معاشرے میں مرد کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مرد کوئی الگ مخلوق ہے کیا!

عمر بھر ہم باپ بھائی ماموں نانا دادا کتنے رشتوں کے روپ میں مردوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن کبھی ہمیں اپنے غیر محفوظ ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ جب یہی مرد گھر سے باہر نکلتا ہے تو معاشرے کے لئے ایک مشکوک چیز بن جاتا ہے۔ پھر کہیں معصوم بچی کلیوں کی طرح روند دی جاتی ہے تو کہیں لڑکی کی عزت کی دھجیاں اڑتی ہے اور تو اور لڑکے بھی اس عذاب کا سامنا کرتے ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ جانور بھی اس نجاست سے محفوظ نہیں۔ جبکہ جنگل میں یہی جانور محفوظ ہیں وہاں انہیں ایسی کسی حرکت کو جھیلنا نہیں پڑتا۔

چڑیا کے گھونسلے میں چھانک کے دیکھا جائے تو چڑیا اور چڑا دونوں ہی اپنے بچوں کو اپنے پروں میں سمیٹ کر بیٹھتے ہیں، ان کے سر سہلاتے ہیں، چڑیا ماں ہے تو چڑا باپ لیکن دونوں اپنی شفقت اپنے بچوں پہ نچھاور کرتے ہیں۔ یہی طرز عمل ہر جانور کے جوڑے کا ہے۔

انسانوں کی جب بات آتی ہے تو محبت، پیار اور نرمی ماں کے حصے میں ڈال دی جاتی ہے جبکہ رعب، غصہ اور دبدبہ باپ کے کھاتے میں۔ پھر پروان چڑھتا ہے ایک ایسا انسان جو مرد کو طاقت کے روپ میں ہی دیکھتا ہے، عورت کمزور نظر آنے لگتی ہے۔ باپ سے دوری پیدا کردینے والا یہ خاموش عمل در حقیقت ایک بیچ ہے جو بچپن ہی سے بچوں کے دل میں بو دیا جاتا ہے۔ بچیاں اپنی نرم خو بناوٹ کی بدولت اس کا اتنا اثر نہیں لیتی جتنا لڑکے اس کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔

تعلیم شعور اور آس پاس کا ماحول بہت حد تک ایسے انسان کو بگڑنے نہیں دیتا۔ لیکن اگر ایسے حالات میسر نا ہوں تو بگڑتی شخصیت گہری کھائی میں گرتی چلی جاتی ہے۔ کب تک سزائیں دی جاتی رہیں گی؟ کب تک ایسے واقعات ہوتے رہیں گے؟ یہ معاشرتی بیماری ہر گھر کو کہیں نا کہیں اپنی ذمہ داری لینے پہ مجبور کرے گی۔

جہاں ہمیں اپنے ارد گرد کے ماحول پہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے وہاں گھر میں مرد حضرات کو چاہیے کہ بچپن ہی سے گھر میں موجود لڑکوں کو اولاد نرینہ سمجھ کر بے لگام چھوڑدینے یا تمام تر ذمہ داری ماں کے کاندھوں پہ ڈالنے کے بچائے انہیںں اپنے قریب رکھیں۔ شفقت سے ان کے سروں پہ ہاتھ پھیریں، انہیں یہ احساس دلائیں کہ بڑے ہوکر انہیں گھر کا ہی نہیں بلکہ معاشرے کا بھی ایک مضبوط انسان بننا ہے۔ تو شاید اس بگڑتے گھناؤنے معاشرے میں کچھ سدھار آنا شروع ہو جائے۔

ورنہ تو پچھلے کئی برس سے جاری یہ بحث آئندہ کئی برس تک چلتی رہے گی کہ عورت نے چست لباس پہن کر فحاشی کو دعوت دی، بچی کو اکیلے باہر کیوں جانے دیا وغیرہ وغیرہ۔

ہمیں اپنی بنیادیں درست کرنا پڑیں گی وگرنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •