امریکی وزیر خارجہ اور ”دہشت گرد ملا برادر“ کی ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیکھنے کے لحاظ سے گزشتہ دس برس میرے لیے بہت اہم تھے۔ ہم صحافیوں کو مختلف پیمانوں، قوانین اور ضوابط کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا ہوتا ہے۔ جس طرح ماس میڈیا اور آج کل کا سوشل میڈیا آپ کی ذہن سازی کر رہا ہے، اسی طرح صحافیوں کی بھی ذہن سازی ہو رہی ہوتی ہے۔

گزشتہ دس برسوں کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ جنگوں کے آغاز کے لیے عوامی ذہن سازی بہت ضروری ہے اور اس کے لیے میڈیا بطور ہتھیار استعمال ہوتا ہے۔ صحافی چاہتے ہوئے، نا چاہتے ہوئے، نظریاتی طور پر یا کسی دباؤ کے ذریعے بطور آلہ کار استعمال ہوتے ہیں اور بعض اوقات انہیں پتا تک نہیں چلتا کہ ان سے کیا کام لیا جا رہا ہے؟ بعض اوقات انہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ ایک بہت بڑی جنگی مشین کے ایک چھوٹے سے پرزے بن چکے ہیں۔

میں نے ان دس برسوں میں دیکھا کہ جو اصطلاحات یا الفاظ پینٹاگون اور ان کے اتحادیوں نے متعارف کروائے، وہی الفاظ زیادہ تر صحافیوں کی رپورٹوں کا حصہ بنے۔ نائن الیونکے آغاز پر جن چند ایک صحافیوں نے طالبان کے لیے دہشت گرد جیسے الفاظ کی بجائے، مسلح، باغی یا عسکریت پسند جیسے قدرے نیوٹرل الفاظ کا استعمال کرنا چاہا، ان کی ہر جگہ پر مخالفت کی گئی اور بعض اوقات تو انہیں بھی کہا گیا کہ آپ ایسے ”دہشت گرد گروہوں“ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ نتیجتاً وہ صحافی بھی ایسے گروہوں کو ”دہشت گرد گروہ“ لکھنے لگے۔

صحافیوں یا میڈیا اداروں نے عراق حملے اور مبینہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق صحیح انداز میں رپورٹنگ کی ہوئی ہوتی تو شاید لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچ جاتیں لیکن ایسا ہوا نہیں۔

سنگل سورس سے خبریں آتی رہیں اور بڑے بڑے ادارے اسے شائع کرتے رہے۔ صحافیوں کو جو دکھایا گیا، وہی رپورٹ کرتے گئے لیکن یہ سوال نہیں اٹھایا گیا کہ ایسا کروا کون رہا ہے اور ہو کیوں رہا ہے؟

لیبیا میں بھی ایسا ہی ہوا، کئی اہم خبریں اور الزامات جھوٹ ثابت ہوئے لیکن تب تک سر سے پانی گزر چکا تھا۔

ایک وقت تھا کہ امریکا نے یاسر عرفات کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔ تب بھی بہت سے اداروں نے انہیں ایسا ہی لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن بعدازاں وہی امریکا کے اسٹیٹ گیسٹ بنے اور انہی کے ساتھ امریکی صدور آپ جناب کے سابقے لاحقے لگانے لگے۔

ہم دور نہیں جاتے آپ افغانستان کے ملا عبدالغنی برادر کو ہی دیکھ لیجیے۔ آج سے انیس برس پہلے یہ دہشت گرد تھے اور گزشتہ روز وہ امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ کھڑے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ آئندہ دنوں یا برسوں میں انہی کو وائٹ ہاؤس میں بطور اسٹیٹ گیسٹ مدعو کیا جائے اور امریکا ان کے ساتھ مستقل معاشی معاہدے کرے۔ میرے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ اب یہ شہ سرخیاں کیوں نہیں لگیں کہ ”دہشت گرد ملا برادر“ نے امریکی وزیر خارجہ سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اب پینٹاگون کو اب یہی درکار ہے کہ ”امن کے لیے مذکرات“ ضروری ہیں۔ انیس برس پہلے یہ الفاظ تھے کہ ”امن کے لیے جنگ ضروری“ ہے۔ اس وقت امریکا افغانستان میں اترنا چاہتا تھا، اب نکلنا چاہتا ہے اور زیادہ تر میڈیا کو تب بھی استعمال کیا گیا اور اب بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ افغانستان میں امریکی حملے کے چند برس بعد تشدد میں اضافہ ہوا تو جنرلوں نے ’تشدد میں ”اضافے‘ (انکریز ان وائلنس) کی بجائے اس کے لیے نیا فقرہ ’سپائیک‘ استعمال کیا۔ اب“ سپائک ان وائلنس ”کا مطلب ہے کہ تشدد ایک دم اوپر اور ایک دم نیچے آ سکتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ تشدد میں اضافہ ایک دم سے کم نہیں ہوتا۔ دونوں لفظوں کا اثرانسانی دماغ پر مختلف ہے۔

افغانستان میں طالبان کے ہمراہ لڑنے والے زیادہ تر گروپوں کو بین الاقوامی میڈیا ”فارن فائٹرز“ کا نام دیتا ہے یا دیتا رہا۔ اس لفظ کا تاثر یہ رہا کہ یہ دیگر ملکوں کے ’عسکریت پسند اس ملک میں مداخلت‘ کر رہے ہیں، یہ مقامی مزاحمت نہیں ہے لیکن ان ’فارن فائٹرز‘ کو کیا کہیں گے، جو نیٹو کی اور امریکی وردیاں پہنے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے لیے لفظ ”نیٹو فورسز ان افغانستان“ استعمال کیا جاتا رہا۔ اگر طالبان کے ہمراہ دیگر قومیتوں کے لڑنے والے افراد ”فارن فائٹرز“ ہیں تو طالبان کے لیے ”لوکل فائٹرز“ کا لفظ استعمال ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ اس سے یہ تاثرملتا تھا کہ ’لوکل فائٹرز ”کو مزاحمت کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس لفظ کا اثر بالکل مختلف ہوتا ہے۔

ایسے سینکڑوں لفظ ہیں، جیسے ”فرینڈلی فائر“ اب کون سا فائر فرینڈلی ہوتا ہے؟ امریکی انسائیڈر حملوں میں مرتے اور زخمی ہوتے رہے لیکن الفاظ مدھم استعمال ہوتے رہے۔ ”پاور پلیئرز، ایکٹیوزم، نان اسٹیٹ ایکٹرز، کی پلئرز، پیس پراسس، میننگ فل سولشنز، وہ الفاظ ہیں، جو طاقتور لوگوں نے ہم پر مسلط کیے ہیں۔

میں نے چند برس پہلے بھی الفاظ کے استعمال کے حوالے سے ایک آرٹیکل لکھا تھا کہ کس طرح ہم صحافی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے بھی عسکری اداروں کے بنائے ہوئے الفاظ کو استعمال کرتے جاتے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔ لیکن چند دوستوں نے اس آرٹیکل کو بھی ”دہشت گردوں“ کی حمایت کی جھولی میں ڈال دیا تھا۔ آج میرا انہی دوستوں سے سوال ہے کہ اب امریکا کیوں متعدد طالبان رہنماؤں کو عین ان کے مطالبے کے مطابق ”عالمی دہشت گردوں“ کی فہرست سے نکال چکا ہے؟ چند دن پہلے کیوں ان طالبان ”دہشت گرد رہنماؤں“ کو بھی رہا کیا گیا ہے، جن کی فرانس اور آسٹریلیا رہائی نہیں چاہتے تھے۔ کیا چند ماہ میں حقائق تبدیل ہو گئے ہیں؟ نہیں ایسا بالکل نہیں ہے، فقط مفادات تبدیل ہوئے ہیں۔

جارج ڈبلیو بش کے وزیر خارجہ کولن پاول نے اپنے تمام سفارت کاروں کو یہ ہدایات جاری کیں کہ مشرق وسطیٰ میں ’مقبوضہ فلسطینی‘ علاقوں کو ’متازع فلسطینی‘ علاقے پڑھا اور لکھا جائے۔ یہ ٹرم امریکی میڈیا میں آئی اور پوری دنیا کے میڈیا میں استعمال ہونے لگی۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ اب یورپی میڈیا گزشتہ چند برسوں سے مقبوضہ علاقوں کا لفظ استعمال کر رہا ہے۔ شاید آپ نے غور نہیں کیا ہو گا۔ جب سے امریکا کی طرف سے یک طرفہ طور پر یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دیا گیا ہے، چند نیوز ایجنسیوں نے اپنی ڈیٹ لائن تبدیل کرتے ہوئے یروشلم لکھنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم چند نیوز ایجنسیاں ابھی بھی یہی لکھ رہی ہیں کہ یہ خبر تل ابیب سے جاری کی جا رہی ہے۔ خیر یہ ایک الگ موضوع ہے، بات ٹرمینالوجیز کی ہو رہی ہے۔ تو الفاظ کسی واقعے کی شدت کو کس قدر کم کر سکتے ہیں اور بڑھا سکتے ہیں، یہ شاید آپ کو نہ پتہ ہو لیکن نفسیات دان اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یہ الفاظ ”لامتناہی جنگوں“ کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

مغربی یونیورسٹیوں اور تھینک ٹینکس میں میڈیا کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک انداز پر تحقیق ہوتی ہے۔ میرے بہت سے صحافی دوست میری طرح خود کو پڑھا لکھا، صاحب علم اور پتہ نہیں کیا کیاسمجھتے ہیں لیکن حقیقیت یہ ہے کہ ہم سب ’طاقتور لوگوں کے لفظوں‘ اور نیوز ایجنسیوں کے غلام بن چکے ہیں، ہم پینٹاگون، فوجی دماغوں، جنرلوں اور سیاسی تھنک ٹینکس کے بنائے ہوئے لفظوں کے غلام بن چکے ہیں اور ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی احساس نہیں ہوتا کہ ’ہم صحافیوں‘ کو بھی کوئی کنٹرول کر رہا ہے۔

میں اپنے بارے میں بھی یہی کہتا ہوں کہ ہم اب لفظوں کو ’سطحی طور‘ پر پڑھتے ہیں، کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہیں لیکن ہم نے ’ڈیپ سٹڈی‘ چھوڑ دی ہے، ہم نے لفظوں کے اثرات اور ٹرمینالوجی کے پیچھے چھپے ہوئے ارادوں کو پڑھنا چھوڑ دیا ہے، ہم نے کتابیں پڑھنا چھوڑ دی ہیں، ہم نے تاریخ پڑھنا چھوڑ دی ہے، سیاستدان ہمارے سامنے تاریخ سے متعلق جھوٹ بولتے ہیں لیکن ہمیں پتہ نہیں چلتا۔

گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ اور ملا برادر کی ملاقات میں ہم صحافیوں کے لیے یہ سبق ہے کہ ہم عسکری اداروں اور سیاستدانوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں، ان کے جنگی عزائم کا حصہ نہ بنیں، جہاں تک ممکن ہو، اسمائے صفت چھوڑ کر نیوٹرل الفاظ کا استعمال کریں۔ حکومتوں اور عسکری اداروں کے ”دہشت گرد اور دوست“ بدلتے رہتے ہیں، یہ مفادات کی جنگیں ہیں، صحافیوں کو آلہ کار نہیں بننا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •