الزائمر ایک مرض یا پھر روگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ پہلے الزائمر پر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ اس مرض کے حوالے سے یہ خاصا معلوماتی مضمون تھا۔ اس وقت میرے گھر میں ایسا کوئی مریض موجود نہیں تھا اور میں ان مشکلات سے واقف نہیں تھی جو ان مریضوں کو اور ان کے ساتھ رہنے والوں کو پیش آتی ہیں۔ لیکن اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اب یہ مرض دن رات مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔ کہنے کو تو یہ بھولنے کی بیماری ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا یہ صرف بھولنے کی بیماری ہوتی۔

اپنی ہستی کو مکمل طور پر بھول جانا الزائمر ہے۔ الزائمر کو محض مرض سمجھنے والے غلطی کرتے ہیں۔ یہ مرض نہیں ایک روگ ہے اور اس روگ کی لپیٹ میں صرف مریض نہیں بلکہ اس کے ساتھ رہنے والے بھی آتے ہیں۔ سلو پوائزن کی طرح یہ زہر رفتہ رفتہ آپ کو ختم کرتا چلا جاتا ہے۔ آپ خود کو بھول کر اس زمانے میں چلے جاتے ہو جہاں زمانہ حال سے وابستہ کوئی بھی شخص موجود نہیں ہوتا۔ ماضی آپ کا ہمسفر ہوتا ہے اور خود کو بھول کر آپ ماضی کے مسافر بن چکے ہو۔

ان حالات میں زمانہ حال میں موجود لوگوں میں آپ کو ماضی کے کچھ چہروں کا عکس نظر آتا ہے۔ آپ اپنے بچپن کے گھر کی تلاش میں نکل پڑتے ہو۔ ماضی کی گلیاں ، رشتے ،آنگن،دوستوں کی محفلیں ،آنسو،قہقہے ،یادیں ،باتیں اور ماضی سے وابستہ تمام تر لمحوں کو آپ جگہ جگہ ڈھونڈتے پھرتے ہو۔ گھر سے باہر نکل کر اپنے بچپن،لڑکپن کو آوازیں دیتے رہتے ہو لیکن کوئی آپ کی آوازیں نہیں سنتا۔ ایسے میں اپنے آس پاس موجود اجنبی چہرے آپ کو جب زمانہ حال میں واپس لانے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کو سخت اذیت ہوتی ہے۔

آپ روتے ہو،چیخیں مارتے ہو،بین ڈالتے ہو لیکن حال کی اس شاہراہ پر ماضی کا کوئی لمحہ آپ کا ہاتھ نہیں تھامتا اور اس لمحے اپنے خونی رشتوں کی بے بسی دیکھ کر ساتھ رہنے والے بھی وہی اذیت محسوس کرتے ہیں جس کا سامنا اس مریض کو ہوتا ہے۔ آپ اپنے آدھے ادھورے وجود کے ساتھ نیند کی وادی میں اتر جاتے ہو اور پھر چند گھنٹوں بعد دوبارہ سے وہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ الزائمر کا علاج دریافت نہیں ہوا۔ ڈاکٹرز ان مریضوں کو بس سکون آور ادویات اور انجکشنز کے ذریعے کچھ دیر کے لئے سلا دیتے ہیں لیکن جاگتے ساتھ ہی ماضی بھی ایک نئے جذبے کے ساتھ جاگ اٹھتا ہے اور پھر وہی روز کی مریض اور ساتھ رہنے والوں کی آزمائش کا آغاز ہو جاتا ہے۔

میری ایک کولیگ بتاتی تھیں کہ ان کے والد صاحب کو سنبھالتے سنبھالتے ان کے اپنے بھائی ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں اور گھر کے دیگر افراد کے معمولات زندگی بھی متاثر ہو چکے ہیں۔ ان مریضوں کے ساتھ سختی کرنے سے معاملات اور بگڑتے ہیں۔ محبت اور نرمی سے ہی ان کو سمجھایا جا سکتا ہے۔ ان مریضوں سے بحث کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مرض جیسے جیسے شدت اختیار کرتا جاتا ہے ساتھ رہنے والوں کی آزمائش بھی سخت ہوتی چلی جاتی ہے۔ ابھی تک تو الزائمر کے مریض شفایابی کے اسٹیشن سے بہت دور بیٹھے ہیں۔ لیکن امید ہے کہ سب کچھ بھولنے والے یہ روگی کبھی نہ کبھی تو شفایابی کی شاہراہ پر قدم رکھیں گے اور ان کی آزمائشیں بھی راحتوں میں بدل جائیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •