مجرم اور محافظ میں کوئی فرق باقی رہا یا نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


موٹر وے روڈ پر بچوں کے سامنے ان کی ماں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے پر سی سی پی او لاہور کے بیہودہ بیان کو سن کر مجھے تو چنداں حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ان کا یہ غلیظ بیان ہی تو دراصل ہمارے نام نہاد مشرقی اقدار کی دین ہے۔ پاکستان میں ہر دوسرا شخص آپ کو خواتین کے حوالے سے اسی طرح کے بیانات دیتا دکھائی دے گا کیونکہ یہی ہمارے معاشرے کی روایت ہے۔ صرف سی سی پی او ہی کیا سوشل میڈیا پر مردوں کی اکثریت متاثرہ خاتون کو گالیوں اور آوارگی کے طعنوں سے نوازتی نظر آئی۔

مسئلہ پھر وہی ہے کہ ہمارے ہاں مرد کے علاوہ کسی دوسری جنس کو انسان کے زمرے میں شمار پی نہیں کیا جاتا۔ عورت کھانے پینے سے لے کر دفن ہونے کے معاملات میں مردوں کے طے کردہ معیارات کی غلام ہے۔ سی سی پہ او لاہور کا بیان اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ عورت کو ہمارے معاشرے میں برابر کا انسان نہیں سمجھا جاتا۔ جو جنسی زیادتی اس حادثے میں خاتون کے ساتھ ہوئی وہی زیادتی سی سی پہ او لاہور نے اپنے الفاظ سے کی۔

مطلب دونوں مردوں کا ایک تھا کہ عورت باہر نکلی تو نکلی کیسے؟ ایک مرد نے سڑک پر اس کا جسمانی استحصال کیا اور دوسرے نام نہاد محافظ نے براہ راست عورت کے کردار کو ہی مشکوک بنا ڈالا۔ میں سی سی پی او صاحب اور ملک کے ہر کم ظرف مرد سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ کو عورت ایک کم انسان کیوں لگتی ہے؟ کیوں کوئی عورت بیوہ، مجبور یا لاوارث ہو کر ہی باہر نکلے؟ کیا عورت اپنے دل کی خوشی کے لئے باہر نہیں جا سکتی؟ کیوں عورت کہیں جانے کے لیے مرد کی محتاج رہے؟

آپ مردوں کو کیسا لگے جب آپ بن سنور کر خوشبو اڑاتے دوستوں سے ملنے جا رہے ہوں اور کوئی بیوی یا بہن کی پخ آپ کی نظر کو لگام دینے کے لیے ساتھ کر دے تو؟ اور ایک پولیس افسر کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے شہریوں کو ان کی جنس سے تولتا پھرے؟ ظاہر ہے یہ حق اسے اس کریہہ معاشرے نے دیا ہے، یہ اخلاقی تربیت اسی کھوکھلی مشرقی قدروں نے دی ہے جن کی یہ منافق معاشرہ دم بھرتے نہیں تھکتا اور انھیں عظیم روایات کا نتیجہ ہے کہ مجرم ہو یا محافظ دونوں ہی ذہنی اور اخلاقی لحاظ سے یکساں پستی کا شکار ہیں۔

جب تک اس معاشرے میں عورت کو جنس سے قطع نظر ایک عام انسان نہیں سمجھا جائے گا اس پر ہونے والی زیادتیوں میں کبھی کمی نہیں آئے گی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ چاہے بارہ بجے کا وقت ہو یا آدھی رات کا، چاہے کوئی مجبوری ہو یا صرف لانگ ڈرائیو انجوائے کرنا مقصود ہو، عورت کو پورا حق ہے کے وہ اکیلے باہر جاسکے اور اگر اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی ہوتی ہے تو وہ عورت اس میں اتنی ہی بے قصور ہے جتنا ایک گن پوائنٹ پر موبائل اور پیسوں سے محرون ہوانے والا مرد۔

اور ایک عورت شہری کے بھی ریاست پر اتنے ہی حقوق ہیں جتنے کسی مرد کے اس لیے براہ کرم عورتوں کے ساتھ زیادتیوں پر ان کو بہو، بیٹی، ماں اور دیگر رشتوں کی بیڑیوں میں جکڑ کر ان کے انسانی حقوق سلب کرنے کے بجائے اپنی نااہلی کو تسلیم کرتے ہوئے عورت کو صرف ایک شہری سمجھ کر اس کے تحفظ کی ذمے داری اٹھائیں کیونکہ شہریوں کا تحفظ کسی محرم کی نہیں بلکہ ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے جس کے لیے عوام باقاعدہ ٹیکس ادا کرتی ہے اور اگر ریاست اور ریاست کے عہدیداران بھی اس طرح کے جنسی تعصبات پر مبنی بیانات دیں تو یقین جانیں مجرم اور محافظ میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔

اور ایک بہت ضروری نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی انسان کی عزت، غیرت اس کے زندگی گزارنے کے اصولوں اور انسانیت کے جذبات پر منحصر ہوتی ہے نہ کہ اس کے اعضا پر۔ اگر کسی بچے یا خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی ہو جاتی ہے تو معاشرہ ان پر ترس کھانے یا زندگی برباد ہونے کا ٹیگ لگانے کے بجائے ان ک حوصلہ بڑھائے۔ بے شک ایسی اذیت ناک صورت حال سے گزر کر انسان کا نارمل زندگی کی طرف واپس آنا بہت مشکل ہے لیکن پھر بھی بحیثیت انسان یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ایسے جرائم کا شکار ہونے والے افراد کو زندگی کی طرف واپس لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کو سمجھائیں کہ زندگی اتنی معمولی شے ہر گز نہیں جسے ایک مجرم کے افعال کی نذر کر دیا جائے۔ کاش ہم میں اتنا شعور اور انسانیت پیدا ہو سکے کہ کوئی زیادتی کا شکار ہونے والا سہارا مانگنے کی بجائے موت نہ مانگے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •