حریت فکر اور آزادیٔ صحافت کے بغیر جمہوریت ایسے ہی ہے جیسے بنا ریڑھ کی ہڈی کے انسان یعنی وجود ضرور ہے مگر اس میں تقویت نہیں ہے۔ جمہوریت کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اسے کلی طور پر نافذ کیا جائے۔ حتی کہ ایک بنیادی عنصر کی کمی اس کی اساس کو کمزور کر دیتی ہے۔ موجودہ دور میں جمہوریت ایک ایسے خطرے سے نبردآزما ہے جس کو پروان چڑھانا خود اسی کے بنیادی نکات میں شامل تھا اور رہے گا۔
جمہوریت کا تصور عظیم یونانی مفکر ہیروڈوٹس کے زمانہ سے موجود ہے جس کو بعد ازاں ارسطو نے یہ کہہ کے رد کیا کہ کار حکومت ایک ہجوم کو تفویض کر دیا جاتا ہے تاہم برطانوی پارلیمانی نظام، انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب نے اسے نئی جہت اور قبولیت بخشی۔ طریقۂ انتخاب پر مبنی اس طرز حکومت میں آمریت مطلقہ یا اقتدار ذاتی کی جگہ عوام کے پاس اقتدار رکھا جاتا ہے جو رائج الوقت طریقہ رائے شماری سے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ تمام شہری بلحاظ حقوق خواہ وہ سیاسی ہوں، اقتصادی ہوں یا معاشرتی؛ برابر تصور کیے جاتے ہیں۔ آزادیٔ اظہار کو ہر صورت تحفظ فراہم کرنا جمہوریت کے بنیادی خصائص میں شامل ہے۔ اسی نظریہ نے معلومات کی آزادانہ ترسیل، بلا رکاوٹ ترویج اور وسیع پیمانے پر رسائی کو یقینی بنایا جس سے جمہوریت مضبوط تر ہوتی گئی۔
Read more