موٹر وے ریپ کیس اور سزا کا شور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موٹر وے ریپ کیس کے بعد اٹھنے والا شور شرابا کوئی نیا واقعہ نہیں۔ چند برس پہلے زینب زیادتی کیس کے بعد بھی اسی طرح کا شور شرابا اٹھا تھا۔ اگر آپ کو یاد ہو تو گزشتہ کئی دہائیوں سے جب بھی کوئی ایسا زیادتی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو کچھ عرصے کے لئے ٹیلی وژن سکرینوں سے لے کر نجی محفلوں تک سارے مباحث اسی واقعے کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔ مگر جس تیزی سے اس شور شرابے کا غبار اٹھتا ہے کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اسی تیزی سے یہ واقعات ہمارے حافظوں سے محو ہو جاتے ہیں۔ نہ یہ واقعات رکنے کا نام لے رہے ہیں اور نہ ایسے واقعات پہ ہمارا روایتی رد عمل۔ یہ الگ بات کہ کچھ واقعات پہ ہمارا احتجاج علاقائی سطح تک محدود رہتا ہے جبکہ کچھ واقعات ’قومی المیے‘ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

آخر کچھ چنیدہ واقعات ہی کیوں ’قومی المیے‘ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جبکہ بہت سے روز مرہ ہونے والے زیادتی کے واقعات پہ ہمارے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی؟ موٹر وے زیادتی واقعے کو جیسی کوریج میڈیا پہ ملی جہلم میں ایک معصوم بچی کے ساتھ ہونے والے واقعے کو وہ کوریج نہ مل سکی۔ زینب زیادتی کیس پر ہونے والے احتجاج کی شدت اسلام آباد میں مروہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر نظر نہ آ سکی۔ آخر زیادتی کے مختلف واقعات پہ ہمارے عمومی سماجی رد عمل میں اتنا فرق کیوں ہے آپ اس پر سوچیئے گا۔

میں آپ سے آج موٹر وے ریپ کیس کے بعد اٹھنے والے شور شرابے اور زنا با لجبر کی سزا کے حوالے سے شروع مباحث کے حوالے سے ہی بات کرنا چاہتا ہوں۔ گو اس موضوع پر گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل لکھا اور بولا جا رہا ہے مگر اس واقعے سے متعلقہ تین اہم پہلو ہیں جن پر تفصیل سے بات ہونی چاہیے تھی مگر ہو نہیں سکی۔

1۔ سیاسی پہلو

بعض اوقات ایسے واقعات ایک ایسے اہم موڑ پہ رونما ہوتے ہیں کہ ارباب اقتدار کے لئے ان کو اچھالنا بہت سود مند ثابت ہوتا ہے۔ ایسے واقعات کے رونما ہونے کے بعد پیدا کیے گئے شور شرابے میں بہت سے ایسے مباحث جن کا تعلق حکمران طبقات کی کارکردگی سے ہو دب کر رہ جاتے ہیں۔ جہاں حکمران جماعتوں کے لئے یہ واقعات سکھ کا سانس لینے کا سبب بنتے ہیں وہیں حکومت مخالف جماعتیں بھی عوامی مزاج کو دیکھتے ہوئے اسی شور شرابے کا حصہ بن جاتی ہیں۔

گویا پورا ماحول ایسا بن جاتا ہے کہ جہاں ہر سیاسی جماعت دوسرے سے بلند آواز میں چیخنے کی کوشش کرتی ہے تا کہ اس کی آواز عوام کے دلوں تک پہنچ سکے اور وہ عوامی ہمدردی جیتنے میں کامیاب ہو جائے۔ اس شور شرابے میں غصہ بڑھتا رہتا ہے اور عقل اور دلیل کی آوازیں دبتی چلی جاتی ہیں۔ چونکہ یہ شور شرابا ہی اہل اقتدار کے لئے سود مند ہوتا ہے اس لئے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام ہوتا نظر نہیں آتا۔ سخت ترین سزاؤں اور مار دو کاٹ دو کے نعروں میں ایسے واقعات کے رونما ہونے کے اصل اسباب پہ سنجیدہ مباحث دب کر رہ جاتے ہیں۔

2۔ نفسیاتی پہلو

وہ معاشرے کہ جہاں ایک عام آدمی کی روز مرہ زندگی درد سے عبارت ہو۔ جہاں روز افزوں لوگوں کے معاشی حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جائیں اور غربت و افلاس اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو۔ شدت پسندی ایسے معاشروں کا خاصہ بن جاتی ہے۔ بعض اوقات ایسے واقعات کے بعد پیدا ہونے والا شور اس اجتماعی غصے کا اظہار ہوتا ہے جو روزمرہ کے مصائب کی وجہ سے عام آدمی کے لا شعور میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ عام آدمی کی زندگی کی تلخیاں اور ان تلخیوں کے اسباب سمجھنے میں ناکامی لاشعوری سطح پر ایک ایسے سراب کو جنم دیتا ہے جہاں ایسے واقعات میں ملوث ملزمان اس ولن کا روپ اختیار کر لیتے ہیں جو لوگوں کے سارے مصائب و آلام کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔

اپنی زندگی کی تلخیوں کے غصے کا رخ ملزمان کی طرف مڑ جاتا ہے اور ایسے ملزمان کے خلاف نفرت شدت اختیار کر لیتی ہے ایسے میں ملزمان کو سر عام پھانسی پر لٹکانے کا مطلب اپنی زندگی کی تلخیوں کو پھانسی پر لٹکانا ہوتا ہے۔ جتنا کسی بھی معاشرے میں لوگوں کی زندگی میں تلخیاں زیادہ ہوں گی اتنا ہی سخت ترین سزاؤں کے لیے حمایت میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا۔

بے چہرہ دکھوں کو تیرا نام دے دیا
شرمندہ ہوئے جہاں الزام دے دیا
(نامعلوم)

3۔ قانونی پہلو

زنا بالجبر کے حوالے سے قانونی پہلو پر مباحث عمومی طور پر سزا کے گرد گھومتے ہیں۔ جبکہ قانون کے وہ تمام پہلو جن کا تعلق ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے سماجی، ثقافتی اور معاشی اسباب کے حوالے سے ہوتا ہے ہمیشہ صرف نظر کر دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سخت ترین سزاؤں کے باوجود ان جرائم میں کمی نہیں آرہی۔ ماہرین قانون جانتے ہیں کہ مثالی سزاؤں کے ذریعے جرائم روکنے کا نظریہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ دنیا کے وہ پانچ ممالک کہ جہاں زنا بالجبر کے لئے سخت ترین سزاؤں کے قوانین موجود ہیں وہی پانچ ملک جنسی زیادتی کے اعداد و شمار میں پہلی پانچ پوزیشنز پر براجمان ہیں۔ اور وہ ممالک جنہوں نے سخت ترین سزاؤں کے بجائے جرائم کے سماجی، نفسیاتی اور معاشی اسباب کے سدباب کے لیے قانون سازی کی وہاں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ملے گی۔

ایسے میں ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو ایسے جرائم میں اضافے کا سبب شرعی سزاؤں کا نہ ہونا بتاتا ہے۔ دیانتداری کی بات تو یہ ہے کہ فقہ و شرعی قوانین کا نفاذ اگر کر دیا گیا تو ایک بھی جنسی زیادتی کے مجرم کو سزا دینا ممکن نہ ہو گا۔ کیوں کہ کوئی بھی ریپسٹ ریپ کرنے سے پہلے چار متقی، عادل اور سچے مسلمانوں کے جائے وقوعہ پر آنے کا انتظار نہیں کرے گا کہ ان کی موجودگی میں ایسے اپنے جرم کا ارتکاب کرے کہ وہ سوئی میں دہاگہ داخل ہوتا دیکھ سکیں۔

اگر ارباب سیاست و اقتدار واقعی جنسی جرائم کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انھیں مجرم نہیں جرم مٹانے کے لئے قانون سازی کرنے کا سلیقہ سیکھنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •