جھیل سیف الملوک اور کینیڈا کی جھیلیں: پریوں کی پرواز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انیس سو تریسٹھ میں ناران سے جھیل سیف الملوک جانے والی سڑک پر ہم تین دوست اوپر سے جھانکتے پہاڑوں کا نظارہ کر رہے ہیں۔ اونچی نیچی پہاڑیوں اور اڑتے گھٹتے بڑھتے بادلوں کے درمیاں بچپن کی پڑھی دیو مالائی کہانی۔ اور پھر ریڈیو پہ سنی میاں محمد اور محمد بخشا کے نام والے آخری مصرعہ پر ختم ہونے والے اس قصے کے ریڈیو پر ایک مخصوص دھن پر گائے حصے۔ اس جادوئی جگہ کو دیکھنے کے شوق کو مہمیز لگائے ہیں۔ ایک دو ماہ قبل ہی پاکستان میں متعارف ہوا آر جی اے کا ڈیڑھ دو کلو وزنی لمبا سا انٹینا نکالے ٹرانسسٹر ریڈیو میرے ہاتھ میں ہے۔

چوہدری نور محمد سے مانگا آٹھ فوٹو کی فلم والا باکس کیمرہ میاں محمود نے کندھے لٹکایا ہوا ہے اور انڈے پراٹھے پیک کرائے امان الحق کے ہاتھ میں لٹکی پوٹلی کے ساتھ ہم کشاں کشاں وادی کے سحر میں مبتلا جھیل کی طرف رواں ہیں۔ جہاں ریڈیو کہیں گانوں کے پروگرام پکڑتا ہے۔ سننا شروع کرتے ہیں۔ گلیشر سے گزرتے اس کے ایک غار نما برف کی محراب سے نکل بہتا پایاب پانی اور ٹھنڈی ہوا اور ریڈیو سے نکلتی گونجتی آواز۔ کہیں سڑک سے گزرتے کہیں پگڈنڈی چڑھتے ہم جھیل سیف الملوک جا پہنچتے ہیں۔

خوب صورت۔ حسن فطرت کا شاہکار۔ کوئی جھونپڑی تک نہیں۔ اکا دکا سیاح۔ جھیل کنارے ایک کشتی کھڑی ہے کوئی ملاح نہیں۔ دوسرے کنارے پہاڑی سے اترتی پانی کی لکیر۔۔۔ یہ نظارے اس لئے زیادہ خوبصورت تھے کہ باقی دنیا کی تصویریں بھی کبھی کبھار آتیں۔ جھیل کا پانی پیا۔ ناشتہ کیا۔ کشتی بان آ چکا تھا۔ سیر کراتا سناتا جا رہا تھا۔ اس جھیل کی گہرائی کوئی نہیں ماپ سکا (تین ہزار دو سو چوبیس میٹر بلندی پر پانی بھرے موسم میں پونے تین مربع کلو میٹر رقبہ پر محیط اس کی گہرائی ایک سو تیرہ فٹ بیان کی جارہی ہے۔) پھر مصر کا شہزادہ۔ خزانے کی تجوری پہ شہزادی کی تصویر۔ اور پھر جن و انس کی رہنمائی۔ اور وہ اس جھیل پہ آنے والا پہلا انسان۔ اور پھر جب وہ بتاتا ہے کہ جھیل میں نہاتی پریوں کی ملکہ کے پر شہزادہ چھپا لیتا ہے۔ تو میں سوچتا ہوں کہ کرشن کنہیا بھی چت چور پنگھٹ پہ چھیڑتے۔ گوپی کے نہاتے سمے کپڑے چھپانے پہ کہلایا۔ پھر وہی رقیب رو سیاہ۔ دیو جی۔

دو تین جیپیں سیاح لئے آ تے ہیں۔ ہم واپسی کی راہ لے چکے تھے زیادہ اترائی پگ ڈنڈیوں سے کی تھی۔ اور پھر دوبارہ جب گلیشر کے اوپر سڑک کنارے پتھر پر بیٹھے اونچے نیچے جاتے راستے اور وادیاں اور دیو اور جن اور شہزادہ اور پری بدیع الجمال ذہن میں رقصاں تھے۔ اچانک پشاور ریڈیو سے پشتو مخصوص دھن پہ وہ گانا ابھرنے لگا۔ یا قربان۔ آبھی جا دلدارا۔ آبھی جا دلدارا۔ یا قربان۔ ریڈیو پوری آواز سے پہاڑیوں واپس آتی گونجتی آواز میں یا قربان۔ آبھی جا دلدارا۔ مانو یوں لگا پری بدیع الجمال پہاڑوں کے درمیان اڑتی شہزادہ سیف الملوک کو پکارے چلی جارہی ہو۔۔۔

٭٭٭            ٭٭٭

Maligne Lake Alberta

چوالیس برس گزر چکے ہیں۔ کیلگری ائر پورٹ پہ اتر کے اس خوبصورت ائر پورٹ کی سیر کر رہے ہیں دوسرے جہاز سے شکاگو سے آنے والی پرواز سے بڑے بھائی ڈاکٹر شفیق احمد بھابی اور اور ان کی بیٹی سمیت آئے اور کرائے پہ لی وین پہ بیٹھ ہم کینیڈین راکی ماؤنٹین کے بینف نیشنل کنزرویشن پارک میں داخل ہو رہے ہیں۔ بھائی بتاتے ہیں کہ اس پورے کئی سو مربع میل کے علاقے میں سوائے پرانے اس علاقے کے باشندوں کے کسی کو جائیداد یا عمارت بنانے کی اجازت نہیں۔ سوائے شدید چھان بین کے بہت ضروری سیاحوں کی سہو لت کے۔ اور یہاں صرف گرما کے موسم میں ساٹھ لاکھ سیاح دنیا بھر سے آتے ہیں۔ اور مجھے سڑکوں پر۔ گلیوں میں۔ پارکوں سیاحوں کے بھر پور مقامات پر ایک کیلے مالٹے کا چھلکا یا کاغذ تک گرا نظر نہیں آتا۔

مجھے یاد آتا ہے انیس سو اٹھتر میں دوبارہ ناران اور نوے کی دہائی کے اوائل میں ان تمام سیاحتی مقامات پہ الا ماشاءاللہ گندگی۔ بے ترتیبی۔ بے ہنگم تعمیرات اور مہاجرین کی جھونپڑیوں کا راج تھا۔ ہاں سوات سے بابا غازی ( شاید یہی نام تھا ) سے شانگلہ کے رستے بیشام آنے کا لطف الگ تھا۔ اور پھر تقریباً شانگلہ ٹاپ کے قریب ایک موڑ سے نکلتے سامنے حسین وادی۔ اور دائیں طرف سڑک کنارے چھابڑی میں رکھے آلو بخارے دیکھ کار روک میں اس کے پاس گیا اور دو کلو آلو بخارے مانگے تو اونچی رعب دار آواز میں کہنے لگا۔۔۔ چار روپے کلو ہیں۔ مجھے وہ پیارا سا بچہ اور اس کا لہجہ اور اس کے اتنے بڑے بڑے تازہ پورے تیار آج تک کے کھائے آلو بخاروں میں لذیذ ترین۔ عموماً سوتے وقت ”۔ اکثر شب تنہائی میں کچھ دیر پہلے نیند سے۔ گزری ہوئی دلچسپیاں بیتے ہوئے دن عیش کے“ گنگناتے سامنے آتے ہیں۔

دوپہر ہوٹل میں آرام کے بعد ہم چند کلو میٹر دور دنیا کی مشہور ترین سب سے زیادہ سیاحوں کو کھینچنے والی جھیلوں میں سے ایک جھیل لوئیس پہنچتے ہیں۔۔۔ میں کہاں آ گیا۔۔۔ یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے۔ بس شاید چوالیس سال کا فرق۔ بالکل سامنے سے دیکھیں تو وہی جھیل سیف الملوک کا ناک نقشہ۔ اسی طرح سامنے پہاڑ وں کا درہ سا بنا ہوا اور درمیان سے آتی پانی کی لکیر۔ وہی رنگت وہی خوشبو وہی ہونٹوں پہ ہنسی۔ باغ میں پھول کھلے ان کا سراپا لے کر۔

۔ ۔ بس جیسے جھیل سیف الملوک کا ترقی یافتہ ملک میں جنم ہوا ہو۔ جنہیں تصویر بنا آتی ہے۔ میرے ملک کی جھیل سبزہ کی حد سے اوپر تین ہزار دوسو چوبیس میٹر پہ ہے۔ یہ سترہ سو اکتیس میٹر کی بلندی پر ایک مربع کلو میٹر سے کم رقبہ اور اور ایکسو بارہ تیرہ میٹر گہرائی رکھتی ہے۔ مگر تین طرف سبزہ جنگل اور داخلہ کی جانب طرف انتہائی اعلی درجے کی تعمیرات اور سیاحوں کی دلچسپی کی چیزیں۔ میرا بیٹا اور بھتیجی چار کلو میٹر چڑھائی پہ واقعہ مشہور چائے خانہ کی چائے پینے جا چکے تھے۔ بھابھی اور بیگم چلتے گھومتے گپیں مار رہی تھیں۔ اور بھائی انیس سو ساٹھ میں کنگ ایڈورڈ کالج کے ٹور کے ساتھ اور میں انیس سو تریسٹھ کی جھیل سیف الملوک یاترا کی دہرائیوں میں مصروف تھے۔۔۔

٭٭٭            ٭٭٭

اب ہم دو ہزار بارہ میں بڑی بیٹی کے پاس پرنس جارج شہر برٹش کولمبیا میں چند روز گزار سیر کرتے جیسپر شہر سے تیس پینتیس دور کلو میٹر دور میلائن جھیل کے ساحل پہ بیٹھے ہیں حد نگاہ تک دونوں جانب سر سبز پہاڑیوں کے درمیان دوڑتی شفاف نیلے پانی کی چادر نظر آ رہی ہے۔ بائیس کلومیٹر لمبی اور تین سو فٹ سے زائد تک گہرائی تک پہچنے والی سولہ سو ستر میٹر اونچائی پر واقعہ جھیل کی سیر کے لئے موٹر بوٹ تیس پینتیس مسافر لئے رواں ہے۔

دونوں طرف کہیں گھنے جنگل لئے اور کہیں بغیر سبزہ دور چوٹی پر اب تک موجود برف کے خوش کن نظارے لئے پہاڑوں کے درمیان کبھی رفتار تیز کرتے اور کبھی ہلکی کرتے گائیڈ لاؤڈ سپیکر پر سیاحوں کو ما حول اور جھیل کے متعلق بتاتا جا رہا ہے۔ اور جھیل کے شفاف پانی دونوں طرف جنگلوں اور پہاڑوں کے عکس دکھلاتے ان نظاروں کو ممکن حد تک جذب کرنے کی خواہش میں مجھے کبھی کبھی پیچھے اور اور کبھی دائیں بائیں آنے جانے جھانکنے پر مجبور کر رہی ہے۔

میں پائلٹ کے کیبن کے قریب کھڑا آگے دیکھ رہا ہوں کہ اچانک کشتی کی رفتار کم ہونا شروع ہوتی ہے سپیکر پر آواز آتی ہے اب ہم سپیرٹ آئی لینڈ ( روحوں کے جزیرہ ) پہنچنے والے ہیں یہاں آپ پندرہ بیس منٹ اتر کر گھوم سکیں گے۔ اس کے متعلق یہاں کے قدیم پاشندوں میں روایت چلی آ رہی ہے کہ صدیوں پہلے جب یہاں ابھی انسان کے قدم نہیں پہنچے تھے پریوں کا ڈیرہ تھا۔ ( میرے کان کھڑے ہو جاتے ہیں ) اور۔ اور پورے چاند کی راتوں میں پریوں کی ملکہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلنے نہانے آیا کرتی تھی۔

یا اللہ یہ الفاظ یہ کہانی تو پہلے سنی لگتی ہے۔ میرے بچپن میں پڑھی یا۔ ایک دن کسی بہت دور کے ملک کا شہزادہ شکار کرتا راستہ بھول کر یہاں ڈیرہ لگا لیا۔۔۔ اوہ تو کوئی شہزادہ سیف الملوک ادھر بھی آیا تھا۔۔۔ جب پورے چاند کی روشنی میں جھیل جھلمل کر رہی تھی ملکہ پری اپنی سہیلیوں کے ساتھ اڑتی آئی شہزادہ چھپ کے انہیں کھیلتے نہاتے دیکھتا رہا اور وہ لازوال محبت کی داستان شروع ہو گئی جو ہمیشہ ایسی کہانیوں سے وابستہ ہے پریوں کی ملکہ اور شہزادہ شادی کر کے یہیں بس گئے اور پھر اسی طرح ملکہ پری کے عاشق دیو کو خبر ہوئی اور ایک اندھیری رات وہ ان دونوں کو قتل کر کے بھاگ گیا۔ تب سے اب تک چاندنی راتوں میں یہاں پریاں ناچنے آتی ہیں اور شہزادہ اور ملکہ پری کی روحیں کبھی ساتھ دیتی ہیں کبھی ان کے رونے کی آواز آتی ہے۔۔۔

Lake Louise Banff Canada

کشتی کنارے لگی۔ چھوٹے سے ٹاپو کا چکر لگاتے واپس بیٹھ کر واپس آتی کشتی مجھے جھیل سیف الملوک کی سیر کرا رہی تھی۔ جہاں پہلے کبھی آدم زاد کا گزر نہ ہوا تھا اور شہزادہ آ پہنچا تھا اور پریوں کی ملکہ۔۔۔

ابھی دو تین دن قبل کسی کی لگائی یو ٹیوب پہ ویڈیو میں جھیل سیف الملوک کنارے پتھروں سے بنی جھونپڑیوں اڑتے کاغذوں اور منہ چھپاتی گھر میں داخل ہوتی مٹیار کے بیک گراؤنڈ کے ساتھ ضعیف داستان گو سیاحوں کو بتا رہا تھا۔ اس سے پہلے کبھی آدم زاد ادھر نہیں آیا تھا، شہزادے نے یہ تصویر دیکھی تھی۔ وہ جانے کن جتنوں سے پہنچا تھا۔ ملکہ پری وہی خوابوں کی ملکہ تھی۔ اس نے پر چھپا لئے تھے۔ ملکہ پری دیکھتے خود بھی فریفتہ ہو گئی تھی۔

بس یہ کہ جب رقیب رو سیاہ دیو آیا تو یہ دونوں ناران کے نزدیک غار میں چھپ گئے اور دوست جنوں نے غار میں اندھیرا کر دیا۔ بس بوڑھے داستان گو کا رقیب دیو مارا گیا اور وہ ہنسی خوشی زندگی گزار گئے اور آخر میں اس کی انگلی اٹھتی دور پیچھے بادلوں سے ڈھکے رہتے گیارہ ہزار فٹ بلند پہاڑ کی طرف اشارہ کرتی بتاتی ہے آج بھی پورے چاند کی روشنی میں وہا ں پریاں آ بسیرا کرتی ہیں۔۔۔

میلائن جھیل شمال وسطی کینیڈا اور سیف ا لملوک شمالی پاکستان میں کوئی بارہ تیرہ ہزار کلو میٹر کے فاصلے پہ ہیں۔ اور پورے چاند کی راتوں میں کبھی یاد آ جائے تو یہ معمہ مجھ سے حل نہیں ہو پاتا کہ یہ ایک جیسی کہانی اتنے فاصلے پہ کیسے۔۔۔

یا پھر۔۔۔ محبت ایسی ہوتی ہے۔ محبت ایسی ہوتی ہے۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •