سیاست کا آئٹم سانگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاست کے پردہ سکرین پر ایک کے بعد ایک فلم چلتی ہے، پروڈیوسرز نے بڑی محنت کی ہوتی ہے، ماضی کی مثال دیں ساٹھ کی دہائی کے آخر میں سندھ کے جواں سال بیرون ملک سے تعلیم یافتہ جاگیر دار خاندان کے سپوت کو ہیرو بنا کر پیش کر دیا۔ اس کے ڈائیلاگ بھی خوب تھے، ناظرین کے دل موہ لئے، فلم ہٹ ہوئی، حتیٰ کہ اسلامی دنیا کے سرکٹ میں بھی ہیرو نے اپنی دھاک بٹھا لی۔ ایٹم بم بنانے کی بات بڑی ہٹ ہوئی۔ سب نے سیٹیاں اور تالیاں بجا کر داد دی۔

فلم کا اختتام تھوڑا ٹوئسٹ کر گیا، مخالفین نے مذہبی حلقوں کو ساتھ ملا کر ہیرو کا بوریا بستر گول کر دیا، ہیرو کا انجام جیل کی کال کوٹھری، اس کا خاندان بھی خوار ہوا، عدالت نے پھانسی سنا دی، سب کو لگا فلم میں دلچسپی پیدا کرنے اور ناظرین کی ہمدردی لینے کے لئے مناظر ڈالے گئے ہوں گے، کیونکہ ہیرو کو کبھی کچھ نہیں ہوتا ہے، وہ ہمیشہ فلم کے آخر میں بچ جایا کرتا ہے، لیکن دیکھنے والوں کی خواہشات اور توقعات پروڈیوسرز کی منشا کے خلاف تھیں۔

انہوں نے کچھ اور سوچا تھا، ہیرو کا خاتمہ، اسے پھانسی ہو جاتی ہے، فلم سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوجاتی ہے، یہیں فلم کا دی اینڈ ہوجاتا ہے، اب صرف دیکھنے والوں کو ہیرو کی المناک موت کا دکھ رہ جاتا ہے، یا پھر کبھی کبھار اس کی بیوی اور بیٹے بیٹیاں یاد آتی ہے۔ شاید وہ اگلی فلم میں سامنے آئیں اور اپنے شوہر اور والد کا بدلہ لیں۔

پروڈیوسرز اپنی عادت کے مطابق نئے چہرے کی تلاش میں لگ گئے، انہوں نے عارضی طور پر سندھ سے ایک سائیڈ کریکٹر کو ہیرو لیا، لیکن فلم بری طرح سے فلاپ ہوئی، وہ تین سال بھی پورے نہ کر سکا، فلم بنانے والوں نے امریکی فلمسازوں کے ساتھ مل کر 88 میں اپنے ہی اہم بندے کو منظر سے ہٹانے کی ٹھان لی۔ ناظرین کو ایک بار پھر حیرت میں ڈال دیا۔ سندھ کے ہیرو کا غم کرنے والے فین تھوڑے سے مطمئن ہو گئے۔ اس دوران اس کی بیٹی بھی چھوٹے موٹے رول کر کے اپنی پرفارمنس دکھا چکی تھی، جبکہ لاہور کے کاروباری خاندان کا بظاہر کم پرفارمنس دکھانے والا خوبرو بھی لیڈنگ رول کے لئے پر تولنے لگا۔

اسے علاقائی فلموں میں مرکزی کردار دیا گیا۔ پنجاب میں اس نے جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ کا نعرہ لگایا۔ بڑی ہٹ ہوا۔ سندھی کی بیٹی جس نے 86 اپریل میں بھرپور انٹری ڈالی تھی، اس بار وہ ہیروئن اور مرکزی کردار کے لئے چن لی گئی۔ اس کے باپ کے فین خوش ہوئے لیکن مخالفین نے فلم میں ولن کا رول بخوبی ادا کیا۔ عورت کی حکمرانی کے خلاف ڈٹ کر ڈائیلاگ بازی کی۔ ان کی چہرے بتاتے تھے انہیں کس قدر غصہ ہے۔

پروڈیوسرز نے فلم ڈیڑھ سال میں ہی پیک اپ کردی، انہیں زیادہ مزہ نہیں آیا، مرکزی کرداروں پر کرپشن کے الزامات نے فلم فلاپ کردی۔ اب باری آئی لاہوری باؤ جی کی، بڑی دیر سے وہ ہیرو بننے کی ریہرسل کرتا آرہے تھے۔ یہاں ایک مسئلہ تھا اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ سائیڈ رول دینے کا کنٹریکٹ سائن کیا۔ وہ بھی اچھے ڈائیلاگ بول جاتا، بلکہ عمومی تاثر زیادہ تعلیم یافتہ کا تھا۔ پنجاب سے پہلی بار ہیرو متعارف کرایا گیا۔ جس پر یہاں کے ناظرین بہت خوش ہوئے، لاہوری کشمیری نے ذرا بڑھ چڑھ کر پرفارمنس دکھانے کی کوشش کی، فلمساز اس سے بھی ناراض ہو گئے، ارادہ بدلا اور سندھی بی بی پر دوبارہ نگاہیں جما لیں، اسے ایک بار پھر آزمانے کا فیصلہ ہوا۔

وہ پہلے سے زیادہ گھن گرج کے ساتھ آئی، چونکہ ناظرین بھی جلد اکتا جاتے ہیں، اس لئے ان کا مزاج دیکھ کر پروڈیوسر پریشان ہو گئے، فلم میں ہیرو کی تبدیلی کا جیسے سلسلہ چل نکلا، بمشکل 8 سال میں چوتھی تبدیلی ہو گئی۔ 12 اکتوبر 1999 میں گیارہ برس بعد پروڈیوسر نے اپنا کردار متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ 52 سال میں ان کی چوتھی انٹری تھی۔ فلم اب اپنی مرضی سے آگے بڑھنے لگی۔ لاہوری ہیرو کو پورے ٹبر سمیت ملک سے نکال باہر کیا، سندھی بی بی کا انجام میں ملتا جلتا ہی ہوا۔

پرانی فلمیں دیکھنے والوں نے کہہ دیا، اب یہی فلم چلے گی، چاہے سکون لو، یا آنکھیں بند کرلو۔ دیکھنے کو سب کچھ پرانا ہی ملے گا، بس کچھ آئٹم سانگ درمیان میں آتے جن میں مذہبی کردار یا پھر لبرل سوچ والے اپنے ڈائیلاگ سنا کر ناظرین کی تفریح کا سامان پیدا کرتے۔ لیکن بوریت زیادہ نہ ہوتی۔ دلی کی کہانیاں سنانے والا پروڈیوسر خود ہیرو بن چکا تھا۔ اب یہ خود کفیل ہو گئے ہیں، مرکزی رول جب چاہتے ہیں، خود اپنا لیتے ہیں۔ سندھی بی بی کے مونچھوں والے رنڈوے کو بھی موقع مل گیا۔

کہنے والے کہتے تھے کہ فلمسازوں سے ساز باز کر کے اپنا کردار شامل کیا، اور کیا خوب کیا، پانچ سال فلم چل گئی، دیکھنے والے بھی مجبور بجلی کی لوڈشیڈنگ اس کی فلم بند کرنے پر مجبور ہو گئی، لاہوری باؤ جی نے نعرہ لگایا میں بجلی نہ دے سکا میرا نام بدل دینا، لوگوں نے کہا اس کی فلم پھر دیکھتے ہیں۔ باتیں اچھی کرتا ہے، اب تیسری بار سرکٹ میں فلم لگی، اس دوران کئی برسوں سے کرکٹ چھوڑ کر فلم میں کام کے شوقین نے اپنی خوب دھوم مچا رکھی تھی۔

اس کے ڈائیلاگ نوجوان نسل نے پسند کیے، انہیں لگا یہ میانوالی کا نڈر ادھیڑ عمر جوان شاید کچھ پرفارمنس دکھا دے۔ فلمسازوں نے مارکیٹ کا رجحان دیکھا اور اسے کاسٹ کر لیا۔ فلم بڑی ہٹ ہوئی لیکن جوں جوں دن گزرتے رہے، ڈائیلاگ بازی میں جان نہ رہی، لوگوں نے سوچ اور باتوں کا اختلاف پکڑ لیا۔ پھر بھی کچھ کا کہنا تھا اسے فلم میں موقع ملنا چاہیے، لیکن فلم کا بھی دورانیہ ہوتا ہے، اب بوریت پھر بڑھنے لگی ہے۔

اب سندھی بی بی کا بیٹا اور لاہوری باؤ جی کی بیٹی دونوں اپنا رول ڈھونڈ رہے ہیں، ناظرین ان کی نئی انٹری کے منتظر ہیں۔ دیکھیں انہیں فلمساز کب اپنی اگلی فلم کے لئے منتخب کرتے ہیں۔ لیکن آئٹم سانگ سے سب محظوظ ہو رہے ہیں، انہیں میانوالی والا بھی ایسا ہی لگ رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 76 posts and counting.See all posts by nauman-yawar