ایک فری لانسر کی بیوی کا اپنی سہیلی کو خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلام سیما، کیسی ہو؟ امید ہے نئے گھر میں شفٹ ہونے کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہوں گی اور اس بند گلی کے آخری لمبے، ترنگے مکان میں یہ تمھارے آخری دن ہوں گے۔

بہت خوش قسمت ہو بھئی تم کہ تمھیں ایسا شوہر ملا ہے جو تمھاری ہر بات مانتا ہے اور تمھارے مشورے پر عمل کرتا ہے۔ کاش اس جہان کے سبھی مردوں کو اتنی عقل آ جائے لیکن میں نے شادی کے اس تجربے سے ایک بات مشاہدہ کی ہے کہ دفتر کی نوکری کرنے والا شخص جب اپنے دن بھر کے کام میں مختلف لوگوں سے میل جول کے دوران ان کی زندگیوں کے بارے میں جانتا ہے تو وہ ان میں سے اچھی، اچھی باتیں چن کر اپنے پاس ذہن نشین کر لیتا ہے اور بوقت ضرورت ان باتوں کو اپنی زندگی پر بھی عمل پیرا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے گھریلو زندگی میں جدت اور ورائٹی پنپتی رہتی ہے لیکن ایک ہم ہیں اور ہماری قسمت!

ہم سے پوچھو تو ہم تو وہ ہیں جن کو دفتر نصیب ہی نہیں ہوا۔ پتا نہیں وہ کیا وقت تھا جب اماں، ابا نے سوفٹ وئیر انجئیر سمجھ کر اس ڈیجیٹل ٹھیکدار قسم کے بندے سے میری شادی کر دی۔ مجھے تو بعد میں اندازہ ہوا انہیں فری لانسنگ کی بیماری ہے اور بیماری بھی اپنے عروج پر ہے۔

ہائے سیمی! کیا بتاؤں میرے تو سارے خواب ہی چکنا چور ہوگئے ہیں۔ نا صبح کا ناشتہ بنانے میں کوئی مزا ہے اور نہ ہی رات کا کھانا کھانے میں۔ کبھی صبح کا ناشتہ دن 12 بجے سجتا ہے تو کبھی رات کا کھانا رات کے بارہ بجے۔ ان کے ساتھ رہ رہ کر تو اب مجھے بھی لگتا ہے کہ شاید میں بھی بیمار ہوگئی ہوں۔

انکا کمرہ ہی ان کا دفتر ہے اور روزانہ کے دس، پندرہ چائے کے کپ ان کے کلائنٹ ہیں اور ہم، ہم تو گھر کے خادم ربوٹ سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہیں۔ یہاں زندگی صحیح ڈگر پر ہی نہیں ہے تو جدت اور ورائٹی تو درکنار۔

میرے تو کان ہی مایوس ہوگئے یہ سننے کی آس میں کہ صبح سات بجے گھر میں جلدی ناشتہ تیار کرنے کا شور ہو۔ وہ مجھ سے جوتوں، ٹائی اور اپنی گھڑی کا پوچھیں اور میں انہیں جاتے ہوئے لنچ بکس تیار کرکے دوں لیکن نہ ہی یہاں کوئی ایسی گہما گہمی ہے اور نہ ہی کوئی کلاسک روٹین لائف اس فری لانسنگ کے چکر میں سب کچھ خاک ہوکر رہ گیا ہے۔

تمھیں شادی سے پہلے کا قصہ یاد دلاؤں تو تمھارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ انہوں نے جب اپنی جینز اور چیک والی شرٹ میں تصویر بھیجی تھی جو تم نے بھی دیکھی تھی تو تمھیں یاد ہوگا کہ وہ اتنے سمارٹ اور خوبصورت قد میں دکھائی دے رہے تھے کہ میں تو خوشی سے پاگل ہوگئی تھی اور سوچ رہی تھی غزالہ کو جب یہ تصویر دکھاؤں گی تو اسے اپنے گنجے اور ٹھنگے مگینتر کو سوچ کے رونا آئے گا لیکن میں اب خود کو کوستی ہوں کہ ایسا غرور میں نے سوچا بھی کیوں۔ ۔ !

کل ہی کی بات ہے میں کمرے میں چائے کا کپ لے کر گئی تو یہ دیکھ کر دل کرچی، کرچی ہوگیا کہ ان کی توند اس قدر بڑھ چکی ہے کہ انہیں کرسی سے اٹھنے کے لیے اپنے کی بورڈ والی دراز کو ہٹا کر توند پہلے باہر نکالنا پڑی اور پھر وہ کھڑے ہوئے۔ پیٹ اور کولہوں کے گرد اتنی چربی جمع کر چکے ہیں کہ میرا دل کرتا ہے اب میں غزالہ کے گلے لگ کر رو لوں۔ میرا تو غرور ہی ٹوٹ گیا۔

ابا جب سرکاری ملازم تھے تو ہمارے گھر میں اتوار کا دن عید کا سماں ہوتا تھا۔ سب ہفتے کی چاند رات مناتے اور رات 9 بجے والی فلم دیکھ کر رات گئے دیر سے سوتے اور پھر صبح کا عالم تو تمھیں بھی یاد ہوگا ایک دن تم بھی تو ہمارے ہاں رکی تھی۔ ہلکا، پھلکا ناشتہ کر لینے کے بعد دوپہر کے کھانے میں پوری دلجمعی سے بھنی ہوئی کلیجی، مکھن کی ہانڈی، دیسی گھی لگی روٹیاں، تازہ ہرے کھیروں کا سلاد اور توے پر بھنے ہوئے زیرے کا ٹھنڈا رائتہ تیار کیا جاتا جس سے ظہرانے کا اہتمام ہوتا اور یہ سب اس لیے بھی تھا کہ ہفتے کے چھ دن بعد ابا جی کو چھٹی ہوتی لہذا سب ایک نشست پر بیٹھ کر دوپہر کا کھانا کھاتے لیکن سیما! یہاں تو تین سال ہونے کو ہیں مجال ہے سوائے شادی کے پہلے تین، چار مہینوں کے علاوہ جو انہیں کبھی اپنے کمپوٹر والے کمرے سے باہر جانے کی مہلت ملی ہو۔

نوکری کو تو یہ کفر سمجھتے ہیں اور بس انگریزوں کے پٹھو بن کر ڈالر کمانے بیٹھے رہتے ہیں کوئی سوال کرے تو کہتے ہیں کہ اتنی کمائی نوکری سے نہیں ہو سکتی۔

سیما! یہ سچ ہے کہ وہ اچھا کما لیتے ہیں لیکن خالہ سمجھایا کرتی تھی کہ سب کچھ پیسہ ہی تو نہیں ہوتا زندگی گزارنے کے لیے جذبات بھی بہت معنی رکھتے ہیں۔ میں ان پیسوں کا اچار ڈالوں جنہوں نے ہمارا شباب ہم سے چھین لیا اور ہمارے گھر دفتر بنا دیے۔

خیر! اپنے ہی دکھڑے سنانے بیٹھوں گی تو دنیا کے کاغذ کم پڑجائیں گے۔ تم کسی دن گھر چکر لگانا تمھیں سب کچھ پاس بیٹھا کر سناؤں گی۔ شاید دل کی آسودگی کچھ کم ہو ورنہ تو کمپوٹر کے ساتھ لگی تاروں کو ہی گلے میں ڈال کر گزر جانے کو جی چاہتا ہے۔

میرے خیال میں تم اتوار کو ہی آؤ گی کیونکہ خوش قسمتی سے بھائی جان کو دفتر سے چھٹی ہی اس دن ہوگی۔ یہ تو اور بھی اچھا ہے میں دوپہر کے کھانے کا انتظام کروں گی اور اسی بہانے مجھے بھی اتوار منانے کا سامان میسر آ جائے گا۔

اللہ تمھیں خوش رکھے اور بھائی جان کی نوکری سلامت رکھے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •