مقدسات کی توہین اور آزادئ اظہار راۓ
اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی جہاں کئی شعبوں اور مختلف میدانوں میں ترقی اور مثبت تبدیلیوں کا غلغلہ ہے وہیں منفی عوامل بھی شدت سے پھوٹ رہے ہیں اور ان میں سب سے بڑا منفی عمل اسلاموفوبیا کے مرض کا پنپنا ہے۔ اگر چہ اس مرض کے شدت پکڑنے میں کئی اوامر کارفرما ہیں مگراس کے ٹمٹماتے شعلوں کو بھڑکانے میں 11 \ 9 کا کلیدی کردار ہے۔ 11 \ 9 کے واقعے کے بعد جس طرح اسلام کو دہشت گردی سے نتھی کر دیا گیا تھا اس کے نتیجے میں اسلاموفوبیا کا مرض ناسور کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
اسلاموفوبیا کے اظہار کے مغرب میں کئی طریقے ہیں جس میں اسلامی طرز لباس سے نفرت، حجاب پر پابندی اور ہر داڑھی ٹوپی والے کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شامل ہیں مگر سب سے معیوب ترین اظہار اسلام کی مقدس شخصیات کی اہانت کا مرتکب ہونا ہیں۔ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے یہ قبیح فعل بار بار دہرائے جاتا ہے۔ جس کی مثال پچھلے دنوں ”چارل ہیبدو“ جو فرانس کا ایک میگزین ہے اس نے (معاذ اللہ ) حضور اقدس صلى اللٰہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شائع کر کے دکھائیں۔
جس سے نہ صرف ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا میں شدید غم و غصہ اور اشتعال پایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی میگزین ہے جس نے گستاخانہ خاکے پچھلے کئی سالوں میں متعدد مرتبہ شائع کیے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں ان کے دفتر اور ٹیم پر حملہ بھی ہوچکا ہے۔ جب فرانسیسی صدر سے اس بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے آزادی اظہار رائے کا نام دے کر اس سے براءت حاصل کرلی۔ پورے عالم اسلام بالعموم اور با لخصوص پاکستانی عوام اور اس کی سیاسی قیادت نے نہ صرف اس کی شدید مذمت کی ہے بلکہ فی الفور ایسے گھنونے افعال کی بیخ کنی کے لیے فرانسیسی حکام پر زور ڈالا ہے۔
اسی طرح پچھلے دنوں ناروے میں قرآن مجید کی بے حرمتی اور اس کو جلانے کی مزموم کوشش کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔ افسوس ہے کہ ان قبیح افعال کو آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کیاجاتا ہے اور نہ صرف مقامی حکومتیں بلکہ تمام صیہونی طاقتیں اس کی پشت پناہی کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ نام نہاد تعلیمی معاشرے اسلامو فوبیا کے مرض میں شدت سے مبتلا ہے جس کا اظہار وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں پہلے ہی کرچکے ہیں۔
کیا آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب ہے کہ جب چاہو، جیسے چاہو کسی بھی مذہب کی مقدس شخصیات کا تمسخر اڑاؤ، طنزیہ خاکے بناؤ اور جب آپ پر تنقید ہو تو آپ آزادی اظہار رائے کی آڑ لے کر اپنا دامن صاف کرلو۔ عجیب المیہ ہے کہ غیر مسلم ممالک میں جانوروں کے تو حقوق ہیں مگر جب بات دنیا کے دوسرے بڑے مذہب (آبادی کے لحاظ سے ) کے پیروکاروں کے مذہبی جذبات کی ہو، ان کی مقدس شخصیات کی توہین کی ہو تو پھر سارے قانون اور قاعدے مفقود نظر آتے ہیں۔ اگر آزادی اظہار رائے کے نام پر اس جن کی بروقت سر کوبی نہ کی گئی تو یہ مزید مسائل کا پیش خیمہ ہوگا


