گلگت بلتستان الیکشن: کیا کسی پارٹی کے پاس منشور بھی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ زمانے لد گئے جب سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ ایک طویل جدوجہد کے بعد اس قابل ہوتی تھیں کہ زمام کار سنبھالے ابھی تو نو دولتیے اور موقع پرست ہی اقتدار کے فوائد سمیٹ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے ارتقاء اور مقبولیت میں صرف خالی خولی نعرے نہی ہوتے بلکہ مستقبل کی باقاعدہ منصوبہ بندی ہوتی ہے، جس کا خمیر عوام کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کے عنوان سے اٹھایا جاتا تھا۔ اس ضمن میں منشور خشت اول کا کام کرتا ہے اور عوام میں جڑیں رکھنی والی جماعتوں کے ہاں منشورات جز وقتی ووٹرز کو بہلانے پھسلانے کے لئے نہی بلکہ گراس روٹ پر طویل مشاورت کے بعد حقیقی، قابل عمل منصوبہ بندی اور لائحہ عمل کا نام ہے۔

ملکی سطح پر بدلتے ہوئے معاشی و سماجی تغیرات کو دیکھتے ہوئے سیاسی جماعتیں اپنے لائحہ عمل میں بھی تبدیلی لاسکتی ہیں یوں کہا جاسکتا ہے کہ منشور اپنے بنیادی خدوخال کو برقرار رکھتے ہوئے نئے رحجانات کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ جدید سیاسی مفکرین کے مطابق کسی بھی جماعت کا منشور SMART ہونا چاہیے جس میں ”S“ نشاندھی کرتا ہے Specific کی کہ منشور مختص ہونا چاہیے، ”M“ اس بات کا مظہر ہے کہ منشور Measurable یعنی قابل پیمائش ہو یعنی کہ اس کا احاطہ ممکن ہو۔

جبکہ ”A“ اس بات کی علامت ہے منشور Attainable ہوں یعنی جو وعدہ کیا گیا ہے وہ قابل حصول ہوں نہ کہ ناقابل عمل باتیں۔ علاوہ ازیں ”R“ کہتا ہے کہ منشور Relevant ہو اور پھر ”T“ کے تحت Time bound ہو نہ کہ لامحدود مدت کی کہانی۔ اگر ہم ملکی سطح کی سیاسی جماعتوں کے منشور دیکھ لیں تو معلوم ہوتا کہ ان متذکرہ بالا اشاریے شاید ہی بروئے خاطر لائے گئے ہوں۔

ان باتوں سے صرف نظر کر کے ہم فی الحال گلگت بلتستان کے ہونے والے الیکشن کے حوالے سے وفاقی سطح کی جماعتوں، مذہبی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں کی طرف دیکھتے ہیں تو ابھی تک کسی بھی پارٹی کا کوئی باقاعدہ منشور منظر عام پر نہیں آیا ہے گرچہ الیکشن بہت قریب ہے۔ اس امر سے لگتا ہے کہ تمام پارٹیاں الیکٹیبلز کو سمیٹنے کے چکر میں ہیں اور انہیں اس بات سے کوئی غرض وغایت نہی ہے کہ سماجی و سیاسی اور معاشی بہتری کے لئے اھداف کیا مقرر ہونے چاھئیں۔ جب کوئی پارٹی وجود میں آتی ہے اور خاص طور پر الیکشن میں اترتی ہے تو اس پر کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اول یہ کہ پارٹی کا جواز کیا ہے اور دوم کہ اس کے پاس بنیادی کیا پیغام اور پروگرام موجود ہے جسے وہ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھتے ہی عوام کی کی سماجی اور معاشی بہتری کے لیے عمل میں لائے گی۔

بنیادی ضرورتیں جو ک ناگزیر ہیں انہیں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) نے کٹیگریز میں ڈھالا ہے اور جسے یونائیٹڈ نیشنز کا چارٹر بھی تسلیم کرتا ہے وہ ہیں روٹی، کپڑا، مکان، صاف پانی، سینیٹیشن، تعلیم، سفری اور صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع۔

اگر ہم گلگت بلتستان کے حوالے سے بات کریں تو کسی بھی پارٹی کا منشور جو کہ SMART ہو اور ان بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی جامع حکمت عملی رکھتا ہو نظر سے نہیں گزرا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے بڑے بڑے گاؤں بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں اب ان گاؤں میں رورل کے بجائے اربن کلچر فروغ پا رہا ہے۔ تمام ضلعوں کے ہیڈکوارٹرز بے ہنگم طریقے سے پھل پھول رہے ہیں۔ کوئی ٹاؤن پلاننگ نہیں، سیوریج کا نظام سرے سے ہے نہیں، کوئی بلڈنگ کوڈز پر عملدرآمد نہیں ہر کسی کی مرضی ہے جیسا تیسا سٹریکچر کھڑا کرے۔

بیسک ہیلتھ یونٹس جو کہ صحت کی ابتدائی سہولیات کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہیں بے توجہی کا شکار ہیں، مرکزی ہسپتالوں میں ڈاکٹر کم، ٹسٹ کی محدود سہولیات، تعلیمی شعبہ زبوں حالی کا شکار اور سفری سہولیات پر تو کچھ کہنا ہی عبث ہے۔ کیا نئے الیکشن میں اترنے والی جماعتوں کے پاس اس حوالے سے کوئی پلاننگ موجود ہے؟ گلگت بلتستان سی پیک کا دروازہ ہے مگر ہم اس سے بے خبر ہیں، ہر طرف اکنامک زون کا شور ہے ہمیں پتہ ہی نہی کہ اکنامک زون کیا ہے اور گلگت بلتستان نے اس سے کیا فوائد حاصل کرنے ہیں۔

سی پیک کے تحت ملکی سطح کے علاوہ سنٹرل ایشیا اور مڈل ایسٹ تک تجارت ہونی ہے اس کا ہمیں ٹیکس کی صورت میں کیا ریونیو ملنا ہے؟ گلگت بلتستان میں ہائیڈرو پاور کا جو پوٹینشل ہے اس میں انٹرنیشنل انوسمینٹ لاکر کس طرح معیشت اور انڈسٹری کو دوام دی جاسکتی ہے۔ تمام کا تمام علاقہ منرلز اور قیمتی پتھروں کے خزانوں سے بھرا پڑا ہے اور ہم سوکھی روٹی کھا رہے ہیں۔ ٹوارزم کے لئے ہر طرف پہاڑ، دریا، چراگاہیں، جھیلیں، قدرتی مناظر بانہیں کھولے موجود ہیں کیا ہم فوائد اٹھا پا رہے ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے الیکشن کے لئے اب سیاسی جماعتوں کے پاس کیا لائحہ عمل اور پروگرام موجود ہے یا صرف ماضی کے قصے کہانیوں، جذباتی مذہبی تقریروں اور سابقہ حکومتوں کو ہدف تنقید کے علاوہ کچھ نیا بھی ہے یا وھی چال بے ڈھنگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •