فجر کا وقت نزع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کی اصل حقیقت آسمانوں کا مالک جس پھر آشنا کردے۔ رومی کو دنیا بہت بڑا عالم مانتی تھی۔ ایک بار ایک جوان لڑکا، رومی کی محفل میں جا پہنچا، اس کا جوش دکھائی دیتا تھا۔ رومی سے ادب سے عرض کرنے لگا کہ میں آپ کی زندگی کا حاصل پاکر، اپنی جوانی سے فائدہ اٹھا کر سب بدلنے آیا ہوں۔ مولانا جلال الدین رومی مسکرا کر کہنے لگے۔ کل میں تیری طرح ایک چست و چالاک اور ناسمجھ انسان تھا، میں سمجھتا تھا میں ساری دنیا کو بدل ڈالوں گا، یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ آج اتنے سال بعد میں ایک تھکا ہوا، سمجھدار بوڑھا آدمی ہوں۔ آج مجھے لگتا ہے کہ میں خود کو ہی بدل ڈالوں تو یہ بھی بہت بڑی بات ہے۔

یہ وہ دن تھے، جب راقم الحروف، اس ملک کے دارالحکومت کے ایک بڑے ہسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں کام کیا کرتا تھا۔ میں چوبیس گھنٹے جاگنے کے بعد اکثر کوشش کرتا کہ دو بجے سے فجر تک سو جایا کروں تاکہ فجر کے وقت، مریض اٹھ کے دوبارہ دیکھا کروں، فجر ایسا ٹائم ہوتا، جب مریض سیریس ہو جایا کرتے تھے، سب سے زیادہ مریضوں کی حالت اسی وقت خراب ہوتی اور وہ اللہ کو پیارے ہو جاتے تھے۔

یہ محض ایک آئیڈیا لگتا تھا، یا میری اسیسمنٹ تھی۔ وقت کے ساتھ احساس ہونے لگا کہ یہ سب اس سے بہت بڑھ کے کچھ تھا۔ ایک ایسے معاشرے میں پروان چڑھنا جہاں ہر کسی کو زندگی کی دوڑ میں بھاگتے دیکھا ہو، یہ سمجھنا کہ عالم ارواح کا بھی ایک جہاں آباد ہے، ناممکن تھا۔ ایک ایسا کلچر جہاں ہر کوئی جسم کی بھوک مٹانے کو لگا ہوا ہو، وہاں روح نظر ہی کہاں آتی ہے۔ جاگیرداری، وڈیرانہ، حاکمانہ نظام زندگی، جہاں زندگی اب صرف برانڈز کے بہترین کپڑوں کے گرد گھومتی ہو، وہاں سفید رنگ کسے یاد ہے؟

میری نانی اماں کی طبیعت بہت خراب تھی، مجھے قومی پرواز سے واپس ملتان پہنچنا تھا۔ فلائٹ صبح، آٹھ بجے تھی، مگر بورڈنگ پاس ہاتھ میں پکڑ کر لاؤنج میں بیٹھے یہ بات بتائی گئی کہ فلائٹ کینسل کردی گئی ہے۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، ایسا کرنا چین اور برطانیہ میں ادارے کو بھاری جرمانہ کا مرتکب کر دیتا ہے، مگر ہمارے نظام میں تو یہ کلچر ہے۔ جہاں پچاس بلین ڈالر کی لاگت سے جدید ائر پورٹ بنائے گئے ہوں اور ان پر اڑانے کے لیے قومی سطح پر ہمارے پاس کچھ بھی نہ ہو، تو ایسا ہی لگتا ہے کہ باقی سارے زنگ آلود سسٹم میں ایک اور سنگاپور برانڈ کاپی سہی۔

میں بارہ گھنٹے ضائع کرنے کے بعد، وہ سفر جو میں زمینی راستے سے سات گھنٹے میں طے کر سکتا تھا، دوبارہ ائر پورٹ پہنچ گیا۔ معلوم ہوا کہ جو ٹکٹ مجھے دوبارہ جاری کیا گیا، اس کا کمپیوٹر میں کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔ کم از کم کچھ گھنٹوں کی مشکل کے بعد، وہی معاشرتی معافی مانگتے ہوئے، مجھے ایسی فلائٹ کا ٹکٹ جاری کر دیا گیا جو کم از کم سات گھنٹے تاخیر سے آنا تھی۔ مجھے نانی اماں کے پاس پہنچنا تھا۔ مگر میں خود اڑ نہیں سکتا تھا اور پرواز اڑنے کو تیار نہیں تھی۔

ان سات گھنٹوں میں لاؤنج میں بیرون ملک ائر لائنز کی مقررہ وقت پر آمد روانگی کے اعلانات، مجھے مزید ڈپریس کر رہے تھے۔ ملتان پہنچ کر نانی اماں کے پاس پہنچا، حالت بہت خراب تھی، انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ شفٹ کرنا پڑا۔ رات کے بارے بجے تھے، نانی اماں سسکیاں لے رہی تھیں۔ دل کا دورہ پڑنے کے بعد، اب ان کا دماغ شدید متاثر ہوچکا تھا، اور وہ آخری سانسیں لے رہی تھیں۔

رات ایک بج کر تیس منٹ، مجھے وہی وقت یاد آنے لگا، جب میں اس وقت تھوڑی دیر آرام کر لیتا تھا۔ مگر آج مجھے آرام نہیں کرنا تھا۔ یہ رات میرے لیے بہت اہم تھی۔ مجھے فجر کے وقت نزع کی حقیقت آج جاننا تھی۔ رات دو بجے سانس صرف ہچکیوں تک محدود ہو چکی تھی، بلڈ پریشر مشینوں نے بتانا بند کر دیا تھا، مگر ایک دل تھا جو مکمل نارمل انسان کی طرح دھڑک رہا تھا، میرے انکل نانی اماں کے پاس بیٹھا تلاوت کر رہے تھے اور مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے یہ دل یہ تلاوت سن رہا ہے۔ ایک ایسا دل، جسے حال ہی میں رکنے کے بعد دوبارہ چلایا گیا ہو، وہ اتنے لاغر اور مردہ جسم میں تن تنہا نارمل کیسے دھڑک سکتا تھا؟

ای سی جی مانیٹر پر جو لکیریں چل رہی تھی وہ تو ایسے تھیں، جیسے ایک زندہ بھاگتے دوڑتے انسان کی ای سی جی کی لکیریں ہوتی ہیں۔ یہ سب کیسے ممکن تھا؟ پوری زندگی جس عورت نے اللہ اللہ کرتے گزاری، اس کا آخری وقت ایسا ہی تھا۔ مجھے معلوم تھا کہا یہ فجر کے وقت نزع کی عالم ارواح کی کہانی کا چکر ہے۔ وہ زندہ نہیں ہیں، مگر روح کو اگلے سفر پر نکلنے کے لیے فجر کی اذان کا انتظار ہے۔ میں فجر کی اذان کے انتظار میں نانی اماں کا ہاتھ تھامے بیٹھا رہا۔

میری ڈاکٹری یہی کہہ رہی تھی کہ ابھی اگر دل رکا تو پہلے لکیروں میں تبدیلی آنا شروع ہوگی اور پھر آہستہ آہستہ وہ سیدھی ہوجائیں گی۔ میں نے جو دیکھا، یہ میرے روح لرزانے کو کافی تھا۔ ادھر فجر کی اذان میری سماعتوں سے ٹکرائی اور ادھر ای سی جی کی لکیروں نے چھلانگ ماری اور ایک دم سیدھا ہو گئیں۔ یہ کیا تھا؟ یہ کس طرح ممکن تھا؟ دل رکتا تو کچھ تو میڈیکل سائن ای سی جی پر پہلے نظر آتے، یہ لکیروں کا اذان کی آواز سنتے ہی فلیٹ ہوجانا۔

یہ فجر کے وقت نزع کی اصل حقیقت تھی۔ اس وقت کے بعد سے لحد میں جسد خاکی اتارنے تک، میں روحوں کے دیس کے سفر میں رہا، جہاں زندگی سے جڑی ہر چیز بے معنی لگنے لگی۔ ہم چند دہائیوں پر مشتمل زندگی کے لیے کتنی تگ و دو کرتے ہیں۔ اس زمین پر فرعون بن جاتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، ہر جائز ناجائز طریقے سے دنیاوی عیش و عشرت کا سامان اکٹھا کرتے ہیں۔ بڑے بڑے سنٹرل ائر کنڈیشنڈ شاپنگ مالز، ان میں کھلے دنیا بھر کے نامی گرامی برانڈز کے کپڑے، جوتوں اور پر تعیش کھانوں کی اصل حقیقت، بس ایک سفید کپڑا، چھے سات فٹ کا ایک گڑھا، جہاں تازہ ہوا کا کوئی گزر تک نہیں، بس یہی ہے۔ یہی ہے، اس جسم کی زندگی کا حاصل۔

وہ جسم جس کو انسان تراشتا ہے، اس کی ہر لذت پوری کرتا ہے۔ جسم کو مطمئن رکھنے کی خاطر، کرپشن کے انبار سجاتا ہے۔ قومی سطح پر ادارے تباہ کر دیتا ہے، جائیدادیں بنانے کی خاطر پوری قوم کے ٹیکسوں سے چلنے والے پراجیکٹس میں لوٹ کھسوٹ کرتا، اقتدار میں آنے کی خاطر، ہر طرح کا جھوٹ بولتا ہے، جائز ناجائز پیسوں کی تقسیم، حرام ہلال کی تمیز کا فرق ختم کر دیتا ہے۔

مری ہوئی مرغیاں، گدھوں کا گوشت بیچ کر خود گدھ بن جاتا ہے۔ لاشوں کا سودا کرتا ہے، قبریں بیچتا ہے۔ کالے جادو کے لیے مردے تک نوچ ڈلواتا ہے۔ جسم کی ہوس پورا کرتا مردہ جسم، زندہ جسم، حتی کہ انسان جانور تک کی تمیز ختم کر دیتا ہے۔ یہ سب وہ زندگی کہ لیے کرتا ہے، ایک ایسی زندگی جو فجر کے وقت نزع کی محتاج ہے، اور یہ وقت بھی خدا کے پیاروں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔ خدا کے پیارے جن کو خدا بہت عزت سے اپنے پاس بلانا چاہتا ہے۔

ورنہ زندگی کی آسائشیں پاتے لوگوں کو نہ تو ایسی اذانیں نصیب ہوتی ہیں اور نہ ہی فجر کے وقت نزع کی لذت نصیب ہوتی ہے۔ ایک بار اقبال ؒ سے کسی نے نماز کی پابندی میں کوتاہی پر وجہ پوچھی تو ان کے اس کلام نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ جس کا طالب فجر کے وقت نزع کا ہر مسافر ہوتا ہے۔ سیاہ بادلوں کے پردوں میں حالت سکوت میں چھپی حقیقت منتظر۔

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
طرب آشنائے خروش ہو تو نوائے محرم گوش ہو
وہ سرور کیا کہ چھپا ہوا سکوت پردہ ساز میں
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر عفان قیصر کی دیگر تحریریں