جمہوریت اور سماجی ذرائع ابلاغ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حریت فکر اور آزادیٔ صحافت کے بغیر جمہوریت ایسے ہی ہے جیسے بنا ریڑھ کی ہڈی کے انسان یعنی وجود ضرور ہے مگر اس میں تقویت نہیں ہے۔ جمہوریت کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اسے کلی طور پر نافذ کیا جائے۔ حتی کہ ایک بنیادی عنصر کی کمی اس کی اساس کو کمزور کر دیتی ہے۔ موجودہ دور میں جمہوریت ایک ایسے خطرے سے نبردآزما ہے جس کو پروان چڑھانا خود اسی کے بنیادی نکات میں شامل تھا اور رہے گا۔

جمہوریت کا تصور عظیم یونانی مفکر ہیروڈوٹس کے زمانہ سے موجود ہے جس کو بعد ازاں ارسطو نے یہ کہہ کے رد کیا کہ کار حکومت ایک ہجوم کو تفویض کر دیا جاتا ہے تاہم برطانوی پارلیمانی نظام، انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب نے اسے نئی جہت اور قبولیت بخشی۔ طریقۂ انتخاب پر مبنی اس طرز حکومت میں آمریت مطلقہ یا اقتدار ذاتی کی جگہ عوام کے پاس اقتدار رکھا جاتا ہے جو رائج الوقت طریقہ رائے شماری سے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ تمام شہری بلحاظ حقوق خواہ وہ سیاسی ہوں، اقتصادی ہوں یا معاشرتی؛ برابر تصور کیے جاتے ہیں۔ آزادیٔ اظہار کو ہر صورت تحفظ فراہم کرنا جمہوریت کے بنیادی خصائص میں شامل ہے۔ اسی نظریہ نے معلومات کی آزادانہ ترسیل، بلا رکاوٹ ترویج اور وسیع پیمانے پر رسائی کو یقینی بنایا جس سے جمہوریت مضبوط تر ہوتی گئی۔

پندرہویں صدی میں چھاپہ خانہ کی ایجاد نے سماجی دائرہ کار کو وہ وسیع انقلاب مہیا کیا کہ معلومات کی ترسیل اور عوام تک رسائی میں جدت آ گئی۔ نوشتہ دیوار تھا کہ اب ذرائع ابلاغ کی عمومی سطح تک رسائی ہو گی جس سے ریاستی و سماجی معاملات سے متعلق حقائق اور فیصلوں کو عوام تک منتقل کیا جا سکے گا۔ جمہوریت نے یہ طے کر دیا کہ ازکار رفتہ نظام جو ایک خاص شخص یا گروہ کو نفع دیتا تھا اور جہاں عوام کو کار سرکار میں حصہ تصور نہیں کیا جاتا تھا وہ اب ختم ہو گا۔

یہ سب ذرائع ابلاغ میں رکاوٹ کے باعث ممکن نہ ہو سکتا تھا۔ عصر حاضر میں یہ بار سماجی روابط کے ذرائع جسے سوشل میڈیا کہا جاتا ہے، کے کشادہ مگر نحیف کندھوں پر آن گرا ہے کیونکہ اب زمانہ کاغذی اشاعت سے آگے نکلتا جا رہا ہے۔ چند نکات پر روشنی ڈالتے ہیں جس سے مقدمہ کے دونوں پہلوؤں کا ایک مدلل تجزیہ پیش کرنے میں آسانی رہے گی۔

اکیسویں صدی کے متعدد روشن کارناموں میں سے ایک سماجی ذرائع ابلاغ کا بام عروج حاصل کرنا ہے۔ قریباً دو دہائیوں سے بھی کم اس سفر میں وہ انقلاب برپا ہوا ہے جو شاید پچھلی کئی صدیوں سے افضل ہے۔ 2011 کا عرب بہار اسی جدت کے مرہون منت ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ شہریت پر مرکوز حکمرانی کو تقویت دے رہے ہیں جس سے عوام میں اجتماعی شعور اور آگہی ممکن ہوئی ہے۔ شہری بصورت منظم سماج کسی ایک تحریک کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں اور یوں مقتدر حلقوں تک اپنی رائے باآسانی پہنچاتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مقیم افراد اجتماعی سوچ کے نیچے جمع ہوتے ہیں۔ اس سے نظریے کو طاقت ملتی ہے اور یہی میڈیا کو جمہوریت کا پانچوں رکن تسلیم کروانے میں بنیادی قوت فراہم کرتا ہے۔

حریت فکر اور رائے کے آزادانہ اظہار نے سیاسی نظام کی تشکیل اس طرز پر کر دی ہے کہ یہ مختلف مکتبہ فکر کے حامل افراد کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت بڑھاتا جا رہا ہے اور یوں فرد خود کو رائج نظام کا حصہ تصور کرتا ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ نے منفرد نوعیت کی آراء کو پنپنے اور ترویج و ترسیل کا موقع دیا ہے جس سے عوام کا سیاسی نظام سے رشتہ وسیع پیمانے پر ترتیب پا چکا ہے۔ روابط کی آسانی سے سیاسی نظام منظم اور مربوط ہوا ہے۔

سماجی ذرائع ابلاغ نے رویوں کی تصحیح اور تبدیلی کا فریضہ بھی سرانجام دیا ہے جہاں یہ کسی خاص فکر یا سوچ کی نشو و نما اور لوگوں تک رسائی میں بہترین معاون ثابت ہوا ہے۔ مختلف سماجی و سیاسی تحریکوں کی کامیابی اس کا ثبوت ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں شجر کاری کی مہم۔ اسی طرز پر بھارت کی ایک تحریک “سواچ بھارت ابھی یان” جو کہ صفائی مہم تھی؛ کی کامیابی بھی اسی سماجی پلیٹ فارم کی مرہون منت ہے۔ سوچ یا بات کو جمیع اکثریت تک پہنچانا اس سے زیادہ سہل کہیں اور ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ سیاسی و سماجی راہنما اسے لوگوں سے رابطے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور بسا اوقات رائے شماری، پالیسی کے اعلان حتی کہ خارجہ پالیسی کی اشاعت کے لئے سماجی ذرائع ابلاغ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ امریکی صدر کا ٹویٹ کرنا اس کی سب سے واضح علامت ہے۔

عوام کا سوالی یا جوابی رویہ اور متفرق آراء کا اظہار جمہوریت کے فروغ کے لئے لازم ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ کو بوجوہ وسیع تر نفع جہاں غنیمت سمجھا جاتا ہے وہیں اس پر تنقید بھی لازم آتی ہے۔ کوئی بھی سہولت خامیوں سے مبرا نہیں ہوتی۔ پہلا نکتہ، چونکہ یہ آزادی اور بلا رکاوٹ فراہمی کے اصول پر قائم ہے تو اس پلیٹ فارم کو پاپولزم کی سیاست نے خوب استعمال کیا ہے۔ نفرتوں کو ہوا دی ہے اور تضادات کو مزید ابھارا ہے جس سے سماج طبقات میں منقسم ہو گیا ہے۔

ضوابط کی عدم دستیابی نے اسے شر انگیز عناصر کی کامیابی کا ذریعہ بنا دیا ہے جو بلا جھجک نفرت انگیز مواد شائع کرتے ہیں۔ برقی قوانین پر غیر موثر عمل اور ان کی خلاف ورزی ان افراد کا وتیرہ ہے جو ایسے ذرائع کو مغموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملے کی فوٹیج کا براہ راست نشر ہونا اس کی مثال ہے۔

انگریزی میں ایک اصطلاح جس کا اردو میں مناسب لفظ موجود نہیں، ”انفارمیشن کوکونز“ ہے جس کا مطلب ہے کہ معلومات کو ایک ایسے لبادہ میں تجسیم کرنا جس سے تفرقہ پیدا ہو۔ یہ گروہوں میں منقسم ہو کر ایک ایسی فکر کو تقویت دیتے ہیں جس سے فرد وہی سمجھتا ہے جو ان کا نظریہ ہوتا ہے۔ بحث و تمحیص کی عدم موجودگی سے گمراہی کا خدشہ پختہ ہو جاتا ہے اور یہ جمہوریت کے منافی ہے۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور اس سے وہی نتیجہ اخذ کروانا جو منافع بخش ہو۔ یہ عمل بیشتر اوقات وٹس ایپ پیغامات کے ذریعے ممکن ہوتا ہے کیونکہ وہاں مستند اشاعتی و ترویجی پلیٹ فارمز دستیاب نہیں ہوتے۔

جمہوریت کے لیے سب سے بڑا ناسور جھوٹی خبریں ہیں کیونکہ یہ نہ صرف افراد میں تفریق کا باعث بنتی ہیں بلکہ گروہوں میں تقسیم کے عمل میں تیزی لاتی ہے جس سے نفرت کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ برقی شعور کی عدم موجودگی یا خاصی حد تک کمی ہے۔ جھوٹا مواد فرقہ واریت، بین المذاہب خلیج اور سماجی جذبات کے استحصال کا باعث بنتا ہے اور سماج منافرت کے ہاتھوں ایک کھلونا بن کر رہ جاتا ہے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ تمام افراد مجموعی طور پر ایک معاشرہ تشکیل دیں جہاں متفرق و منفرد نظریے کا احترام کیا جائے۔

سماجی ذرائع ابلاغ سے ایک اور بیماری نے جنم لیا ہے جسے ٹرولنگ یا تضحیک سے تعبیر کیا جاتا ہے جہاں اختلافی رائے کے حامل افراد کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مذہبی ہوں تو غیر مسلم یا کافر کا خطاب دیا جاتا ہے اور سیاسی ہوں تو غدار۔ انٹرنیٹ پر دھمکی آمیز پیغامات کا ایک سلسلہ چل نکلا ہے کہ جس سے اختلاف ہو اس کی ولدیت پر شبہ کیا جائے یا ماں بہن سے متعلق فحش زبان کا بے دریغ استعمال کیا جائے۔ بعض اوقات کسی کی آواز کو دبانے کے لئے ٹرینڈز بھی ترتیب دیے جاتے ہیں۔ ہزاروں نامعلوم افراد اس میں حصہ لیتے ہیں حتی کہ اصل مدعا دب جاتا ہے۔ فرحان ورک کا، الجزیرہ، کو دیا گیا انٹرویو اس بات کی مزید تصدیق کردے گا۔

جمہوریت کی بقا جس طوطے میں ہے وہ خود ہی اپنی جان لینے پر تلا ہوا ہے۔ جمہوریت کے بچاؤ کی خاطر ہمیں موثر برقی قوانین بنانے کی ضرورت ہے اور جو موجود ہیں ان پر من و عن سختی سے عمل درآمد مکمل حد تک درکار ہے۔ ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو جمہوریت کو تحفظ فراہم کریں۔ سچ کے بغیر جمہوریت کا وجود نہیں اور سچ حقائق پر مبنی ہوتا ہے اور حقائق کی فراہمی تبھی ممکن ہے جب ذرائع ابلاغ بلا رکاوٹ کام کریں۔ یہ بڑا نازک معاملہ ہے جس کی فہم انتہائی لازم ہے۔

مزید یہ کہ آگہی مہم کا انعقاد کیا جائے جو برقی خواندگی کو فروغ دے تاکہ سچ کو جھوٹ سے پاک کیا جا سکے اور ایسی تمام کثافتیں جو سماج میں رائج عوامی نظام کو آلودہ کرتی ہیں انہیں حذف کیا جاسکے۔
تب تک؛
اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حافظ محمد رمضان اسلم کی دیگر تحریریں