تفتیشی نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اسے جدید طریقہ پر استوار کرنے کی اور حکومت کی ترجیح اول کے طور پر اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس اچھے پولیس افسران کی کمی نہ ہے۔ صرف ان کی سمت بدلنے کے ضرورت ہے۔ ہر قسم کے جدید ساز و سامان اور وسائل سے لیس ایک بہترین اور موثر تفتیشی شعبہ وقت کی ضرورت ہے۔ تفتیشی افسران کی مراعات میں خاطر خواہ اضافہ کی ضرورت بھی ہے۔ جو بہترین نتائج مرتب کر سکتا ہے۔

4۔ پاکستان کے ہر شہری کا ڈی این اے پروفائل اس کے شناختی کارڈ کے ساتھ منسلک ہو اور اس کا تمام ریکارڈ پولیس کے پاس دستیاب ہو تاکہ بوقت ضرورت ملزمان تک فوری رسائی ممکن ہو سکے۔

5۔ گواہان استغاثہ کو تحفظ، ان کی عزت، توقیر اور آبرو اور شہادت کا محفوظ کرنا، گواہان کے عدالت میں پیش ہونے کا موجودہ طریقہ کار سب کچھ بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب گواہ کو زندگی کا ہی تحفظ نہ ہو گا تو صاف اور سچی شہادت کا سارا تصور ہی گہنا جاتا ہے۔ لہٰذا گواہ کو کسی بھی محفوظ جگہ پر بٹھا کر بذریعہ سکائپ یا دیگر جدید سائنسی طریقہ سے بیان لکھا جا سکتا ہے۔ عدالت میں جرح کے دوران گواہ کا جو حشر کیا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہ ہے۔

6۔ عدالتی طریقہ کار کو مزید شفاف اور پر اثر بنانے کی ضرورت ہے۔ عدالتیں زندہ معاشرہ میں متحرک رول ادا کرتی ہیں۔ قانونی موشگافیوں کا سہارا لیتے ہوئے معاملات سے نپٹنا لوگوں میں بد دلی کا باعث بنتا ہے۔ ہر مقدمہ کا ایک ٹائم فریم ہونا ضروری ہے۔ اس کے اندر اس کا فیصلہ ہو۔ مدعی اور ملزم دونوں قانون کی نظر میں برابر ہوں۔ فیصلہ حقائق کی روشنی میں شہادتوں پر ہی کیا جائے۔ مگر معمولی سے تکنیکی اور قانونی سقم کا فائدہ ہمیشہ ملزمان کو نہ دیا جائے۔ جلد اور بر وقت فیصلے اس شکستہ دل معاشرہ کی تقویت کا باعث بن سکتے ہیں۔ اور عدلیہ کی نیک نامی میں اضافہ کا باعث بھی۔ ورنہ اس وقت صورتحال بڑی مخدوش ہے۔

7۔ نظام انصاف کی بروقت ترقی، ترویج، بہتر انصاف کے حصول کی کاوشوں میں بار ایسوسی ایشن کا بڑا اہم رول ہے۔ فیصلوں میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ وکلاء کو بھی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے وکلاء کی ایک بھاری اکثریت پروفیشنل لوگوں پر مشتمل ہے۔ بعض اوقات ان کی جائز مجبوریاں بھی آڑے آتی ہیں۔ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بار ایسوسی ایشن اس سلسلہ میں اپنی وکلاء برادری کو بھی گائیڈ لائن دے اور بار اس نظام انصاف کی بہتری کے لیے اپنا فعال رول ادا کر سکے۔

8۔ آخر میں حکومت وقت سے یہ استدعا کہ نظام انصاف کی بہتری، اس میں دور رس اور معنی خیز اصلاحات، مناسب قانون سازی، عدالتی پروسیجر میں تبدیلی، مراعات، بجٹ اور دیگر معاملات ترجیح اول کے طور پر لیے جاویں۔ اور نظام انصاف کی بہتری کے لیے عملی اقدامات فوری اٹھائے جائیں ورنہ معاشرہ میں انارکی اور بے دلی سارے حکومتی نظام کو شدید دھچکا لگا جائے گی اور معاملات شدید بگاڑ کی طرف گامزن ہو جائیں گے۔ اسی سانحہ موٹروے میں مظلوم عورت کی مکمل تسلی اور تشفی کے مطابق اصل ملزمان کی شناخت، جدید سائنسی خطوط پر تکمیل تفتیش کا مرحلہ اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے متحرک عدلیہ کا رول وقت کی ضرورت ہے اور عام آدمی کا نظام انصاف پر کچھ بھرم قائم رکھنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •