بابا گورونانک: ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج پنجاب اور برصغیر کے وسطی دور کے ایک بہت بڑے صوفی شاعر، تنقیدی شعور کے حامل مفکر اور طبقاتی سماج کے منحرف اور باغی روحانی اور سماجی رہنما بابا گرو نانک ( 1469۔ 1539 ) کی 480 برسی ہے۔ طبعیت کی ناسازی کے باوجود چند دن پہلے دوستوں کی دعوت پر لاہور اور نانکانہ صاحب بھی جانا ہوا جہاں میں نے ان کی جنم بھومی اور گردوارہ میں ان کی زندگی اور افکار پر ایک لیکچر بھی دیا۔

المیہ یہ ہے کہ بابا نانک کو صرف سکھ مت کے بانی کی شناخت تک محدود کر دیا گیا ہے لیکن درحقیقت وہ اپنے دور کی حد تک ایک تنقیدی شعور اور باغیانہ خیالات کے حامل ایک غیر معمولی مفکر اور بڑے شاعر تھے۔ ان کی پیدائش لاہور کے قریب ایک کھشتری ہندو گھرانے میں ہوئی لیکن تیس سال کی عمر میں گوتم بدھ کی طرح انہوں نے بھی فکری جستجو کی کی خاطر سب کچھ چھوڑ دیا۔ انہوں نے زندگی میں بڑا حصہ فکری جستجو کے ان بڑے پانچ سفروں میں گزارا، جس میں وہ پنجاب کے مختلف علاقون کے ساتھ ساتھ شمالی ہندوستاں، تبت، شری لنکا، عراق، مکہ اور مدینہ بھی گئے اور زندگی کا بڑا عرصہ ان سفروں اور فکری جستجو میں گزارا اور اپنی شعوری زندگی میں کسی بھی مذہب کے پیروکار نہیں تھے اور نہ ہی کسی نئے مذہب کی تشکیل کے خواہاں تھے۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ وہ مسلم تصوف کی چشتیہ روایت اور ہندی ویدانت کے فکری امتزاج کے بانی تھے اور اسی روایت سے بھگتی تحریک نے جنم لیا، جس کے فکری اثرات مسلم صوفی اور ہندی ویدانت کے نمائندہ شعراء کے ساتھ ساتھ سولھویں صدی میں اکبر کے دین الاہی پر بھی جا بجا نظر آتے ہیں۔

بابا نانک جہاں تنگ نظر مسلم مذہبی علمائی کی مخالفت کرتے ہیں وہاں وہ ہندو پنڈتوں کی بھی ویسی ہی مخالفت کرتے ہین حتی کہ وہ ان جوگیوں اور سنیاسیوں کی بھی سخت مخالفت کرتے ہیں جو زندگی سے فرار اور تیاگ کا درس دیتے ہیں، اس لحاظ سے بابا نانک اپنے دور کی حد تک اور بنیادی طور پر ایک دنیوی یعنی سیکیولر مفکر اور سماجی رہنما ہیں جو اس سماج میں ذات پات کے نظام، مذہبی درجہ بندی اور تفریق کے سخت خلاف تھے۔ بابا نانک ایک سیاسی مفکر بھی تھے کہ ظہیر الدین بابر کی ظالمانہ اور فاتحانہ آمد ان ہی کے دور میں ہوئی ہے اور اس دور کے وہ واحد مفکر ہیں جنہوں نے نہ صرف بابر پر سخت تنقید کی ہے بلکہ ان کی حکومت کے بھیانک اثرات کا دور اندیشی سے تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے۔

بابا نانک کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ وہ خواتین کی سماج میں برابر اور آزاد حیثیت کے سخت قائل تھے اور انہوں نے اپنی فکری ستھ میں خواتین کو یکساں طور پر شامل کیا، اس معاملے میں وہ گوتم سے بھی آگے تھے کہ گوتم نے بھی شروعات میں خواتین کو اپنی سنگت میں شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا اس لحاظ سے وہ دنیا کے پہلے فیمینسٹ تھے۔

شاعرانہ اعتبار سے ان کا تعلق بابا فرید کی چشتیہ شعری روایت ہے، ویسے بھی وہ چشتیہ صوفیا اور برصغیر کے ویدانتی بھگتوں کی طرح موسیقی کے بہت بڑے شائق تھے، ان کے ساتھ ہمیشہ بھائی مردانہ نام کا ایک مسلمان میراثی ہمسفر ہوتا تھا۔ بابا نانک وسطی دور کے ایک بڑے تنقیدی شعور کے حامل مفکر، صوفی اور انسان دوست شاعر، ذات پات کے طبقاتی نظام کے باغی، خواتین کی آزادی اور برابری کے علمبردار اور خدا کی صوفیانہ وحدانیت اور وحدت آل وجود کے روحانی افکار کے حامل ایک سیکیولر رہنما تھے، جن کو ان کی فکری روح کے مطابق متعارف کروانے کی اشد ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جامی چانڈیو

جامی چانڈیو پاکستان کے نامور ترقی پسند ادیب اور اسکالر ہیں۔ وہ ایک مہمان استاد کے طور پر ملک کے مختلف اداروں میں پڑھاتے ہیں اور ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔ [email protected] [email protected]

jami-chandio has 8 posts and counting.See all posts by jami-chandio