مٹی کی خوشبو اور بچوں کے چبھتے سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں گزشتہ آٹھ سال سے کینیڈا میں مقیم ہوں مگر جس مٹی سے میرا خمیر اٹھا ہے وہ نہ صرف میرے بلکہ غیر ممالک میں بسنے والے تمام ہم وطنوں کے اندر رہتی ہے۔ مٹی کی خوشبو ہمیں بار بار کھینچ کر وہاں لے جاتی ہے۔ ہمارے گھر ایک طرح سے منی پاکستان ہوتے ہیں۔ ہمارا دل یہاں ہوتا ہے پر دھڑکن پاکستان میں۔ وہاں کی ہر خوشی اور غمی ہم پر اثرانداز ہوتی ہے۔ پاکستانی ٹی وی چینل ہمارے گھروں کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہم نا صرف دوستوں بلکہ پاکستان کے ساتھ ہمہ وقت جڑے رہتے ہیں۔

مارچ سے لے اب تک کے واقعات نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ وبا کے دنوں میں انسان سوائے سوچنے اور پڑھنے لکھنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتا تھا سو ہم نے بھی یہی کیا۔ انسان ایک سماجی جانور ہے۔ وہ کسی بھی صورت سماج سے کٹ کر نہیں رہتا گو وبا نے سماجی رابطے منقطع کر دیے تھے پر جہاں چاہ ہوتی ہے وہاں راہ نکل ہی آتی ہے۔ سائنسی ترقی نے روابط کے بہت سے راستے کھول دیے ہیں ان کا زیادہ استعمال ان ہی دنوں دیکھنے میں آیا۔ حالات حاضرہ سے واقفیت وقت کا اہم تقاضا ہے پر مصروفیات کی وجہ سے عموماً وقت کی کمی آڑے آتی ہے۔ پر ان دنوں وقت نا صرف وافر مقدار میں تھا بلکہ رک سا گیا تھا۔

الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی براؤزنگ سے آنکھیں تھک جاتی تھیں پر دل کسی صورت نہ بھرتا کیونکہ یہاں کا لاک ڈاؤن بہت شدید تھا اور جرمانے بہت زیادہ۔ لا اور آرڈر کو برقرار رکھنے والے ادارے اتنے مستعد کہ عام شہری قانون توڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس خطے میں دیگر ممالک کی نسبت شرح اموات کافی کم رہی۔ زمینی راستے اب بھی 30 ستمبر تک بند ہیں پر ہوائی سفر کی بندش نہیں۔ وبا کے پروٹوکال کی پابندی لازمی ہے۔ اول تو عام شہری کی بچپن سے تربیت ایسی کی جاتی ہے کہ وہ قانون کا احترام کرتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ یہاں قوانین بنانے والے ادارے کسی مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور حالات و ضروریات کو مد نظر رکھ کر قانون بناتے ہیں۔ اور انتظامیہ ان پر عملدرآمد کراتی ہے۔

میرے کہنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ یہاں جرائم نہیں ہوتے یا لوگ قانون نہیں توڑتے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح یہاں بھی جرائم ہوتے ہیں۔ مگر ان سے نمٹنے کا طریقہ کار قوانین میں درج ہے۔ چارٹر آف ہیومن رائٹس کے تحت تمام شہریوں کو بلا تفریق ایک جیسے حقوق حاصل ہیں۔ ریاست اٹھارہ سال کی عمر تک سب بچوں کی کفالت کرتی ہے۔ ہائی اسکول تک مفت تعلیم ہے۔ امیر اور غریب سب کے بچے ایک جیسے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کسی کی ملازمت ختم ہو جائے تو اسے نئی ملازمت ملنے تک مالی معاونت بھی ملتی ہے۔ بوڑھوں بچوں اور معذور افراد کو کئی معاملات میں چھوٹ اور سہولیات دی جاتی ہیں۔

یہ سب کچھ ان ٹیکسوں کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے جو ہر شہری ادا کرتا ہے۔ یاد رہے کہ کینیڈا میں ٹیکس کی شرح بہت ہائی ہے۔ اور یہاں ہر ایک شہری اور ریزیڈنٹ کو ٹیکس ریٹرن فائل کرنا لازمی ہے۔ پی آر کارڈ کی تجدید اور شہریت کے لیے بھی ٹیکس ریٹرن ایک لازمی جز ہے۔ یہ سب بیان کرنے کا مقصد یہاں کی بے وجہ تعریف نہیں ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ دنیا کی دیگر ریاستیں کیسی ہیں اور وہاں کن باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ یا ریاست کو کیسا ہونا چاہیے۔ یہاں صرف حقوق ہی نہیں فرائض بھی قانون میں طے کر دیے گئے ہیں۔

معاشرہ افراد یا گروہوں کے درمیان ایک تعلق ہوتا ہے۔ سوسائٹی کی تشکیل کیوں کر ہوئی؟ اس کا جواب آسان ہے کہ ضروریات زندگی نے انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔ انسان دیگر کئی جانداروں کی نسبت کمزور تھا۔ جان کے تحفظ کے بنیادی احساس نے اسے دیگر انسانوں کے ساتھ مل جل کر رہنے پر مجبور کیا۔ جوں جوں ارتقا کا عمل آگے بڑھا دیگر عوامل بھی شامل ہوتے گئے۔

تحفظ آج بھی وہ بنیادی احساس ہے جو دیگر عوامل پر سبقت رکھتا ہے۔ جان و مال کا تحفظ انسان کا بنیادی حق ہے۔ دنیا کا ہر مہذب معاشرہ اس حق کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اس کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔ پاکستانی یا ہمارے جیسی دیگر اقوام کے لوگ کیوں ہجرت پر مجبور ہوتے ہیں؟ اس کی وجوہات میں بھی جان و مال کا تحفظ اور بہتر زندگی کی آرزو ہوتی ہے جو ہمیں اپنی مٹی اور اپنے پیاروں سے دوری اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایک نئی جگہ پر بود و باش اختیار کرنا اور وہاں اپنے آپ کو اسٹیبلش کرنا ایک تھکا دینے والا عمل ہے۔ جان توڑ محنت کرنا پڑتی ہے تب کہیں جا کر زندگی کی گاڑی چلتی ہے۔ جو یہاں کی زندگی کے تقاضے پورے نہیں کر پاتے وہ واپسی کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ واپسی کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ کلچرل شاک ہے جسے قدامت پسند لوگ برداشت نہیں کر پاتے اور خاص کر وہ جن کے بچے بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں۔

برسوں محفوظ زندگی گزارنے کے بعد عموماً وہ اور ان کے بچے پاکستان میں ایڈجسٹ نہیں کر پاتے کیونکہ انہیں مقامی کلچر کا صحیح ادراک نہیں ہو پاتا۔ معاشرتی اقدار کا دوغلا پن انہیں مختلف مسائل سے دوچار کر دیتا ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان میں ایک دوہری شہریت والی خاتون کے ساتھ ہائی وے پر جو افسوسناک واقعہ پیش آیا اس کی تفصیلات سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھیں۔ بہت سے لوگوں کے مذمتی مضامین پڑھے۔ ایک مضمون میں لکھا تھا کہ یہ پاکستان ہے، فرانس نہیں۔ مصنف نے اعداد و شمار کے ذریعے یہ جتانے کی کوشش کی کہ مغربی ممالک میں زیادہ جرائم ہوتے ہیں۔

مسلۂ یہ نہیں کہ کہاں کتنے جرائم ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کے ساتھ بھی ایسا کیوں ہوا؟ مصنف کی معلومات خاصی ناقص ہیں۔ جرائم یہاں ہوتے ہیں تو رپورٹ بھی ہوتے ہیں۔ جبکہ وطن عزیز میں تو جنسی زیادتی سے متعلق پچاس فیصد کیس رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔ رپورٹنگ کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے کیسوں میں ایف آئی آر ہی درج نہیں ہو پاتی خاص کر وہ کیس جن میں با اثر افراد ملوث ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار صرف رپورٹ شدہ کیسز کی بنیاد پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ جنسی جرائم میں مغرب میں بہت کچھ شامل ہے جس میں قانونی رشتے کے باوجود باہمی رضامندی کے بغیر کیا جانے والا جنسی عمل بھی جرائم کی فہرست میں شامل ہے۔

یہاں پولیس کال موصول ہونے کے چند منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ جاتی ہے۔ پولیس کے افسران بوقت ضرورت میڈیا سے مختصر اور نپی تلی بات کرتے ہیں۔ وہ میڈیا کے سامنے اخلاقیات کے بھاشن نہیں دیتے۔ غلط اورصحیح کا فیصلہ نہیں سناتے۔ صرف اپنے کام کرتے ہیں۔ متاثرہ شخص کے ساتھ رویہ بہت ہمدردانہ ہوتا ہے۔ اس کی جسمانی اور ذہنی کیفیات کا دھیان رکھا جاتا ہے۔ پیرا میڈکس پولیس کے ساتھ ہوتے ہیں تاکہ ہر قسم کی ایمر جنسی سے نمٹا جا سکے۔ یہاں پر کوئی حکومتی عہدے دار کسی پولیس والے کے ساتھ کھڑے ہو کر پریس کانفرنس نہیں کراتا۔ کوئی سیاسی رہنما پولیس، عدالت یا انتظامیہ کے کام میں مداخلت نہیں کرتا۔ عدالتیں انصاف کی فراہمی ہر غریب و امیر، عورت، مرد، ٹرانس جینڈر بلا تخصیص سب کے لیے یقینی بناتی ہیں۔ کیوں کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔

بات رویہ کی ہے۔ ہمارے ہاں مثبت رویے پنپنے ہی نہ پائے۔ ہمارے ہاں برابری کا تصور نہیں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی نے تمام اقدار کو ملیا میٹ کر ڈالا ہے جبکہ مذہب ایسا کچھ نہیں سکھاتا۔ ہم نے انسان کو انسان سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم جنہیں دونوں دنیاؤں کا تجربہ ہے وہ آہ پاکستان نہ کہیں تو اور کیا کہیں۔ ایسے افسوسناک واقعات تواتر سے رپورٹ ہو رہے ہیں ہم کیسے اپنے بچوں کے چبھتے سوالات کا سامنے کریں؟ یہ صرف عقلی دلائل کو مانتے ہیں۔

کیا ان سانحات کی کوئی توجیح ہو سکتی ہے؟ یہ خبریں ہمارے ذہنوں پر ہتھوڑے برساتی ہیں اور سر بچوں کے آگے شرم سے جھک جاتا ہے۔ ہماری وطن سے وابستہ امیدیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسی صورتحال ہمارے بچے اپنی مٹی سے تعلق کس طرح برقرار رکھ پائیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •