جنسی جرائم پر سخت سزائیں :عمران خان کی تجویر پر تنقید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے جنسی جرائم میں ملوث افراد کے لیے سخت ترین سزاؤں کی تجویز دی ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے کہا ہے کہ معاشرے سے جنسی تشدد، جنسی زیادتی، گینگ ریپ ختم کرنا ہے تو پولیس اور انصاف کے محکموں کی از سر نو تشکیل کی جائے۔ سخت سزاؤں کو گنوانا وزیر اعظم کی عوامیت پسند بیان بازی سے زیادہ نہیں۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ معاشرے سے جنسی تشدد کے خاتمے کے لیے ملوث افراد کو سخت ترین سزائیں ملنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یا تو ایسے مجرموں کو سر عام پھانسی دی جانے چاہیے یا انہیں کیمیائی مواد کے ذریعے بانجھ بنا دیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم عمران خان نے ایک مقامی نیوز چینل کو انٹرویو میں اس وقت پورے پاکستانی معاشرے کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ریپ کے موضوع پر پر بات کی۔ چند روز قبل لاہور کے نزدیک موٹر وے پر ایک خاتون کو جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے اس حالیہ واقعے سے ہے جو پورے ملک میں غم و غصے کی لہر کا سبب بنا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ موٹر وے پر ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے نے ’پوری قوم کو لرزا کر دیا ہے، کیونکہ ایسا کسی کی بھی بہن یا بیٹی کے ساتھ ہو سکتا تھا۔‘ وزیر اعظم نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ انہیں پولیس سے یہ جان کر شدید دھچکا لگا کہ ملک میں ’جنسی جرائم‘ بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم نے جنسی جرائم کے مرتکب افراد کو مثالی سزا دینے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں ایسے مجرموں کی سزا ’سر عام پھانسی‘ ہونی چاہیے۔ عمران خان کا تاہم کہنا تھا کہ، ”بیچ چوراہے پر پھانسی پر لٹکانے کی سزا خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مجرموں کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔“

وزیر اعظم کے ان بیانات پر پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں، سرگرم عناصر، وکلا اور مختلف حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”عمران خان صاحب کی نیت پر تو میں شک نہیں کر سکتا کیونکہ وہ بھی اتنے ہی پریشان ہوں گے، جتنے کے پاکستان کے باقی تمام شہری ہیں۔ مگر ان کا بیان نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے۔

کسی وزیر اعظم سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ”حارث خلیق کہتے ہیں کہ وزیراعظم اپنے بیان میں زور اس بات پر دے رہے تھے کہ مجرم کو سزا کتنی سخت دی جائے جبکہ انہیں اس امر پر زور دینا چاہیے کہ ان اسباب کو کس طرح ختم کیا جائے۔ ان وجوہات کو کس طرح دور کیا جائے جو اس قسم کے جرائم کے ارتکاب کا سبب بنتے ہیں۔

حارث خلیق نے وزیر اعظم کے اس بیان پر بھی روشنی ڈالی جس میں انہوں نے مغربی معاشروں پر تنقید کی۔ حارث خلیق کے بقول عمران خان مغربی سماج کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ جن باتوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ تنقید کرتے ہیں وہ مغربی معاشروں میں پہلے سے ہو رہی ہیں، وہاں موجود ہیں۔ ’سیکس آفنڈرز‘ کے رجسٹر کے بارے میں وزیر اعظم کے بیان کو حارث خلیق نے ایک درست عمل قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا، ”ایک طرف تو عمران خان صاحب کہتے ہیں کہ معاشرے میں فحاشی اور عریانی بڑھ رہی ہے دوسری جانب یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارا فیملی سسٹم یا خاندانی نظام جام ہے تو یہ کچھ مبہم قسم کی باتیں ہیں۔ پاکستان کو ایک واضح لائحہ عمل اور سوچ کی ضرورت ہے۔ جنسی تشدد اور انتشار کو کیسے دور کیا جائے اس کا کوئی واضح منصوبہ ان کے ذہن میں نہیں ہے۔“

پاکستان میں انصاف کا نظام کیوں ناقص ہے؟

جب سے موٹر وے پر ایک خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کا واقعہ پیش آیا ہے تب سے یہ موضوع زبان زد عام ہے۔ بہت سے حلقے لاء اینڈ آرڈر اور انصاف کے نظام سمیت عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے ذمے دار اداروں کی نا اہلی اور ان میں پائی جانے والی کمزوریوں پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حارث خلیق نے کہا، ”پاکستان کا جرم و سزا کا نظام اور پولیس کا ادارہ نو آبادیاتی دور کا فرسودہ اور بہت زیادہ مسائل کا شکار ہے۔ اس ادارے میں اب محض اصلاحات سے کام نہیں ہوگا بلکہ اس کی از سر نو تشکیل کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے کوئی حکومت تیار نہیں ہوتی اور اس بنا پر بہت سے مجرم آزادانہ گھومتے رہتے ہیں، ان کی کوئی پکڑ نہیں ہے۔ پولیس محکمے کے لوگ خود بہت سے جرائم میں شامل ہوتے ہیں۔ ایک میجر اسٹرکچرل تبدیلی کی ضرورت ہے۔“

کیا عمران خان کی ریپ کرنے والوں کو کیمیائی طریقے سے جنسی طور پر ناکارہ بنا دینے کی تجویز کار آمد ثابت ہو سکتی ہے؟ اس کے جواب میں حارث خلیق نے کہا، ”پاکستان میں سخت سے سخت سزا کا نفاذ اس لیے مشکل ہے کیونکہ پولیس اور عدالتی نظام قابل بھروسا نہیں۔ ایسے میں کوئی بھی اٹل سزا کیسے ممکن ہے۔ اس لیے مجرم یا فرد واحد کے لیے جرم کی سزا کیا ہونی چاہیے اس پر زور دینے کی بجائے ایسے جرائم کے ارتکاب کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ بطور وزیر اعظم وہ اس وقت عوامی جذبات کی بھڑکتی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے عوامیت پسند بیان کے طور پر سخت سے سخت سزائیں تو تجویز کر سکتے ہیں مگر یہ مسائل کا حل نہیں ہے“ ۔

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے زنا، اجتماعی جنسی زیادتی اور جنسی تشدد سمیت ایسے تمام جرائم کے سماجی اسباب پر غور و فکر پر زور دیا اور انہیں دور کرنے کو وقت کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے ہر قسم کے جرائم کے لیے ’آفینڈرز رجسٹر‘ کو بہت اہم قرار دیا تاکہ ان جرائم کا ریکارڈ موجود ہو۔ اس کے لیے پولیس اور عدالتی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
بشکریہ ڈی ڈبلیو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشور مصطفیٰ

یہ مضامین ڈوئچے ویلے شعبہ اردو کی سیینیئر ایڈیٹر کشور مصطفی کی تحریر ہیں اور ڈوئچے ویلے کے تعاون سے ہم مضمون شائع کر رہے ہیں۔

kishwar-mustafa has 42 posts and counting.See all posts by kishwar-mustafa