کلبھوشن جادھو: پاکستان میں قید مبینہ انڈیبن جاسوس کے لیے انڈیا نے ہریش سالوے کو نامزد کیا ہے

مانسی دشا - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی جیل میں قید مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے مقدمے کی پیروی کے لیے کوئنز کاؤنسل ہریش سالوے کو مقرر کرنا چاہتا ہے۔

ہریش سالوے انڈیا کی سپریم کورٹ کے ایک سینیئر وکیل ہیں اور انھوں نے عالمی عدالت انصاف میں بھی کلبھوشن جادھو کے وکیل طور پر ان کے مقدمے کی پیروی کی تھی۔

اس برس اگست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے کہا تھا کہ انڈیا کو کلبھوشن جادھو کے لیے ایک وکیل مقرر کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ حالانکہ اس کے بعد پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا تھا کہ مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے لیے انڈیا کو ایک ایسے وکیل کی تقرری کرنا ہوگی جو پاکستان میں رہتے ہوں اور وہیں اس پیشے سے وابسطہ ہوں یعنی ایک پاکستانی وکیل کو یہ ذمہ داری دی جائے۔

اس کے بعد اب انڈیا نے کلبھوشن جادھو کے مقدمے میں پیروی کرنے کے لیے نامور وکیل ہریش سالوے کا نام تجویز کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کلبھوشن جادھو کیس: کون جیتا، کون ہارا

’انڈیا اور کلبھوشن جادھو کو قانونی نمائندہ مقرر کرنے کی دوبارہ پیشکش کی جائے‘

کلبھوشن جادھو: ’انڈین سفارتکاروں نے بات ہی نہیں کرنی تھی تو رسائی کیوں مانگی‘

کلبھوشن کی سزا پر ’نظرِثانی‘ کس فورم پر ممکن ہے؟

ہریش سالوے کون ہیں؟

ہریش سالوے ایک طویل عرصے تک مرکز میں کانگریس کے مختلف دور اقتدار میں وزیر رہنے والے این کے پی سالوے کے فرزند ہیں۔ 45 برس کے اپنے وکالت کے کرئیر میں وہ کئی کارپوریٹ گھرانوں کے وکیل رہ چکے ہیں۔ ان کا شمار ملک کے مہنگے ترین وکلاء میں ہوتا ہے۔

ناگپور میں پلے بڑھے سالوے کے والد، این کے پی سالوے چارٹیڈ اکاؤنٹنٹ تھے۔ ان کی والدہ پیشے سے ڈاکٹر تھیں اور ان کے دادا بھی فوجداری قانون کے ایک نامور وکیل تھے۔

ہریش سالوے کا خیال ہے کہ ان کا خاندانی پس منظر کچھ ایسا تھا کہ بہت کم عمر میں وہ پیشہ وارانہ طریقے سے سوچنے لگے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے والد کے عہدے اور روابط کا سالوے کو بہت فائدہ ہوا۔

ان کے قانونی کرئیر کا آغاز 1975 میں اداکار دلیپ کمار کے اس کیس سے ہوا تھا جس میں وہ اپنے والد کے اسسٹنٹ تھے۔ دلیپ کمار پر کالا دھن رکھنے کا الزام لگا تھا۔ انکم ٹیکس کے محکمے نے ان کو نوٹس بھیجا اور باقی ٹیکس کے ساتھ بھاری حرجانہ بھی طلب کیا تھا۔

1992 میں دلی ہائی کورٹ نے سالوے کو سینیئر وکیل بنا دیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے امبانی، مہندار اور ٹاٹا جیسے نامور کارپوریٹ گھرانوں کی عدالت میں نمائندگی کی۔ مشہور ‘کے جی بیسن’ کیس میں جب امبانی بھائیوں کے درمیان اختلافات ہوئے اور بات عدالت تک پہنچی تو مکیش امبانی کے مقدمے کی پیروی انھوں نے ہی کی تھی۔

بھوپال گیس سانحہ کے بعد یونین کاربائیڈ کیس کی سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں انھوں نے کمپنی کے مالک کیشیب مہندرا کا موقف پیش کیا تھا۔ عدالت نے مہندرا سمیت یونین کاربائیڈ کے سات اہلکاروں کے خلاف غیر ارادی قتل کے الزامات کو خارج کر دیا تھا۔

بدنام زمانہ نیرا راڈیا ٹیپ سامنے آنے کے بعد رتن ٹاٹا پرائیوسی کی خلاف ورزی کے سوال پر سپریم کورٹ گئے تھے۔ اس وقت بھی ان کے وکیل ہریش سالوے ہی تھے۔

انھوں نے ووڈا فون کمپنی کو بھی 14200 کروڑ کی مبینہ ٹیکس چوری کیس میں فتح دلوائی تھی۔

سپریم کورٹ نے گجرات فسادات کے معاملے میں سالوے کو ‘ایمیکس کیوری’ منتخب کیا تھا لیکن فسادات کے بعض متاثرین نے سالوے پر مفاد عامہ کی مخالفت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

1999 میں این ڈی اے کی حکومت کے زمانے میں انھیں انڈیا کا سولیسیٹر جنرل متنخب کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر محض 43 برس تھی۔ وہ 2002 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

کلبھوشن جادھو کے لیے ہریش سالوے ہی کیوں؟

پاکستان کی جیل میں قید کلبھوشن جادھو کو وہاں کی فوجی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی

AFP
کلبھوشن جادھو

ہریش سالوے نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس یعنی عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن جادھو کا کیس لڑا تھا۔ ہریش سالوے کا شمار ملک کے مہنگے ترین وکلاء میں ہوتا ہے لیکن اس معاملے میں انھوں نے فیس کے طور پر صرف ایک روپیہ لیا تھا۔ اس کے لیے اس وقت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

سشما سوراج

BBC
کلبھوشن جادھو کے معاملے میں ہریش سالوے نے اپنی فیس کے طور پر صرف ایک روپیہ لیا تھا۔ اس کے لیے اس وقت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

جولائی سنہ 2019 میں عالمی عدالت انصاف نے دہشت گردی کے الزامات میں پاکستان کی فوجی عدالت سے موت کی سزا پانے والے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو سے متعلق انڈیا کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کو انھیں قونصلر رسائی دینے اور سزا پر نظرِثانی کرنے کا حکم دیا تھا تاہم ان کی بریت کی درخواست رد کر دی گئی تھی۔

عدالت نے کہا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی کی سہولت نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے

واضح رہے کہ پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے اپریل 2017 میں کلبھوشن جادھو کو جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا سنائی تھی جبکہ حال ہی میں زیر حراست مبینہ انڈین جاسوس نے اپنی سزا کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے بجائے وہ اپنی رحم کی اپیل کے پیروی جاری رکھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15510 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp