خوبصورتی کا انخلا


ذہانت کے انخلا (برین ڈرین) کہ بارے میں پریشان ہونے کا وقت تبھی گزر چکا تھا جب مشرق وسطیٰ کے صحرا میں تیل پھوٹا اور ہمارے صحراؤں کی قسمت پھوٹی۔ اب خوبصورتی کا انخلا (بیوٹی ڈرین) بھی تیزی سے جاری ہے، لیکن فوری عملی اقدام سے شاید اسے روکا جا سکتا ہے۔

اب یہ بات تو ماننے والی ہے کہ خوبصورت لوگوں کی زندگی بھی پرکشش ہوتی ہے۔ چمکتی گاڑیاں، شاہانہ پارٹیاں، اور بدصورت ان کے قدموں میں۔ سو خوبصورتی بنا ذہانت کی اہمیت سے انکار نہیں ہو سکتا۔ لیکن ذہانت بنا خوبصورتی بھی آپ کو اونچی جگہوں پر لے جا سکتی ہے۔ آئنسٹائن کی مشہور تصویر کا سوچیں جس میں وہ فوٹوگرافر کو زبان دکھا رہے ہیں۔

یہ تصویر پاپ کلچر کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ آئنسٹائن کی ذہانت نے اس تصویر کو دوام بخش دیا ہے۔ ورنہ تو وہ صرف ایک جھریوں بھرے چہرے کی تصویر ہے۔

لیکن اگر نہ ذہانت ہو، اور نہ خوبصورتی تو آپ کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ اور پاکستان میں ایسا وقت بہت جلد ایک خوفناک حقیقت بن سکتا ہے۔ پاکستان سے جانے والی بین الاقوامی پروازوں پر خوبصورتی کا انخلا تیزی سے جاری ہے۔ ہمارے سب سے گھبرو جوان لڑکوں اور سب سے حسین لڑکیوں کی شادیاں ان اوورسیز کزنز سے ہو رہی ہیں جن کی بنیادی قابلیت (کئی بار واحد قابلیت) صرف ایک غیر سبز پاسپورٹ ہے۔

ان کزنز کے والدین وہی ذہانت بھرے دماغ ہیں جو سالوں پہلے یہاں سے انخلا کر چکے۔ اب یہ والدین، چونکہ ذہین ہیں، مزے سے پاکستان اترتے ہیں، ریوڑ میں سے سب سے فٹ کو چنتے ہیں، اور ویزے کی ٹافی دکھا کرباہر ایکسپورٹ کر دیتے ہیں۔

اسی دوران کوئی بیچارہ لوکل کزن بھی لائن میں ہوتا ہے لیکن بری طرح دھتکارا جاتا ہے (یا جاتی ہے ) ۔ اگر دلہن ایکسپورٹ ہوتی ہے تو لوکل کزن مذمت کا نہیں بلکہ تعزیت کا مستحق ہے۔ وہ بیچارہ جتنا بھی سمارٹ ہو، جتنا بھی کماتا ہو، بغیر ویزے کے وہ اوورسیز کزن کا تخت نہیں الٹ سکتا۔

سو دلہن ائربس یا بوئنگ پر بیٹھ کراس کی زندگی سے پرواز کر جاتی ہے۔ اور جب ایک یا دو سالوں کے بعدچند دنوں کے لئے واپس آتی ہے تو لوکل کزن کو اس کے بچے ماموں کہتے ہیں اور وہ ننھے پودنے پودنیوں کے لئے نیسلے کا پانی یا امپورٹڈ لالی پاپ لانے کا کام کرتا پایا جاتا ہے۔

اور جو اگر دولہا ایکسپورٹ ہو تو وہ بھی کیا تماشا ہوتا ہے۔ میں ایک دیسی لڑکی کو جانتا تھا، مغرب میں رہ کر وہیں کے طرز زندگی میں رچی بسی، لیکن جب کھانوں کی بات ہوتو کیا مغربی، کیا دیسی، سب پھوڑنے کو تیار۔ خاتون کی چوڑائی، ان کے اپارٹمنٹ سے آتی خوشبویں، اور ڈلیوری کرنے والے ریسٹورانٹس کے نمایندے، خبر دیتے تھے ناشتے کے پراٹھوں اور ڈونٹس کی، لنچ کے پیتزوں، اور ڈنر کی بریانیوں کی۔

مجھے تو اس کے ساتھ elevator پر چڑھتے ڈر لگتا تھا کے کہیں کشش ثقل کے سامنے elevator ہتھیار نہ ڈال دے۔

خوبصورتی کی اس براہ راست متضاد کے لئے صرف ان کی والدہ ہی ایسی پلاننگ کر سکتی تھیں جو ایک بار بلڈنگ کی لابی سے گزرتے ہوئے میں نے ان کے منہ سے سنی: ”فکر نہ کرو، مائی ڈیر، ہم تمہارے لئے دولہا امپورٹ کر لیں گے۔“

ان کے لئے پاکستانی دولہا اور پاکستانی آم ایک برابر تھے، سب سے بہترین والے پیٹی میں پیک کرو اور باہر بھجوا دو۔

اور انہوں نے بیٹی سے اپنا وعدہ پورا کیا۔ چند ہی مہینوں میں امپورٹڈ مال کی دیسی حلقوں میں پریڈ ہو رہی تھی۔ شعیب منصور کی فلم ”بول“ کے ایک کردار کے الفاظ میں : ”piece بہت ٹائٹ ہے“ ۔ اور میں یہ بات کہتے ہوئے واضح کر دوں کہ مجھے دوسرے مردوں میں کوئی کشش نہیں محسوس ہوتی۔ یعنی اتنا ٹائٹ پیس تھا۔ میرے ساتھ ہی ایک فیکٹری میں سامان ڈھوتا تھا۔ میں اسے دیکھ کر سوچتا:

”ایسا پپو بچہ تو ہمسفر کے اشعر اور خرد کے ملاپ سے ہی پیدا ہو سکتا ہے۔“ یا
”کتنی نازنینوں کے دل توڑے تھے جب تم پاکستان سے اس بین الاقوامی پرواز پر بیٹھے تھے۔“ یا
”یار پاکستان میں رہ کر ہمارے لالی ووڈ کی حیات نو میں اپنا حصہ ڈالتے نا۔“ یا
”یار لالی ووڈ کی حیات نو کے بجائے اس فیکٹری کی اسمبلی لائن میں اپنا حصہ ڈال رہے ہو۔“

تاریخی طور پر تو خوبصورتی کا انخلا بھی مڈل ایسٹ میں تیل کی دریافت کا شاخسانہ ہے، لیکن خواتین کے رسالوں (عام زبان میں ڈائجسٹ) میں لکھنے والوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ کوئی بھی ڈائجسٹ اٹھایں، ایک کہانی تو ملے گی جس میں ایک خوبرو کزن امریکہ سے آتا ہے، پھپپیاں اور خالایں اپنی بیٹیاں اس کے قدموں میں پھینکتی ہیں، اور وہ امریکا پلٹ ان میں سے سب سے حسین کو اڑا لے جاتا ہے، مہاورتاً نہیں، حقیقتاً۔ وہ حسینہ ظاہری اور باطنی دونوں حسن رکھتی ہے، اور معصوم تو اتنی کے اپنے انگھوٹے اور ناک کا فرق نہ بتا سکے۔

اگر کہانی میں کوئی بیچارہ لوکل کزن ہوتا ہے تو وہ منفی روپ میں، حسد میں ڈوبا ہوا، جو یہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ جتنی بھی محنت کرے اور حسد نہ کرے، اپنے پاسپورٹ میں جائے پیدائش کی لائن پر پاکستان کے علاوہ کچھ نہیں لکھ سکتا۔

بہت بڑا حصہ رشتہ آنٹیوں نے بھی ڈالا۔ کزنز کی تو صرف مثال ہے۔ رشتہ آنٹیاں ان کو بھی خواب دکھاتی ہیں جن کے کزن باہر نہیں ہوتے۔ جس آنٹی کے پاس جتنے زیادہ باہر کے رشتے، ان کے اتنے ہی صارف۔

صرف امید ہے کی جا سکتی ہے کے کسی دن ہمارے مقامی رشتے اعلان جنگ کر دیں اور رشتہ آنٹیوں کی سپلائی لائنز کو کاٹ ڈالیں۔

لیکن اگر سپلائی لائنز کھلی رہیں تو ایک آدھ نسل میں ہم ذہانت اور خوبصورتی، دونوں سے عاری، عقل سے پیدل عفریتوں کا معاشرہ بن چکے ہوں گے۔

خوبصورت لوگوں کو پاکستان سے نکلنے سے روکیں۔ بھول جایں کہ آپ روکیں گے ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی پروفیشنلز کو۔ یا ایسے الیکٹریشنز کو جنہیں پلاس پکڑنا آتا ہو، یا وہ پلمبر جنہیں پائپ جوڑنا آتا ہو۔ یہ لوگ جس ٹرین پر سوار ہوئے وہ کب کی آپ کا سٹیشن چھوڑ چکی۔ اور یہ کم از کم باہر جا کر زر مبادلہ تو بھیجتے ہیں۔ خوبصورت لوگ تو صرف ہمارا خوبصورتی کا gene pool خالی کر رہے ہیں اور بدلے میں کچھ نہیں۔

مشورہ یہ ہے کہ خوبصورت لوگوں کو exit control list پر ڈال دیا جائے۔ ان کی ظاہری خصوصیات ایک کلپ بورڈ پر لگا کر امیگریشن کے ڈیسکس پر رکھ دی جایں۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ خصوصیات سب کو معلوم ہیں۔ چند ایک ہیں گورا رنگ، اٹھی ہوئی ناک، تیکھے نقوش، لمبا قد، چھریرا بدن، اور دماغ کی کوئی قید نہیں۔ یہ ویزا ظاہری پیکنگ پر ملتا ہے، ڈبے کے اندر کیا ہے، اس سے کیا لینا۔

جو بھی ان خصوصیات کو میچ کرے، اور spouse visa پر سفر کر رہا ہو، اسے روکا جائے اور واپس جا کر مقامی gene pool میں حصہ ڈالنے کو کہا جائے۔

Facebook Comments HS