گلستان جوہر بلاک 7 سے ڈیفنس فیز سیون تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2015 ء کے اگست کی بات ہے، میں کولمبو کے بندرنائکے انٹرنیشنل ائر پورٹ پر اپنی کراچی کی پرواز کا انتظار کر رہا تھا۔ بورڈنگ کے بعد انتظار گاہ میں میری ملاقات ایک پاکستانی خاتون سے ہوئی جو 7 سال بعد وطن واپس جا رہی تھیں۔ ابھی وہ اپنی کراچی کی کنیکٹنگ فلائیٹ کا انتظار کررہی تھیں۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کوالالمپور میں رہتی تھیں۔ انہوں نے گفتگو کے دوران بتایا کہ کراچی میں ان کی گلستان جوہر کے بلاک 7 میں رہائش ہے اور کئی سال کے وقفے کے بعد وہ کراچی جارہی ہیں۔

چونکہ میں بھی گلستان جوہر میں رہتا ہوں تو میں نے انہیں بتایا کہ جوہر کا علاقہ اب بہت بدل گیا ہے اور اس میں فلاں فلاں تبدیلی آ گئی ہے۔ انہوں نے حیرت کا ظہار کیا۔ اور اس دور کی باتیں بتانے لگیں جب وہ ملائشیا نہیں گئی تھیں۔ خیر تھوڑی دیر بعد ہم لوگ سری لنکن ائر کے جہاز میں کراچی کی طرف پرواز کر رہے تھے۔ مذکورہ خاتون کو اتفاق سے مجھ سے آگے والی ہی نشست ملی۔ اب وہ ایک خاتون سے کراچی جانے کی اپنی Excitement بیان کر رہی تھیں۔

دوسری خاتون نے کہاکہ کراچی تو بہت وسیع ہے اور وہ تو کراچی میں رہتے ہوئے بھی ایک طور سے کراچی سے ناواقف ہی ہیں۔ کوالالمپور والی خاتون نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کراچی میں کہاں رہتی ہیں؟ دوسری خاتون نے کہا کہ وہ ڈیفنس فیز سیون میں رہتی ہیں اور ان سے بھی ان کا رہائشی علاقہ دریافت کیا۔ جواباً کوالالمپور والی خاتون نے بتایا کہ وہ بھی ڈیفنس فیز سیون میں ہی رہتی ہیں۔ میں یہ سن کر ہنسا۔ خاتون نے اپنا علاقہ بدل لیا تھا۔ مسئلہ اسٹیٹس کا تھا۔

اس نوع کے واقعات ہمارے معاشرے میں ایک بڑی معمولی سی بات ہے اور ہم میں سے ہر ایک اس نوع کی باتوں کا مشاہدہ کرتا ہے، ہمارے ایک دوست اپنے گھر کے بڑے ”ہونہار ببوا“ تھے جو MBA پاس تھے اور ایک بڑے بینک میں بڑی اچھی تنخواہ پر نوکر تھے۔ ان کی والدہ کے دل میں یہ خیال جاگا کہ اپنے اتنے ہونہار بیٹے کے لئے تو وہ ڈیفنس سے بہو لائیں گی۔ اب ان کے عائشہ منزل پر واقع آشیانے سے ڈیفنس کی پروازیں شروع ہوئیں اور پھر ڈیفنس کی رہائشی ایک انجینئر خاتون پر نگاہ کرم پڑ ہی گئی۔

جب نکاح ہو گیا تو ہمارے دوست پر انکشاف ہوا کہ ان کی منکوحہ ڈیفنس میں نہیں رہتیں بلکہ جس گھر میں ان کو رشتہ دکھایا گیا وہ دراصل ان کی بیگم کی پھوپھی کا تھا۔ ان کی منکوحہ نہ صرف یہ کہ ڈیفنس کی رہائشی نہ تھیں بلکہ کراچی میں بھی کبھی نہ رہی تھیں، بلکہ وہ حیدر آباد کے اونچی چاڑی کی رہنے والی تھیں۔ خیر اب تو نکاح ہو ہی چکا تھا تو صرف اس بنیاد پر کچھ ہو تو سکتا نہیں تھا۔

اس نوع کے واقعات اگر درج کیے جائیں تو دفتر کے دفتر مرتب ہو جائیں مگر آخر ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آخر لوگ کرائے کے مکانات کو اپنا کیوں ظاہر کرتے ہیں؟ آخر لوگ ’کرائے کی گاڑیوں کو اپنا کیوں ظاہر کرتے ہیں؟ آخر لوگ اپنا پتہ غلط کیوں بتاتے ہیں؟ آخر لوگ اپنی پرانی گاڑیوں کو دور کیوں پارک کر کے آتے ہیں؟ آخر لوگ اپنے پرانے موبائل فون لوگوں کے سامنے نکالنے سے گھبراتے کیوں ہیں؟ ان تمام سوالات کا جواب ہمارے باطن میں ہی ہے اور کچھ زیادہ مشکل بھی نہیں ہے۔

ویسے یہ جعل سازی صرف و محض دولت اور طاقت کے مظاہر سے خود کو منسلک کرنے کے لئے ہی نہیں کی جاتی۔ ساٹھ کی دہائی کے اواخر کی بات ہے، میرے ایک عزیز ایک شادی میں شرکت کرنے تب کے مشرقی پاکستان وارد ہوئے۔ یہاں اس شادی کی تقریب میں میرے والد صاحب بھی موجود تھے اور ان کے استاد محترم عندلیب شادانی صاحب بھی موجود تھے۔ عندلیب شادانی صاحب مشہور شاعر و ادیب ہونے کے علاوہ جامعہ ڈھاکہ میں صدر شعبہ اردو بھی تھے۔ جب میرے والد نے اپنے کراچی سے آئے ہوئے عزیز کا تعارف اپنے استاد سے کرایا تو شادانی صاحب نے نوجوان پوچھا کہ وہ کراچی میں کیا کرتے ہیں؟

انہوں نے فرمایا کہ وہ جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے طالب علم ہیں۔ یہ سننا تھا کہ عندلیب شادانی صاحب نے ان سے مختلف اساتذہ کی خیریت دریافت کرنا شروع کر دی۔ پھر جامعہ کراچی کے ایم اے اردو کے نصاب پر گفتگو شروع کر دی مگر وہ تو کبھی جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے پاس بھی نہ پھٹکے تھے، اس لیے ان کے لئے وہاں سے فرار ہوتے ہی بنی۔ ظاہر ہے کہ اس واقعے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ انسان ایسی بھی چیزوں کا سوانگ کر سکتے ہیں جن سے نہ دولت منسلک ہو نہ طاقت۔ اردو میں ماسٹرز کا طالب علم ہونا ظاہر ہے کہ کبھی بھی نہ تو دولت کی نشانی رہا ہے نہ ہی طاقت کی۔ ہاں اس میں ایک نوع کی علمی شان ضرور تھی اور خود کو محض انٹر پاس بتانے سے سننے میں بہتر معلوم ہوتا ہے۔

انسان جھوٹ بہت ساری وجوہات سے بولتا ہے اور اپنی شان بگھارنے کے لئے بھی اکثر جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لوگ علیحدہ اور نمایاں نظر آنا چاہتے ہیں مگر ان میں (ان کی اپنی نظر میں ) کوئی ایسی خصوصیت ہوتی ہی نہیں ہے جو ان کو ممتاز کرتی ہو۔ اس لیے چیزوں اور ذہنی تصاویر کا سہارا لینے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ انسانوں کو اپنی اصلی حالت سے شرم آتی ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ وہ تو بہت ہی عام، بہت ہی معمولی ہیں، اس لیے جھوٹ کی لیپا پوتی کے بغیر ان کی حقیقت قابل اظہار ہوتی ہی نہیں ہے۔

لوگ اپنی حقیقت سے خود ڈرتے ہیں۔ وہ خود بھی ان پر نظر ڈالنے سے گھبراتے رہتے ہیں۔ علم نفسیات ہم کو بتاتا ہے کہ جو بھی شخص پست تصور ذات رکھتا ہے وہ ہمیشہ ہی اس نوع کے جھوٹ بولے گا۔ اسی لئے چھوٹے لوگ تو بڑے بڑے جھوٹ کے التباسات اپنے ارد گرد کھڑے کرتے رہتے ہیں مگر بڑے لوگ اپنی حقیقت کو کھل کر ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے ان کی سادگی پیدا ہوتی ہے اور اسی وجہ سے وہ ذہنی سکون کا ایک ایسا درجہ حاصل کر لیتے ہیں جو جھوٹ بولنے والوں کو کبھی حاصل نہیں ہو پاتا۔

ظاہر ہے کہ ان کو وہ محنت نہیں کرنی پڑتی جو جھوٹ بولنے والوں کو ہر لمحہ کرنی پڑتی ہے۔ انسان شرمندگی سے بچنے کے لئے جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لیے اس کے جھوٹ کھلتے رہتے ہیں اور وہ اور بھی شرمندہ اور بھی ذلیل ہوتا ہی چلا جاتا ہے۔ یوں انسان اپنی خود اتنی توہین کر دیتا ہے کہ کبھی بھی کوئی غیر کر ہی نہیں سکتا۔ انسان اپنی شان بگھارنے کی سعی میں جس طرح خود کی تذلیل کرتا ہی چلا جاتا ہے کہ وہ خود کی اور بھی شدید نفرت کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ ذہنی بیماری ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے اور سب سے خوفناک بات جو اس بیماری میں ہوتی ہے وہ یہ کہ انسان کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بیمار ہے۔ اسے خود ہی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خود کو جس قدر تکلیف دے رہا ہے اور ویسے ہی چلا جا رہا ہے وہ اس سے بآسانی نکل سکتا ہے مگر جب بیمار کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ بیمار ہے تو علاج کی سعی کیسے کی جائے اور کون کرے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •