حقوق جواں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے ماتھے کا مثل جھومر گلگت بلتستان کو رب ذوالجلال نے جہاں دیگر بیش بہا قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے وہاں ان سب میں عظیم اور قابل قدر نعمت اس علاقے کے پر امن و محب وطن جدوجہد کرنے والے باصلاحیت نوجوان ہے۔ اس خطے کے عوام کو یہ افتخار حاصل ہے کہ رب ذوالجلال کی مدد سے یہ علاقہ ڈوگرہ راج سے آزاد کرا یا اور وطن عزیر پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کا اعلان کیا۔

خطہ بلتستان کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ اس کے باشندے پر امن و محبت کرنے والے ہے اور اس خطے کے معمار اپنے کل کو روشن بنانے کے لیے ہمہ وقت مصروف عمل ہے۔ گلگت بلتستان کے نوجوان وادی امن و محبت کو خیر باد کہہ کر وطن عزیز کے گوشے گوشے میں جا کر اپنے بہتر مستقبل کے خواب کو سچ کرنے کے لیے دن رات محنت و مشقت میں مصروف عمل ہیں۔ گلگت بلتستان کے لاتعداد ایسے ستارے بھی ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت دن و رات محنت کرکے اپنے تعلیمی و دیگر اخراجات کو پورا کر رہیں ہے اور اس محنت و مشقت کے ساتھ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایسے بھی قابل تقلید نوجوان ہیں جو وادی امن و محبت سے دور رہ کر بھی اپنے خاندان کی مالی معاونت بھی کر رہے ہیں ہے اور درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہی جوانوں کی محنت و بیداری ہی ہے جو مستقبل کے روشن ہونے کی امید کو روشن کیے ہوئے ہے۔ گلگت بلتستان کی سب سے بڑی مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل یہاں صنعتوں کا قیام نہ ہونا ہے گو کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں سیاحت بھی ایک نمایاں صنعت ہے مگر وادی امن کی سیاحتی صنعت کو ابھی وہ ترقی حاصل نہیں ہوئی ہے اس صنعت کو منافع بخش بنانے کے لیے ابھی بہت سارے کام کرنا باقی ہیں۔

گلگت بلتستان میں روزگار کے بہتر مواقع نہ ہونے کی وجہ سے ایک بڑی تعداد وادی امن و سکون کو خیر باد کہہ کر وطن عزیز کے مختلف حصوں میں جا بسے ہے۔ کراچی، راولپنڈی اور اسی طرح ملک کے دیگر کئی شہروں میں گلگت بلتستان کے با غیور و امن پسند باشندے وادی امن سے دور جا بسنے پر مجبور ہیں اور پاکستان کے دیگر حصوں میں جا بسنے والے افراد بھی مستقل روزگار یعنی سرکاری نوکریاں حاصل کرنے سے قاصر ہیں اس کی وجہ نوجوانوں کی صلاحیت میں کمی نہیں ہے بالکل کوٹہ سسٹم ہے۔

گزشتہ چند عرصے سے حکومت گلگت بلتستان سرکاری نوکریوں کے لیے موزوں افراد کا انتخاب ایک ٹیسٹنگ سروس کے ادارے کے ذریعے کرا رہی ہے جو خوش آئند و قابل تحسین عمل ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ روشن گلگت بلتستان کے مستقبل کے لیے ہر شعبے میں میرٹ کا قیام ناگزیر ہے۔ اس ٹیسٹنگ سروس کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کے ٹیسٹ سینٹرز وطن عزیز کے تمام بڑے شہروں میں نہیں ہیں جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کے با غیور و باصلاحیت جوان جو وادی امن و سکون سے صرف غم روزگار کی وجہ سے دور رہنے پر مجبور ہیں وہ نوکریوں کے ان موقعوں سے یکساں طور پر استفادہ حاصل کرنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔

یہ انتہائی ضروری ہے کہ ٹیسٹ سینٹرز کا قیام پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ہو تا کہ تمام افراد یکساں ان موقعوں سے استفادہ کرسکے۔ صاحب اختیار افراد سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلہ پر توجہ کریں جناب یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک جوان کراچی سے گلگت بلتستان صرف ایک ٹیسٹ میں شمولیت حاصل کرنے کے لیے سفر کریں اور اتنے طول مسافت کے لیے جو اخراجات درکار ہے وہ کتنے جوان برداشت کر سکتے ہے جناب جوان پہلے ٹیسٹ میں شمولیت کے لیے ایک طویل سفر طے کریں پھر اگر ٹیسٹ میں کامیاب ہوں تو پھر ایک طول عرصے کے بعد انٹرویو کے لیے ایک طویل مسافت طے کریں نیز سفر کے دوران جو اخراجات ہوں ان کا انتظام کرنا بھی جوان کے لیے ایک الگ مشکل ہے۔

گلگت بلتستان حکومت اگر وسائل کی کمی کی وجہ سے وطن عزیز کے تمام بڑے شہروں میں ٹیسٹ کے انتظامات نہیں کرا سکتی ہے تو دور حاضر کے جدید نظام کی بھی مدد اس سلسلے میں لی جاسکتی ہے اس کے علاوہ دیگر بھی کئی طریقے اور ذرائع موجود ہیں جن کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے جناب گزارش یہ ہے کہ آپ کرنے کا عظم کریں طریقے ہزاروں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی اہم مسئلہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے وہ افراد جو پاکستان کے دیگر حصوں میں موجود ہیں ان کا الیکشن میں براہ راست شمولیت کا نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے ان کے مسائل کے حل کے لیے کوئی آواز بلند کرنے والا نہیں ہے۔

حالیہ کرونا کی وبا کی وجہ سے اہلیان گلگت بلتستان کو پاکستان کے دیگر حصوں میں جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا س کی بڑی وجہ عوامی نمائندگان کی پاکستان کے دیگر حصوں میں مقیم افراد کے مسائل سے لاتعلقی ہے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے ان باشعور افراد کو بھی حق رائے دہی کا موقع دیا جائے جو پاکستان کے دیگر حصوں میں مقیم ہیں تا کہ ایک بہتر و روشن گلگت بلتستان کے کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •