زندگی کی اصل حقیقت آسمانوں کا مالک جس پھر آشنا کردے۔ رومی کو دنیا بہت بڑا عالم مانتی تھی۔ ایک بار ایک جوان لڑکا، رومی کی محفل میں جا پہنچا، اس کا جوش دکھائی دیتا تھا۔ رومی سے ادب سے عرض کرنے لگا کہ میں آپ کی زندگی کا حاصل پاکر، اپنی جوانی سے فائدہ اٹھا کر سب بدلنے آیا ہوں۔ مولانا جلال الدین رومی مسکرا کر کہنے لگے۔ کل میں تیری طرح ایک چست و چالاک اور ناسمجھ انسان تھا، میں سمجھتا تھا میں ساری دنیا کو بدل ڈالوں گا، یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ آج اتنے سال بعد میں ایک تھکا ہوا، سمجھدار بوڑھا آدمی ہوں۔ آج مجھے لگتا ہے کہ میں خود کو ہی بدل ڈالوں تو یہ بھی بہت بڑی بات ہے۔
یہ وہ دن تھے، جب راقم الحروف، اس ملک کے دارالحکومت کے ایک بڑے ہسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں کام کیا کرتا تھا۔ میں چوبیس گھنٹے جاگنے کے بعد اکثر کوشش کرتا کہ دو بجے سے فجر تک سو جایا کروں تاکہ فجر کے وقت، مریض اٹھ کے دوبارہ دیکھا کروں، فجر ایسا ٹائم ہوتا، جب مریض سیریس ہو جایا کرتے تھے، سب سے زیادہ مریضوں کی حالت اسی وقت خراب ہوتی اور وہ اللہ کو پیارے ہو جاتے تھے۔
Read more