سوہنی مہینوال: معصوم محبت کی مجبور کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرانے قصے، علاقائی داستانیں اور مقامی کہانیاں ہمیشہ سے ہی انسانی دلچسپی کا محور رہی ہیں۔ یہ کہانیاں عقل سے زیادہ تخیل کی مرہون منت ہوتی ہیں۔ لوک داستانیں انسانوں کی نامکمل خواہشوں کا عکس ہوتی ہیں اس لیے ہر سماج، قوم اور ملک میں انسانوں کی اجتماعی فکر کی روایت کو لوک ادب نے ہی محفوظ رکھا ہے۔ یہ داستانیں کسی قوم کی تہذیب و ثقافت کے ادب کے بچپن کی پیداوار ہوتی ہیں اور اس کے اعلیٰ ترین ادب کی بنیاد بنتی ہیں، کیونکہ لوک داستانوں میں معاشرے کی اجتماعی روح کارفرما ہوتی ہے۔ یہ ادب عام آدمی کے لاشعور کا عکاس ہوتا ہے جس میں مقامی ثقافتی شعور اور اجتماعی دانش کی جاذبیت بھی نمایاں ہوتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ مغل بادشاہ شاہجہان کے عہد کی بات ہے۔ دریائے چناب کے کنارے آباد شہر گجرات ظروف سازی کے حوالے سے منفرد مقام و شہرت رکھتا تھا۔ دریاوں کے کناروں پر چکنی مٹی کی وافر مقدار نے ظروف سازوں کو ہمیشہ اپنے ارد گرد ہی رکھا۔ اس دور میں گجرات کے ایک ظروف ساز کمہار عبداللہ المعروف ”تلا“ کی کوزہ گری کا ڈنکا خوب بجتا تھا۔ اس کے فنی کمالات کی بدولت اس کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی اور وہ شہر کا دولتمند کاروباری شخص تھا۔ شہرت و دولت کے ساتھ ساتھ قدرت نے اسے ایک خوبصورت بیٹی کی نعمت سے بھی نواز رکھا تھا۔ اس کا نام ہی سوہنی تھا۔ وہ نام کی ہی سوہنی نہیں تھی بلکہ پرکشش حسن و جمال کا پیکر تھی۔ اس کی خوبصورتی کے چرچے بھی زبان زد عام تھے۔

اسی زمانے میں ازبکستان کے شہر بلخ بخارا میں ایک تاجر مرزا عالی نامی بہت دولتمند تھا۔ اس کے پاس سب کچھ تھا لیکن وہ اولاد کی رحمت سے محروم تھا۔ ایک درویش بزرگ کی دعا سے اس کے گھر بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ منت و مراد کے حاصل اس خوبرو بچے کی پرورش بڑے ناز و پیار سے کی گئی۔ اچھی تربیت کے سبب یہ نوجوان بڑا ہنر مند، مشاق تیرانداز، اور موسیقی سے خصوصی رغبت رکھنے والا تھا۔ مرزا عالی اپنے بیٹے مرزا عزت بیگ کو سنبھال سنبھال کر رکھتا تھا۔

عزت بیگ بڑا ہوا تو اس نے دہلی کی شہرت سن کر والد سے درخواست کی کہ وہ اپنے تجارتی قافلے کے ہمراہ جا کر دہلی دیکھنا چاہتا ہے۔ والد نے بیٹے کو بھیجنے سے پس و پیش سے کام لیا لیکن اس کے اصرار پر اجازت دینا ہی پڑی۔ مرزا عزت بیگ اپنے تجارتی قافلے کے ساتھ دلی آیا، شاہی دربار سمیت شہر دیکھا۔ بڑے تاجر کا بیٹا ہونے کے ناتے اسے بہت عزت اور احترام ملا۔ دلی کے بعد اس نے قافلے کے ہمراہ دوسرے مشہور شہر دیکھنے کا بھی پروگرام بنایا۔

اس طرح وہ لاہور دیکھنے پہنچا اور واپسی پر تھا کہ ایک شہر کے کنارے اسے شام ہو گئی تو قافلے نے دریائے چناب کے پاس پڑاؤ کیا۔ قافلے والے تاجر ساتھیوں نے اسے بتایا کہ یہ چھوٹا مگر ظروف سازی کے حوالے سے مشہور شہر گجرات ہے اور یہاں کے تلا کمہار کے برتن ہندوستان اور ہندوستان سے باہر بھی مشہور ہیں۔ ساتھ ہی اس کی بیٹی سوہنی کے حسن و جمال کا بھی بڑا ذکر کیا۔ اس سے عزت بیگ کو سوہنی کو دیکھنے کا تجسس ابھارنے لگا۔

اگلی صبح وہ برتنوں کی خریداری کے لیے تلے کمہار کی دکان پر پہنچا اور برتن دیکھنے لگا۔ اسے برتنوں سے کوئی دلچسپی تھی نہیں، عبداللہ کمہار کی صنعت گری کی طرف اس کا دھیان ہی نہیں جاتا تھا۔ وہ تو قدرت کے کرشمے سوہنی کو دیکھنے آیا تھا اور سوہنی وہاں تھی ہی نہیں۔ تھوڑی دیر بعد اچانک گھر والی طرف سے سوہنی بھی دکان پر آ گئی۔ عزت بیگ نے اسے دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔ سوہنی اسے برتن دکھانے لگی۔ مگر عزت بیگ تو پہلی نظر میں ہی اپنا دل ہار بیٹھا تھا۔

یہ پہلی نظر کی محبت بھی عجیب چیز ہے۔ سائنس اور طب کی آج تک کی ساری جدید تحقیق بھی پہلی نظر کی محبت کا علاج یا تریاق دریافت نہ کر سکی ہے۔ عزت بیگ سوہنی کا فریفتہ ہو گیا۔ چناب کے زرخیز کنارے، اودھے نگری کی عشق خیز سرزمین پر محبت کا بیج ایک ہی ساعت میں لگا، اگا، اور پھل پھول گیا۔ عزت بیگ یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ مال و اسباب کی فراوانی تھی چنانچہ اس نے دیدار یار کے لیے روزانہ کی بنیاد پر برتنوں کی خریداری شروع کر دی۔

جب ان کے پاس برتن کافی ہو گئے اور رکھنے کی جگہ نہیں رہی تو اس نے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ ان کا کیا کیا جائے۔ ایک ساتھی نے مشورہ دیا کہ انہیں فروخت کر دیتے ہیں۔ عزت بیگ کو بات بھائی اس طرح انہوں نے بازار میں، تلا کمہار کی دکان سے ذرا دور اپنی دکان لگا لی اور مہنگے داموں برتن خرید کر انہیں سستے داموں بیچ دیا جاتا۔ آہستہ آہستہ ان کے پاس پیسے ختم ہونے لگے۔ قافلہ والے ساتھیوں نے واپسی کا اصرار کیا لیکن عزت بیگ سوہنی کو پائے بغیر واپس جانے پر تیار نہ ہوا تو چند ساتھیوں کے علاوہ باقی قافلہ واپس چلا گیا۔

عزت بیگ کے مالی حالات خراب ہوئے تو وہ ایک بار پھر تلا کمہار کے در پر ہی آیا اور بتایا کہ اس کا نقصان ہو گیا ہے مقروض ہو گیا ہوں۔ قرض کی ادائیگی ممکن نہیں۔ اس کے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں اس لیے اسے صرف رہنے کی جگہ اور کھانے پر نوکر رکھ لے۔ تلا کمہار نے اسے گھریلو کام کاج کے لیے رکھ لیا اور پھر اسے بھینسیں چرانے کا کام دے دیا۔ پنجاب میں بھینسوں کو مہیں کہتے ہیں اس لیے بھینسیں کی چروائی پر اسے مہینوال کہا جانے لگا یعنی بھینسیں چرانے والا۔

اسی دوران سوہنی کو بھی پوری طرح معلوم ہو گیا کہ عزت بیگ کی یہ حالت اس کی وجہ سے ہوئی ہے۔ وہ اس کی تباہ حالی اور خستگی دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوئی اور تڑپ کر رہ گئی۔ اس کا دل بھی عزت بیگ کے لیے دھڑکنے لگا۔ ان کے درمیان ملاقاتوں کے تواتر کی بازگشت ارد گرد بھی سنائی دینے لگی۔ ادھر ادھر سے ہوتی ہوئی باتیں سوہنی کے گھر والوں تک پہنچیں تو انہوں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے مہینوال کو نوکری سے نکال دیا اور سوہنی پر بھی سختی کر دی۔

عزت بیگ نوکری سے فارغ ہوا لیکن دل تو وہیں رہ گیا۔ چنانچہ وہ دریا کے دوسرے کنارے پر فقیر بن کر بیٹھ گیا۔ دوسری طرف سوہنی کے ماں باپ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فوری جلالپور جٹاں کی طرف دریا کنارے گاؤں رالیالہ میں برادری میں سے ایک لڑکا دیکھا اور سوہنی کا بیاہ منصور بہزاد کی تحقیق کے مطابق سوہنی کے کزن ڈام سے کر دیا۔ سوہنی سماجی قدغنوں کے سامنے بے بس مرتی کیا نہ کرتی۔ وہ اپنے دولہا کے ساتھ چلی گئی۔ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ سے دعا کی کہ وہ عزت بیگ کی امانت ہے۔

اس کے لیے میری حفاظت کرنا۔ دعا قبول ہوئی۔ شادی کے بعد پتہ چلا کہ اس کا خاوند ایک بیماری میں مبتلا ہے اور بانجھ ہے۔ مہینوال سوہنی کی شادی کی خبر سن کر دلبرداشتہ تھا کہ ایک روز اسے سوہنی کی ایک سہیلی ملی اور اس نے سوہنی کی محبت اور وفاداری کا پیغام اسے دیا۔ جس سے مہینوال کے عشق کی چنگاری پھر بھڑک اٹھی۔ پیغام رسانی کے بعد مہینوال رات کو دریا پار کر کے سوہنی سے ملاقات کے لیے آنے لگا۔ وہ روزانہ آتے ہوئے تازہ مچھلی بھون کر اس کے لیے ساتھ لے کر آتا۔

سلسلہ چلتا رہا کہ ایک روز مہینوال معمول کے مطابق آیا تو نحیف اور زخمی زخمی لگ رہا تھا اس نے کباب سوہنی کو دیے تو اس نے کھا کر کہا کہ یہ روز کی مچھلی کی طرح مزیدار نہیں ہیں۔ اور پھر اس کی نقاہت اور خون رسنے کا پوچھا تو معلوم ہوا کی آج مہینوال کو مچھلی نہیں ملی تو اس نے اپنی ران سے گوشت کاٹ کر کباب بنا لیے اور اس کے لیے لے کر آیا ہے۔ سوہنی اس کا انداز محبت دیکھ کر دھنگ رہ گئی اور کہا کہ تمہیں زخمی حالت میں دریا پار نہیں کرنا۔

کل سے میں تمہیں ملنے آؤں گی۔ وہ تیرنا نہیں جانتی تھی چنانچہ اس نے ایک گھڑا لیا اور رات کو اسے ملنے گھڑے کے سہارے دریا پار پہنچی۔ واپسی پر دریا کنارے جھاڑیوں میں گھڑا رکھ دیتی اور اگلی رات اسے لے کر دریا پار کرلیتی۔ ایک روز اس کی نند جاگ رہی تھی اس نے سوہنی کو جاتے دیکھا تو اس کا چپکے چپکے پیچھا کیا کہ وہ کیا کرتی ہے، کہاں جاتی ہے۔ سب دیکھنے کے بعد اس نے سوہنی کے خلاف گھناؤنا پلان بنایا۔ غیرت، حسد اور جلن کی ملی جلی کیفیت میں نند نے اگلے دن چپکے سے ایک نیم پکا کچا گھڑا سوہنی کے گھڑے کی جگہ رکھ دیا اور اس کا گھڑا اٹھا لائی۔

اگلے روز موسم خراب تھا، آسمانی بجلیاں کڑک کڑک کر نند کی سازش کا حال بیان کر رہی تھیں۔ تاریک فضا میں مہیب بادل نند کی چال کی گہرائی بتا رہے تھے۔ لیکن کیا کہنے عاشقوں کے، محبت اندھی ہی نہیں بہری بھی ہوتی ہے۔ دل والوں کو چین نہیں آتا۔ ، موسم کی خرابی کے باوجود وہ معمول کے مطابق رات کو اٹھی اور جا کر اپنا گھڑا اٹھایا۔ اسے شک ہوا کہ یہ وہ گھڑا تو نہیں لیکن تاریکی اور بے قراری کے باعث وہ جلدی جلدی گھڑے کو لے کر ماہی سے ملنے دریا میں کود گئی ابھی تھوڑی دور ہی گئی تھی کہ اسے گھڑے کے پگھلنے کا احساس ہونے لگا اب دریا کی تیز لہریں اسے بہانے لگیں تو اس نے زور زور سے مہینوال کو آوازیں دینا شروع کر دیں۔

مہینوال نے کچھ انتظار کیا لیکن سوہنی نہ پہنچی تو اس کو بچانے کے لیے سوہنی سوہنی پکارتے دریا کی تلاطم خیز موجوں میں کود گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا، کیسے ہوا، یہ سب کون کہے اور کون سنے۔ ۔ ۔ دریا کی بہتی موجوں کا رزق ہو کر دونوں امر ہو گئے۔ گنیش داس بیڈھیرا کا کہنا ہے کہ رالیالہ گاؤں کے قریب ہی سوہنی مہینوال ملتے تھے۔ اس روز ڈوبتے وقت سوہنی نے رالیالہ کے لوگوں کو بد دعا دی تھی شاید اسی لیے آنے والے دنوں میں یہ گاؤں دریا برد ہوگیا۔ اور گنیش داس کے مطابق اب صرف اس کا نام باقی رہ گیا ہے۔ رالیالہ اس وقت کی انتظامی تقسیم کے مطابق ٹپہ جیوا وڑائچ کا حصہ تھا۔ جس میں اس وقت 18 دیہات شامل تھے۔

لوگ پوچھتے ہیں ان کی لاشیں کدھر گئیں؟ کہا جا سکتا ہے کہ چناب کا بہاؤ سوہنی مہینوال کی اجتماعی قبر بن گیا۔ تاہم اس حوالے سے بھی کئی روایات ہیں۔ پنجاب کے دریا ایک مقام پر دریائے سندھ میں ملتے ہیں اس لیے گمان یہی ہے کہ گہرے پانی کی تیز لہریں انہیں بہاتے ہوئے سندھ لے گئیں۔ سندھ کے شہر شہداد پور میں دو لاشیں پانی میں بہتی ہوئی ملیں جنہیں ایک بیان کے مطابق کچھ لوگوں کی شناخت کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا۔

ایک روایت کے مطابق دونوں کو اکٹھے ایک ہی جگہ دفن کیا گیا لیکن یہ روایت ہماری تہذیبی اور ثقافتی روایات سے متصادم ہے اس لیے شہداد پور میں الگ الگ مقام پر دو قبریں ہیں۔ مائی سوہنی کے قبرستان میں سوہنی کا مزار ہے اور پر ہجوم سنار بازار کے درمیان مہینوال کی قبر ہے۔ شاہ لطیف اکثر سوہنی کے مزار پر حاضری دینے آتے اور ساری ساری رات گاتے رہتے تھے۔ عقیدتمند اس مزار کو محبت کا مندر سمجھتے ہیں۔ محبت کرنے والے آج بھی وہاں آتے ہیں اور سوہنی کے قدموں میں دیے جلاتے ہیں۔ سندھ میں قبریں ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ یہ خیال رکھتے ہیں کہ یہ وسطی پنجاب کے گجرات کا قصہ نہیں ہے بلکہ سرائیکی وسیب کے قصبہ گجرات کی بات ہے ویاں سے لاشیں بہہ کر سندھ پہنچی تھیں۔ لیکن داستان کے باقی رنگوں کی خوشبو جنوبی پنجاب کے قصبہ گجرات سے نہیں آتی۔

سوہنی مہینوال کو امر کر دینے والے چناب کو عاشقوں کے دریا کی شہرت بھی اسی داستان کی وجہ سے ملی۔ سوہنی مہینوال کی داستان پنجاب اور سندھ کے چوپالوں کی صدیوں پرانی کہانی ہے۔ اسے پنجاب کی سب سے زیادہ غمزدہ اور المیہ رومانوی داستان بھی کہا جا سکتا ہے۔ ایسی داستانیں محض لوگوں کی تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ ذہنی و نفسیاتی تربیت کا وسیلہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔ یہ حساس طبع شعراء اور قلمکاروں کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔

بیسیوں شعراء و لکھاریوں نے اس کو اپنی تخلیقات کا محور بنایا ہے۔ پنجابی میں فضل شاہ، میاں محمد بخش، ہاشم شاہ، مولوی رکن الدین و دیگر نے فارسی میں پہلی مرتبہ 1841 ء میں محمد صالح نامی شاعر نے اسے موضوع بنایا۔ سرائیکی میں 1857 ء کے لگ بھگ امام بخش شیروی بعد ازاں احمد بخش غافل وغیرہ نے اس پر لکھا۔ لوک ادب سماجی حدود پھلانگ کر محبت و الفت کے عہد و پیمان نبھانے والوں کو ہیرو اور ہیروئن کے طور پر پیش کرتا ہے۔

جس کردار کو افراط و تفریط کا شکار سماج نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے وہی کردار لوک ادب کی جان بن جاتا ہے۔ سوہنی مہینوال جیسی لوک داستان بظاہر عشقیہ المیہ ہے لیکن اس سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ انسان نے اپنی رومانوی ترقی کو کسی عہد اور کسی حال میں بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ان داستانوں کے رقم ہونے کے ادوار کا ناقدانہ جائزہ بتاتا ہے کہ اس دور میں پنجاب سماجی تغیر و تبدیلی کے عمل سے گزر رہا تھا۔ اسی لیے مہینوال کی موت کو ایک تہذیب کا خاتمہ اور دوسری تہذیب کی ابتداء قرار دیا جاتا ہے۔

عام طور یہی کہا جاتا ہے کہ مرد عورت کے لیے آسمان سے تارے بھی توڑ لاتا ہے لیکن عورت کیا کرتی ہے؟ اس داستان میں عورت اپنے ماہی کے لیے کچے گھڑے پر تیر جاتی ہے۔ جان کی پرواہ نہیں کرتی اور عورت کے بارے پرانے اسطوروں پر پانی پھیر دیتی ہے۔ فضل شاہ نے عشق کے محاورے میں مہینوال کو مغلیہ تہذیب کے زوال کی علامت بنا کر پیش کیا ہے۔ سوہنی مہینوال سمیت لوک داستانیں اصل میں لوکائی کی سچی تاریخ ہیں۔ ان داستانوں سے آگاہی کے بغیر عوامی فکر کا ارتقاء ممکن نہیں۔

لوک ادب کا فہم ہمیں مضبوط فکر انسان بنا سکتا ہے۔ اسی کی بدولت ہم کئی گمشدہ حقیقتوں کو تلاش کرنے کی ہمت اور جرأت کر پائیں گے۔ ہماری آج کی نسل کا سب سے بڑا مسئلہ تخیل ہے۔ کمزور تخیل کی وجہ سے ہم دوسروں کے ذہنوں سے سوچنے پر مجبور ہیں۔ تخیل کی پرواز کے بغیر عمل کی تعبیر ممکن نہیں۔ نئی نسل کو سوچنے، غور و فکر کرنے اور ان کی قوت تخیل کو مستحکم کرنے کے لیے انہیں لوک داستانوں سے متعارف کروانا ناگزیر ہے تاکہ مضبوط تخیل جنم لے سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •