میرؔ کی کہانی – غالبؔ کی زبانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(دوزخ نامہ سے ایک اقتباس)

میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں بہت نیک انسان ہوں۔سچ کہو ں تو میں اپنے لالچ کی وجہ سے دلّی آیا تھا۔معروف صاحب کا خاندان دلّی کے شرفاء میں شمار ہوتا تھا،جس کے شاہی دربار کے ساتھ مراسم تھے، مجھے توقع تھی کہ ایک شاعر کے طورپر مجھے دربار میں جگہ مل جائے گی، اور یو ں میں اپنی خواہش کے مطابق زندگی گزار سکوں گا۔ ان دنوں میں شراب اور عورتوں کا رسیا تھا، بیگم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا میرا۔ وہ قرآن اور حدیث میں مشغول رہتی تھیں اور روز بہ روز ان کا یہ شغل بڑھتا جارہا تھا۔آخر یہاں تک ہوا کہ انھوں نے اپنے کھانے پینے کے برتن بھی علیحدہ کرلیے۔اس لیے کہ میں شراب پیتا تھا اور شعر کہتا تھا، اور یہ دونوں ہی چیزیں ان کے قرآن کی رُو سے حرام تھیں۔ ویسے وہ اپنی ذمّے داریوں سے کبھی نہیں چوکیں۔ ہمیشہ اس بات پر نظر رکھتی تھیں کہ میری کسی ضرورت میں کمی واقع نہ ہو۔ لیکن اسے محبت نہیں کہا جاسکتا۔ یاپھر،میں نہیں جانتا، شاید یہی بیگم کے پیار کا انداز ہو۔ لیکن میں آپ کوبتاؤں، میری عمر جتنی بڑھتی گئی،اتنا ہی لفظِ محبت پر میری بد اعتمادی بڑھتی گئی۔ کیا واقعی میرا اعتبار اٹھ گیا تھا؟ بس اتنا جانتا ہوں، روزبہ روز میرے اندر خالی پن بڑھتا گیا۔ کیوں؟ شاید میرے ہی اندر محبت نہیں تھی۔ میں ہی کسی کو پیار نہ کرسکا۔آج قبر میں لیٹے ہوئے محسوس ہوتا ہے میں پیار کا بھکاری تھا، لیکن میں نے خود کسی کو پیار نہیں کیا۔ میں میرؔ نہیں ہوں —سوچیے، محبت کے لیے انھوں نے کتنی اذیتیں سہیں۔ لیلیٰ مجنوں کی کہانی تو ہم سب نے سن رکھی ہے، لیکن میر صاحب کی زندگی کے ان دنوں کے بارے میں کتنے لوگ جانتے ہیں؟ عشق میں دیوانہ ہونا کسے کہتے ہیں،میرؔ صاحب نے یہ اپنی زندگی کے ذریعے دکھا دیا۔

میر صاحب کا دل ایک شہرِداغ دار تھا۔ انھوں نے اس شہر کا تذکرہ، اپنی مثنوی’معاملاتِ عشق‘ میں کیا تھا۔ میری نظر میں، میر صاحب نے جتنی بھی عشقیہ مثنویاں لکھیں، ’معاملاتِ عشق‘ ان میں سب سے عمدہ ہے۔ وہ شیش محل میں گونجتی کسی فریاد کی طرح ہے۔ جانتے ہیں وہ فریاد تھی کس لیے؟ وہ چاند کے لیے تھی۔ بچپن میں جب ان کی نانی، شام کو ان کا منھ دھلاتے ہوئے کہتیں،’اوپر دیکھو بیٹا، وہ رہا چاند۔‘ تبھی سے چاند ان کی زندگی میں شامل ہوگیا،اور پھر اسی چاند کی وجہ سے انھیں فنا ہونا پڑا۔ انھیں چاند میں اپنی محبوبہ کا چہرہ نظر آتا تھا، اسی وجہ سے وہ ایک دن پاگل ہوگئے۔ کون تھی ان کی محبوبہ؟

میں ان کا نام نہیں جانتا۔ جس معاشرے میں ہم رہتے تھے، وہاں کسی عورت کا نام بس قصّے کہانیوں میں ہی ملتا تھا۔ اور نام کی ضرورت بھی کسے تھی؟ ملّاؤں نے انھیں برقعے میں ڈھک دیا تھا، ایک آزاد انسان کی حیثیت سے ان کی شناخت ہی مٹادی تھی۔ لیکن آج ہم ان کا کوئی نام رکھ سکتے ہیں۔ کیا نام دیا جائے، بتائیے؟مہر نگار کیسا رہے گا؟ خوبصورت نام ہے نا؟ تو ہوا یہ کہ میر صاحب اس مہر نگار کے عشق میں گرفتار ہوگئے، جب وہ ابھی محض اٹھارہ برس کے تھے۔ مہرنگار، جو کہ ایک شادی شدہ خاتون تھیں، میر صاحب سے عمر میں کچھ بڑی— یا پھرکچھ چھوٹی تھیں۔ لیکن چونکہ دونوں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اورآپس میں رشتے دار تھے اس لیے ان کے درمیان کوئی پردہ نہیں تھا۔ وہ میر صاحب سے بغیر کسی پابندی کے مل سکتی تھیں۔

سارا خاندان بیگم کے حسن ِاخلاق کی تعریفیں کیا کرتا۔ یہ تعریفیں سن سن کر ہی میر صاحب ان کی طرف مائل ہوئے تھے۔ وہ انھیں چھپ چھپ کر دیکھا کرتے لیکن بات کرنے کی ہمت نہ کر پاتے۔ کہتے بھی کیا؟ جب کہنے والی بہت سی باتیں اندر جمع ہوجائیں تو کچھ کہتے بنتا ہے کیا؟ رفتہ رفتہ حجاب اٹھ گیا۔ حتیٰ کہ میر صاحب نے انھیں چھوا بھی۔ ’معاملاتِ عشق‘ میں میر صاحب نے لکھا ہے، میں اس کے حسن کو بیان نہیں کرسکتا— وہ جیسے میری ہی خواہشات کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی۔ ان کے چلنے پھرنے کے انداز، نظریں اٹھانے کی ادا اور گردن کے لوچ کو دیکھ کر میر صاحب اپنی غزلوں کی بحریں دریافت کیا کرتے۔ معلوم ہے ایک دن کیا ہوا؟مہر بیگم پان کھا رہی تھیں، ان کے ہونٹ شفق کے رنگوں میں رنگے ہوئے تھے۔ جب میر صاحب نے وہ ہونٹ دیکھے تو خود کو سنبھال نہیں پائے۔انھوں نے ان کا رس پینے کی خواہش ظاہر کی۔ پہلے تو مہربیگم نے مسکرا کر انکار کر دیا،آخرِ کار انھوں نے خود ہی میر صاحب کے ہونٹوں کو چوم لیا۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پھر کیا ہوا ہوگا۔ میرصاحب ان سے خلوت میں ملنا چاہتے تھے، وہ بھی یہی چاہتی تھیں۔ جب کچھ دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا تو مہر بیگم نے کہا،’اس محبت کا کوئی انجام نہیں ہے، میرتقی، ہم اسے آگے نہیں بڑھا سکتے۔‘

مہر بیگم نے ہاتھ کھینچ لیا۔ اور میر صاحب جیسے کسی خواب ناک نیم مدہوشی کی حالت میں چلے گئے۔ اپنے خیالوں میں، وہ ہر شب مہربیگم کے ساتھ گزارا کرتے لیکن دن کاٹنا ان کے لیے عذاب ہوجاتا۔ اس کے بعد، سالہا سال دونوں نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا۔ ایسی صورتِ حال میں آدمی کا کیا حال ہوجاتا ہے؟ ساری دنیا جھوٹی لگنے لگتی ہے۔ اس کا کوئی وجود نہیں رہ جاتا۔ ایک دن سب کو اس معاملے کی خبر ہوگئی۔ خاندان کے لوگوں اور دوست احباب نے میر صاحب سے منھ پھیر لیا اورانھیں پاگل کہنا شروع کردیا۔ ہاتھی اگر گڑھے میں گر جائے تو چیونٹی بھی اسے لات مارسکتی ہے۔ میر صاحب کی حالت بھی ایسی ہی تھی۔ پھر ایک دن مہر بیگم چھپ چھپا کرخود ان کے پاس آئیں۔ ’ہمیں الگ ہونا ہی ہوگا، میرتقی۔‘ انھوں نے کہا،’ہم جیسے سبھی چاہنے والوں کوایک دن الگ ہونا پڑتا ہے۔ میں جب تک زندہ ہوں، تم میرے دل میں رہو گے۔‘ اب جدائی تکمیل کو پہنچ چکی تھی، صرف یادیں اور یادوں کا بوجھ باقی رہ گیا تھا۔ میر صاحب دیوانے ہوگئے۔ ’خواب وخیالِ میرؔ‘ میں میر صاحب نے اپنی دیوانگی کے ان دنوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ چاند کی جانب دیکھنے سے ڈرتے تھے لیکن پھر بھی ان کی آنکھیں چاند پر جمی رہتی تھیں۔ انھیں چاند میں مہر بیگم دکھائی دیتی تھیں۔ یقین کیجیے، ان کی آنکھوں سے نیند اُڑ گئی تھی، وہ سو نہیں پاتے تھے۔ انھیں کھانا پینا بھول گیا، جدھر بھی وہ دیکھتے انھیں مہر نگار نظر آتیں۔ وہ شبیہوں کے گھیرے میں کھو گئے۔

 کتنے ہی حکیم ان کا علاج کرنے آئے،کتنے جھاڑ پھونک کرنے والے بلوائے گئے لیکن کوئی نہ سمجھ سکا کہ انھیں چاند میں اپنی محبوبہ دکھائی دیتی ہے اور یہ چاند میرصاحب کی زندگی سے جاچکا ہے۔ بہت کوششوں کے بعد بھی جب ان کا علاج ممکن نہ ہوا تو معلوم ہے کیا کیا گیا ؟ میر صاحب کو ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں بندکردیا گیا۔ جی ہاں، میں بتا رہا ہوں۔ وہ جگہ کسی قبر سے بھی تنگ تھی۔ لوگ صحیح الدماغی کا کیا مطلب سمجھتے ہیں؟کھاؤ، ہگو، کھاؤ، ہگو۔ اور جن پر تمھیں خود بھی یقین نہ ہو و ہ باتیں کیے جاؤ۔ اس کے بعد کیا ہوا، معلوم ہے۔ ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ان کے جسم سے فاسد خون خارج کردینا چاہیے۔ میر صاحب بے ہوش ہوگئے،لیکن کسے فرق پڑتا تھا؟ فاسد خون تو نکالنا ہی تھا۔ بعد میں میر صاحب نے ایک شعر کہا تھا، چاہے غلام ہوجاؤ یا قید خانے میں سڑ کر مرو،لیکن محبت کے چکر میں کبھی مت پڑو۔ ایک بار ان کے عشق کی آگ بھڑکی تھی اور اس کے بعد بس راکھ ہی بچی۔

میرصاحب نے اس آگ کی تپش کو محسوس کیا تھا۔ لیکن میں تو محض اس کی راکھ کو اپنے بدن پر مل سکا۔ میں کسی سے ایسا عشق نہ کرسکا جیسا میرؔ صاحب نے کیا تھا۔ معلوم ہے کیوں؟ یا تو خدا نے مجھے عشق کی توفیق ہی نہ دی تھی یا پھر یتیمو ں کی طرح زندگی کاٹتے کاٹتے میں پیار کا مطلب ہی بھول گیا تھا، میں نے لفظوں سے پیارکرنا سیکھا، لیکن یہ نہ سیکھ سکا کہ لفظ لوگوں کو کیسے چھو سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •