نومبر کا آخری ہفتہ اور سپہ سالار

بلی ماراں کے محلے کی پیچیدہ گلیوں میں ایک بے نور اندھیری سی گلی قاسم میں داخل ہوں تو ایک بلبل نوحہ گاتی سنائی دیتی تھی۔ ”میں عندلیب گلشن نا آفریدہ ہوں“ یعنی میں اس گلشن کی بلبل ہوں جو ابھی وجود میں نہیں آیا۔ اختر حسین جعفری بھی ایک ایسی ہی عندلیب تھی جو ملہار کے بجائے حزن کا گیت گاتے سرحد پار کر آئی اور گوجرانوالہ کو گلشن جان کر یہیں گھونسلا ترتیب دیا۔ خون میں انقلابی جوش

Read more

لِسے دا کیہ زور محمد

منیر نیازی سخن گو تو تھے ہی لیکن ان کی آنکھ وہ منظر بھی قلمبند کر لیتی تھی جو کینوس سے بہت پرے فلمایا جا رہا ہوتا تھا مگر اس کے رنگ کینوس پر ابھرتی تصویر میں چپ کے سے جذب ہو جایا کرتے تھے۔ کہہ گئے تھے کہ ”منیر اس ملک پہ آسیب کا سایہ ہے“ ۔ شاید اسی کارن مملکت خداداد میں جب بھی ترقی کی بیل ڈالی گئی وہ کبھی توڑ نہیں چڑھ سکی۔ یہاں کی مٹی

Read more

پنجاب کا سورما، دلا بھٹی

تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ یہ صاحب اقتدار کی مرضی و منشا کے مطابق لکھی جاتی رہی ہے، جس کے باعث اکثر ہیرو کو ولن کا روپ دے دیا گیا۔ بسا اوقات یہ کارروائی بھی کی گئی کہ مخالف کرداروں کا ذکر ہی لوح تاریخ سے مٹا دیا گیا۔ تاریخ کی نفی در اصل اخلاقی کمزوری ہے۔ ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ ہم اپنی سر زمین کے بیش تر ہیرو سے نا واقف ہیں۔ جس معاشرے میں سکندر یونانی کو ہیرو گردانا جائے، وہاں عجب نہیں کہ مقامی ہیرو کے متعلق لا علمی موجود ہو۔

ایک زندگی طبعی ہے جو اوسطاً ستر سال پہ محیط ہوتی ہے، مگر ایک زندگی وہ ہے جو انسان پس مرگ جیتا ہے۔ اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا زندگی کے ایک ایک لمحہ کا خراج دینا ہے یا جواں مردی سے جینا ہے۔ یہاں پنجاب کے ایک ایسے جنگجو کا ذکر ہے جسے تاریخ کے صفحات اتنی سطریں نہ دے سکے، جتنی اس کے شایان شان تھیں۔ مغلیہ سلطنت کے تاریخ دانوں نے تو اس کی بہادری و جواں مردی کا ذکر کرنے سے اجتناب کیا، مگر اس کا کردار زندہ رہا۔ جس نے شاہی صحیفوں میں جگہ نہ پائی، وہ عوام کے دلوں میں جگہ پا کر ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔

Read more

ابنارمل رویے

نارملائزیشن کا تعلق بنیادی طور پر عمرانیات سے ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی رو سے بہت سے خیالات اور افعال سماج میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ رائج الوقت نظام زندگی میں قدرتی طور پر موجود رہے ہیں۔ نارملائز ہونے یا کرنے کا عمل بظاہر سادہ سا ہے مگر اس کے کئی ایک محرکات ہیں جو بتدریج اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ حیرت کا مقام

Read more

جمہوریت اور سماجی ذرائع ابلاغ

حریت فکر اور آزادیٔ صحافت کے بغیر جمہوریت ایسے ہی ہے جیسے بنا ریڑھ کی ہڈی کے انسان یعنی وجود ضرور ہے مگر اس میں تقویت نہیں ہے۔ جمہوریت کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اسے کلی طور پر نافذ کیا جائے۔ حتی کہ ایک بنیادی عنصر کی کمی اس کی اساس کو کمزور کر دیتی ہے۔ موجودہ دور میں جمہوریت ایک ایسے خطرے سے نبردآزما ہے جس کو پروان چڑھانا خود اسی کے بنیادی نکات میں شامل تھا اور رہے گا۔

جمہوریت کا تصور عظیم یونانی مفکر ہیروڈوٹس کے زمانہ سے موجود ہے جس کو بعد ازاں ارسطو نے یہ کہہ کے رد کیا کہ کار حکومت ایک ہجوم کو تفویض کر دیا جاتا ہے تاہم برطانوی پارلیمانی نظام، انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب نے اسے نئی جہت اور قبولیت بخشی۔ طریقۂ انتخاب پر مبنی اس طرز حکومت میں آمریت مطلقہ یا اقتدار ذاتی کی جگہ عوام کے پاس اقتدار رکھا جاتا ہے جو رائج الوقت طریقہ رائے شماری سے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ تمام شہری بلحاظ حقوق خواہ وہ سیاسی ہوں، اقتصادی ہوں یا معاشرتی؛ برابر تصور کیے جاتے ہیں۔ آزادیٔ اظہار کو ہر صورت تحفظ فراہم کرنا جمہوریت کے بنیادی خصائص میں شامل ہے۔ اسی نظریہ نے معلومات کی آزادانہ ترسیل، بلا رکاوٹ ترویج اور وسیع پیمانے پر رسائی کو یقینی بنایا جس سے جمہوریت مضبوط تر ہوتی گئی۔

Read more