پی ٹی وی پر ورزش کرتی خاتون کے بارے میں دی نیوز کے صحافی انصار عباسی کا ٹویٹ اور سوشل میڈیا پر ردعمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر آئے روز کئی لوگ وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کر کے کوئی نہ کوئی سوال کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن گذشتہ روز صحافی انصار عباسی نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم کو کچھ ایسا کہا جس پر ٹوئٹر صارفین ان پر خاصے برہم دکھائی دیے۔

انصار عباسی نے پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پاکستان ٹیلی وژن کے ایک شو کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’وزیراعظم صاحب، یہ پی ٹی وی ہے۔‘

17 سیکنڈ کے اس کلپ میں، جس پر انصار عباسی نے اعتراض اٹھایا، ورزش کا لباس زیب تن کیے خاتون کو ایک مرد ٹرینر کے ساتھ ورک آؤٹ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ شاید یہی چیز انصار عباسی کو نامناسب لگی۔

لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ معمولاتِ زندگی کے مختلف پہلوؤں میں خواتین کی شمولیت کو قابل اعتراض قرار دیا گیا ہو۔

آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل تجزیہ نگار اوریا مقبول جان بھی ایک ٹی وی اشتہار میں بولنگ کرتی ایک خاتون کھلاڑی پر سوالات اٹھا چکے ہیں جس کے بعد انھیں سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

کچھ ایسا ہی انصار عباسی کی اس ٹویٹ کے بعد بھی ہوا۔ سوشل میڈیا صارفین نے انھیں آڑے ہاتھوں لیا اور یہ سوال اٹھایا کہ انھیں اس کلپ میں آخر کیا غلط نظر آیا۔ ایسے صارفین میں خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی بھی بڑی تعداد نے انصار عباسی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔

یہ بھی پڑھیے

’کچن میں کھانا بنانے والی خاتون مجھے نہ بتائے کس کا فٹ ورک اچھا ہے‘

پراعتماد عورت سے لوگوں کو مسئلہ کیوں؟

’عورت ریپ کرنے کی برابری نہیں مانگ رہی‘

عبدالرحمان نامی صارف نے لکھا: ’مجھے نہیں سمجھ آ رہا کہ اس میں کیا غلط ہے۔ نہ تو اس خاتون نے فحش کپڑے پہن رکھے ہیں اور نہ ہی وہ کچھ غلط کر رہی ہیں۔ وہ ورزش کر رہی ہیں اور ورزش ایسے ہی کی جاتی ہے۔ آپ برقعہ پہن کر ورزش نہیں کر سکتے۔‘

فراز چوہدری نے لکھا: ’عباسی صاحب آپ کو عورتوں سے کیا چڑ ہے؟ کیا آپ کو عورت صرف گوشت کا لوتھڑا لگتی ہے؟ نہ مرد برتر ہے نہ عورت! برابری کی بنیاد پر سوچنا شروع کر دیں، یہ تمام فضولیات آپ کے دماغ سے نکل جائیں گی۔‘

صحافی حمنا زبیر نے لکھا: ’روز مرہ کے کام کرتی خواتین کو جنسیت کا رنگ دینا بھی ریپ کلچر کا حصہ ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’انصار عباسی پاکستان کی اکثریت کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں جن کی آنکھوں کو اور کچھ نہیں بلکہ جنسیت نظر آتی ہے۔‘

https://twitter.com/hamnazubair/status/1308146721902530562

نورین فاطمہ نے لکھا: ’عباسی صاحب ہم اسے ٹریننگ کی طرح کیوں نہیں دیکھ رہے۔ ہماری آنکھیں صاف کیوں نہیں۔ ہم عورت کو صرف سیکس کے زاویے سے ہی کیوں دیکھتے ہیں؟ یہ وقت ہے کہ آپ اور سب لوگ چیزوں کو مختلف انداز میں دیکھیں ورنہ ہمارے معاشرے میں ایک بھی خاتون باقی نہیں رہے گی۔‘

ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’عورت کو ورزش نہیں کرنی چاہیے؟ او ہاں، یاد آیا۔۔۔ آپ تو عورت کو انسان سمجھنے کے لیے تیار نہیں تو اسے ورزش کا حق کیسے دے سکتے ہیں؟‘

صحافی گیتی آرا انیس نے لکھا: ’اوریا اور انصار عباسی کو خواتین کے چلنے پھرنے، ورزش کرنے اور سپورٹس میں حصہ لینے سے مسئلہ ہے۔‘

لیکن اس ساری بحث میں بہت سے صارفین نے انصار عباسی کا ساتھ بھی دیا اور ان کے مؤقف کی حمایت کرتے نظر آئے۔

صارف محد علی کیانی نے لکھا: ’جو لوگ انصار عباسی صاحب پر اعتراض کر رہے ہیں ان سے گزارش ہے کہ عورت کی ورزش سے کسی کوئی مسلہ نہیں، اگر یہی کام ایک عورت ٹرینر ہو اور پردہ کا خیال رکھ کر صرف عورتیں کریں تو مناسب ہے۔‘

یاسر عرفات نامی صارف نے بھی انصار عباسی کے حق میں کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا اور لکھا: ’بالکل ایک صحیح نقطہ اٹھایا ہے انصار عباسی نے۔ ایک مسلمان ریاست کے قومی چینل کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے ملک کی عورتوں کے جسموں کی اس طرح نماٸش کراتا پھرا۔‘

انھوں نے مزید لکھا: ’مناسب طریقہ کار سے ہر پاکستانی عورت زمانہ حال کی ضرورتوں کے پیشِ نظر جم بھی کرے تو یقیناً یہ چیز حوصلہ افزا ہو گی۔‘

’خواتین ٹی وی پر اپنی ورزش جاری رکھیں‘

بی بی سی کی ثنا آصف ڈار نے اس حوالے سے صحافی اور ڈان ٹی وی کی اینکر پرسن عارفہ نور سے بات کی اور پوچھا کہ معاشرے کی یہ سوچ تبدیل کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے تو انھوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا: ’خواتین ٹی وی پر ورزش کرتی رہیں، شاید انھیں عادت پڑ ہی جائے گی۔‘

عارفہ نور نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایک خیال ہے کہ عورت کو چادر یا حجاب اوڑھے رکھنا چاہیے اور انھیں پبلک یا ٹی وی پر ورزش کرتے نہیں دکھانا چاہیے اور انصار عباسی اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ہمیں اس سوچ کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہو گا کہ اس قسم کی چیزوں سے خواتین کی زندگی یا ان کی سرگرمیوں پر کم سے کم اثر پڑے۔

انھوں نے کہا کہ ہر معاشرے میں ایسے خیالات پائے جاتے ہیں جو خواتین پر قدغنیں لگانے کی کوشش کریں گے لیکن جو بات اہم ہے وہ یہ کہ خواتین کی زندگیوں یا فیصلوں پر ان خیالات سے کتنا فرق پڑتا ہے۔

عارفہ نور نے مزید کہا کہ اگر خواتین کو یہ جنگ لڑنی ہے تو معاشرے میں موجود اس سوچ کے باوجود انھیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا ہوں گی اور صرف ان لوگوں کی بات سننا ہو گی جو انھیں سپورٹ کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16096 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp