فلائیٹ کیڈٹ کا پہلا دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج 22 ستمبر ہے۔ لگ بھگ چالیس سال پہلے میں اور میرے بیچ میٹس نے 22 ستمبر کو پاک فضائیہ کے 78ویں جنرل ڈیوٹی پائلٹ۔ 78GD(P)۔ کورس کے لئے پی۔ اے۔ ایف کالج سرگودھا رپورٹ کیا تھا۔ یقین مانیے اتنے ماہ و سال گزرنے کے باوجود یہ کل کی بات لگتی ہے۔ اس زمانے میں پاک فضائیہ کے ہوابازوں کی تعلیم و تربیت کا آغاز میٹرک سے ہوا کرتا تھا اور فلائیٹ کیڈٹ کو چار سال پی۔ اے ایف کالج سرگودھا میں گزارنا ہوتے تھے۔

اس صبح تقریباً نو بجے ھم یعنی میں اور میرے فیورٹ انکل ظفر اقبال جو مجھے بخیروعافیت سرگودھا کالج درج کرانے ہمراہ تھے راولپنڈی سے بذریعہ سپر اعوان بس سروس کال لیٹر کے ساتھ لسٹ کے مطابق سازوساماں سے لدے پھندے، دل میں امیدوں کے چراغ جلائے اور آنکھوں میں خوبصورت خواب سجائے سرگودھا کے لئے روانہ ہوئے۔ اس زمانے میں راولپنڈی سے براستہ چکوال، کلر کہار اور خوشاب یہ سفر خاصا صبرآزما ہوا کرتا تھا۔ ھلکی سی پھوار کی وجہ سے موسم خوشگوار تھا۔ جب تک بس راولپنڈی کے گردونواح میں رہی تو اتنا فرق محسوس نہ ہوا لیکن جیسے جیسے گاڑی پنڈی کو پیچھے چھوڑتی جارہی تھی تو ہماری بہادری کے کس بل ڈھیلے ہوتے گئے۔ مزید کسر عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کے دکھ بھرے نغمے نکال دیئے دیتے تھے جو بس میں فل والئیم پہ گونج رہے تھے۔

 بعد از دوپہر سرگودھا پہنچ کر ہدایات کے مطابق پی۔ اے۔ ایف کالج سرگودھا کے کیڈٹس گارڈ روم رپورٹ کی تو وہاں بہت سے اپنے جیسوں کو دیکھ کر دھاڑس ہوئی۔ اردگرد نظر دوڑائی تو ہر کوئی بھاگا پھرتا تھا۔ گارڈ روم سے مجھے رفیقی ہائوس جانے کا بتایا گیا۔ ہمارے ساتھ ایک کیڈٹ کو کر دیا گیا جسے بعد میں پتہ چلا ڈیوٹی رنز کہتے تھے۔ یہ آؤ بھگت اس لئے ہوئی کہ میرے ساتھ انکل بھی تھے۔۔۔ ورنہ جو قسمت کے مارے اکیلے آئے تھے وہاں گارڈ روم سے ہی سامان سر پر دھرے اپنے اپنے ہائوسز کو دوڑے جاتے تھے۔ کالج میں آٹھ ہائوس تھے جن کے نام پاک فضائیہ کے ہیروز، رفیقی، اقبال، منیر، یونس، صفی، منہاس، علائو الدین اور عالم کے ناموں پر رکھے گئے تھے۔ رفیقی ہائوس میں مجھے اگلے چار سال گزارنے تھے۔ انکل ظفر اقبال مجھے ہائوس ماسٹر اسکواڈرن لیڈر شمیم حیدر کے حوالے کرکے رخصت ہوگئے۔۔۔ اور پھر فلائیٹ کیڈٹ کے پہلے دن کا آغاز ہو گیا۔

اسکوڈرن لیڈر حیدر نے مجھے ایک سینئر کیڈٹ کے حوالے کیا وہ سینئر کیڈٹ مستقبل کے باکمال فائٹر پائلٹ اور شہادت کا رتبہ پانے والے ناصر کامران شہید تھے۔ وہ مجھے ایک ہسپتال کے وارڈ نما لمبے سے کمرے میں لے کر آئے جسے ڈورم کہا جاتا تھا جہاں قطار در قطار بستر لگے ہوئے تھے۔ رفیقی ہاؤس میں چار ڈورمز تھے اور ناصر کامران شہید ڈورم کیپٹن تھے۔ ایک خالی بستر پہ سازوسامان رکھنے کا حکم ہوا اور پھر ڈورم کے آخری دروازے کی طرف جانے کا اشارہ دیا گیا۔ دروازہ ایک کوٹھے یا انگریزی میں ایک ٹئیرس پہ کھلا۔ جہاں چند لوگوں کے بال کاٹے بلکہ اتارے جا رہے تھے۔ ایک حجام! معاف کیجئے گا باربر صاحب نےاپنی مسکراتی اور جلادی نظروں سے بالوں کو دیکھا اور چند ہی منٹوں میں حجامت مکمل کر کے شیشہ دکھا دیا۔ دل دھک سے رہ گیا۔ ظالم نے آن کی آن میں فارغ البال کر دیا تھا۔

 ہیئر کٹ کے بعد اس دن رپورٹنگ کرنے والے مظلوموں کو حکم ھوا کہ پانچ منٹ کے اندر اندر رنگین کپڑوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور اپنے اپنے سامان میں سے سفید قمیض اور ٹراؤزر پہن کر حاضر ہوا جائے۔ ھم سب بھاگتے گئے اور بھاگم بھاگ واپس ہوئے۔ سب سے آخر میں جو مظلوم برآمد ہوئے وہ سفید بے داغ  پاجامے اور قمیض میں ملبوس تھے۔ پوچھا گیا حضرت یہ کیا ہے؟

 تو جواب ملا ” سر۔ ٹراؤزر”۔۔۔۔

 پتہ چلا انہوں نے ڈکشنری سے مطلب دیکھ کر چار عدد سفید پاجامے سلوائے تھے۔ واضح رہے کال لیٹر کے ساتھ سامان کی ایک لمبی لسٹ منسلک تھی جس کے مطابق وائٹ ٹرائوزر لانے کی ہدایت تھی۔

اس کے بعد سینئر کیڈٹس نے چیخ چیخ اور چنگھاڑ چنگھاڑ کر کسی جناتی انگریزی میں لیکچر دینے شروع کر دئیے۔ بیچ میں جب ان کی مرضی ہوتی تھی ڈنٹر پیلنے یا بیٹھکیں لگانے کا حکم صادر ہوتا تھا۔ یا مظہر العجائب یہ ہم کہاں آن پھنسے؟ سورج غروب ہوتے ہی ہمیں ڈنر کے لئے ڈائنگ ہال لے جایا گیا۔ پہلے دن جونیئر موسٹ کیڈٹ کی ایک خاص الخاص ڈش سے مدارت کی جاتی تھی۔ آج بھی کی جاتی ہے۔ یہ ڈش ہر قسم کے ذائقوں اور غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے۔ میز پر موجود سالن، روٹی کے چھوٹے ٹکڑے، سویٹ ڈش اور پھل اس ڈش کے اجزا ہوتے ہیں۔ یہ مقوی اور مفرح ڈش کاک ٹیل کہلاتی ہے۔ بتایا گیا کہ اسے نوش جاں کئے بغیر کوئی فلائیٹ کیڈٹ بن ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا اس کاک ٹیل سے لطف اندوز ہونا پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ادراک ھوا کہ دنیا میں چھری کانٹا اور چمچ ہی کھانے کے لئے متمدن ہتھیار ہیں۔ لہٰذا آئندہ کھانے کے لئے یہی ہتھیار استعمال کرنے ہوں گے۔۔۔۔ بھول جائیے۔ تیاگ دیجئے غیر متمدن عادات۔

کھانے کے بعد ایک سینئر ہمیں بیڈنگ اسٹور لے گئے جہاں سے ہمیں بستر وغیرہ ایشو ہوئے۔ بستر ہمارے سروں پر لدوائے گئے اور نعرہ بلند ہوا ’’دوڑچل” ہم سب دوڑنے لگے۔ جب تھوڑا آگے پہنچے تو آواز آئی۔ ’’پیچھے پھر” ہم پیچھے مڑے اور پھردوڑنے لگے۔ وہ سینئر موصوف چلتے آ رہے تھے ہم نے انہیں کراس کیا اور حیران تھے کہ کہاں جا رہے ہیں کہ پھر آوازبلند ہوئی ’’پیچھے پھر” اب ہم مڑے اور آگے کی طرف دوڑانے لگے۔ یوں اسٹور ہائوس کا آدھے کلو میٹر کا راستہ تقریباً آدھے گھنٹے میں ختم ہوا۔

 ائوس واپس پہنچتے ہی ہم سب کو ایک بار پھر ٹیرس پر لائین اپ کر دیا گیا۔ اس دفعہ دو انگریزی میڈیم سینئرز نمودار ہوئے۔ سینئر مجاہد انور آج ائیر چیف مارشل ہیں اور پاک فضائیہ کی قیادت کر رہے ہیں۔ سینئر طارق نذیر ائیرکموڈور کے رینک سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔ مظلوموں کے لائن اپ میں بھی مستقبل کے اعلیٰ فوجی اور سول افسران، کمرشل پائلٹ، انجینئرز اور آج کے وائس چیف آف ائیر سٹاف ائیر مارشل احمر شہزاد بھی شامل تھے۔

دونوں سینئرز نے سلجھی ہوئی انگریزی میں ہمیں پی۔ اے۔ ایف کالج میں آنے والے شب و روز کے بارے میں بریف کیا۔ یہ سینئرز ہمیں سمارٹ اور معقول لگے تھے… لیکن کتنے غلط تھے ہم… جلد ہی ڈنٹ بیٹھک، فراگ جمپ، فرنٹ رول کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ رات گئے جب سیشن ختم ہوا تو ہم سب کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ مزید ستم یہ ہوا کہ صبح چار بجے دوبارہ حاضری کا حکم صادر ہوا۔

جب میں آخر کار بستر تک پہنچا تو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کہاں تھا ؟ اور کونسی جگہ تھی؟ کیونکہ میرے خیال کے مطابق تو وی آئی پی قسم کا استقبال ہونا چاہیے تھا۔ کسی خدمت گار کو سامان کمرے میں سجانا چاہیے تھا۔ کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم، دبیز قالین، آرام دہ بستر اور نہ جانے کیا کچھ ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ لیکن یہاں تو سب کچھ الٹ نکلا۔ یا اللہ یہ کوئی بھیانک خواب تو نہیں۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ صرف ٹریلر تھا۔ اگر ٹریلر ایسا تھا تو پوری فلم کا تصور ہی لرزہ براندم کرنے کے لئے کافی تھا۔ اسی طرح لرزتے کانپتے میں نیند سے ہم آغوش ہوگیا۔ خواب میں ایک حسین وجمیل پری دکھائی دی جسے اپنے جوڑ جوڑ میں درد کا بتایا۔ تو وہ نیک دل پری مالش کے لئے کمربستہ ہوگئی۔۔۔۔ کہ اچانک ایک دیو نمودار ہوگیا۔ اس عفریت نے معصوم پریوں سے چھیڑ خانی کے جرم کی پاداش میں ڈنٹ اور بیٹھکیں لگانے کا حکم دیا اورپھر جب آنکھ کھلی تو میں اور میرے بیچ میٹ واقعی ڈنٹ پیل رہے تھے۔

(جہا ں زیب عزیز کی زیر طبع کتاب سے اقتباس)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •