نوشابہ کی ڈائری: حکیم سعید شہید․․․سندھ میں گورنر راج․․․ ”مہاجر“ لفظ ”متحدہ“ سے تبدیل -قسط 22۔


19 جنوری 1999

وقت کتنی تیزی سے گزرتا ہے، زخموں پر کھرنڈ جماتا، مرہم رکھتا، یہ اس تیزرفتاری سے دوڑتا ہے کہ دوڑتے قدموں کی اڑتی دھول میں ماضی دھندلاجاتا ہے۔ کب سے ڈائری نہیں لکھی، جب لکھنے بیٹھی ذیشان سامنے آگئے، ”ابے کب سے لکھ رہی ہے تھکی نہیں“ اس لکھنے پڑھنے کے چور کو میرے کتابیں پڑھنے اور ڈائری کے کئی کئی صفحات کالے کر دینے پر کتنی حیرت ہوتی تھی۔ جب تک وہ ساتھ تھے میں ان کے سونے کے بعد لکھنے بیٹھتی، جب ان کی آنکھ کھلتی یہی جملہ ان کی زبان پر آتا۔

پچھلے ہفتے ان کی پہلی برسی تھی․․․ ذیشان کی برسی․․․! سوچتے اور لکھتے ہوئے دل پر چھری چل جاتی ہے، لیکن حقیقت کا سامنا تو کرنا ہے، اس وقت بھی کیا تھا جب تھانے سے آنے والے سپاہیوں نے کہا تھا، ”بی بی! عباسی شہید اسپتال پہنچ جائیں، باڈی کی شناخت کرنی ہے۔“ میں نے ”اچھا“ کہہ کر دروازہ بند کیا تھا اور وہیں دل پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔ اسپتال کا وہ منظر․․․ ہر طرف بسی خون کی بو، اسٹریچر پر چادر سے پورا ڈھکا جسم، لرزتے ہاتھوں سے چادر سرکائی، لب پر دعا آخری بار تھرتھرائی ”یا اللہ یہ ذیشان نہ ہوں ․․․!

“ دعا ہار گئی۔ وہ لمحہ آ گیا تھا جس نے مجھے کب سے مصلوب کر رکھا تھا۔ ”کلمۂ شہادت“ کی آوازوں کے ساتھ ذیشان کو چارکندھوں پر جاتے دیکھا، تو ساتھ یہ آس بھی اٹھ گئی کہ اب وہ کبھی آئیں گے۔ انھیں کی وجہ سے تو وہ گھر نہیں چھوڑا تھا۔ ابو جان کے انتقال کے بعد امی اور ابو نے کتنا اصرار کیا تھا کہ اب تو تمھارے سسر بھی نہیں رہے، شوہر کا کچھ پتا نہیں، وہاں کیوں اکیلی پڑی ہو یہاں آجاؤ۔ بھائی جان بھابھی کے امریکا چلے جانے کے بعد امی ابو بھی تنہائی محسوس کر رہے تھے۔

مگر ان کے بہت کہنے کے باوجود میں نہیں گئی، بس یہ سوچ کر کہ ذیشان جانے کب آجائیں۔ لیکن ذیشان کے بعد وہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا، گھر بھی کاٹنے کو دوڑتا تھا، ذیشان کی خوشبو، ان کی آواز یادیں ہر طرف پھیلی تھیں۔ گھر کا سودا کیا اور سارنگ اور سامان لے کر دوبارہ وہیں آبسی جہاں سے ذیشان کا ہاتھ تھامے ان کی دنیا میں گئی تھی۔

ذیشان کو کس نے مارا؟

کچھ نہیں پتا، جان کر کرنا بھی کیا ہے، مجھے کسی کے ہاتھ پر اپنے مقتول کا لہو تلاش نہیں کرنا۔ ”میری بات ہوگئی ہے۔ وہ گرفتاری دے گا، وعدہ معاف گواہ بنے گا، کچھ سال کی سزا ہوگی، اس کی رہائی سے پہلے تم لوگوں کے نکلنے انتظام کرنا ہوگا، وہ بھی میں کرلوں گا۔ امریکا، آسٹریلیا، امارات․․․ جہاں جانا آسان ہو وہاں چلے جانا، لیکن اس کے رہا ہوتے ہی فوراً، شاید اسی دن نکلنا ہو۔“ نوشاد چچا نے جب یہ بتایا تو مجھ میں امید کے کتنے دیے جل اٹھے تھے۔ ہم ایک بار پھر پہلے کی طرح بے خوف جییں گے، ایک ساتھ رہیں گے، مل کر سارنگ کو خوشیاں دیں گے ․․․ لیکن، آٹھ دس دن ہی گزرے تھے کہ ذیشان کو مار دیا گیا۔ میت کا سارا انتظام ”یونٹ“ کے لڑکوں نے سنبھالا تھا، انھوں نے ہی اعلان کر دیا تھا کہ تدفین ایم کیو ایم کے پرچم سے ڈھکا گہوارہ ”شہدا قبرستان“ جائے گا۔

امی ابو کے گھر واپسی کے بعد اسکول کی نوکری چھوڑ دی، ملیر سے روز لیاقت آباد آنا بہت مشکل ہے، سوچا تھا ملیر کے کسی اسکول میں ملازمت کر لوں گی، لیکن ابو نے منع کر دیا، ”بیٹا! یہاں حالات ایسے نہیں کہ لڑکیاں باہر نکلیں، اور پھر تمھارے ساتھ ذیشان کا نام جڑا ہوا ہے اور یہ ’حقیقی‘ کا علاقہ۔“ ابو کی بات سن کر یاد آیا کہ میں اب ”نو گو ایریا“ میں ہوں۔ یہ اصطلاح کوئی ڈیڑھ دو سال پہلے ایم کیو ایم کی طرف سے سامنے آئی تھی۔

ایم کیوایم کا حکومت سے مستقل مطالبہ اور اصرار ہے کہ نوگوایریاز کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ’حقیقی گروپ‘ کی اجارہ داری ہے۔ ابو نے مجھے نوکری کرنے ہی سے نہیں بلاوجہ باہر جانے سے بھی منع کر رکھا ہے۔ وجہ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس گلی کی دو لڑکیوں اور چار گلیاں چھوڑ کر رہنے والے ابو کے دوست حمید صاحب کی بیٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی بھی باپ کو خوف زدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ ان میں سے دو کنواری تھیں، ایک طلاق یافتہ۔

ان کے گھر پہلے رشتہ آیا، اور انکار پر دھمکیاں آنے لگیں، اب وہ تینوں ’حقیقی‘ کے کارکنوں کی بیویاں ہیں۔ مکان کی تعمیر ہو، شادی کرنا ہو یا کاروبار، یہاں ’حقیقی‘ والوں کو ان کا ’حصہ‘ دیے بغیر کچھ ممکن ہی نہیں۔ مکان بنانے کے لیے بلاک اور بجری کا ٹرک آتے ہی اور شادی والے گھر کی دیواروں پر ’قمقمے‘ لگتے ہی ’حقیقی‘ کے لڑکے ’وصولی‘ کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ ابو آمدنی بڑھانے کے لیے گھر کی چھت پر دو کمرے بنانے کا ارادہ کر رہے تھے، لیکن یہ سوچ کر ارادہ بدل دیا کہ ’حقیقی‘ والوں کا پیٹ بھرنے کے لیے پیسے کہاں سے لائیں گے۔

ان سے تکرار اور انکار کا حوصلہ کس میں ہے۔ ”اچھن دودھ والا کسی بات پر جھگڑ پڑا تھا تو ’حقیقی‘ کا ذاکر ٹیڑھا دودھ سے بھری ٹنکی میں اتر گیا تھا۔ اچھن کو اس دن سارا دودھ بہانا پڑا تھا، پوری سڑک سفید ہوگئی تھی۔ ساتھ اس کے آنسو بھی بہہ رہے تھے۔“ امی نے بتایا تھا۔ شمن دادا کا خاندان محلہ چھوڑ گیا۔ ان کے گھر دو بار ڈکیتی پڑی تھی۔ ان کے بیٹے نے جاتے ہوئے ابو سے کہا تھا، ”ہم لوٹنے والوں کو سامنے آتا جاتا دیکھیں اور کچھ نہ کر سکیں، تو لٹنے کی تکلیف اور بڑھ جاتی ہے۔“

ایم کیوایم کے تمام تر احتجاج، مطالبات اور حکومت کے وعدوں کے باوجود یہ ”نو گو ایریاز“ اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ایم کیو ایم والوں کے لیے ’حقیقی‘ کے علاقے نو گو ایریا ہیں، تو ’حقیقی گروپ‘ کے لوگ بھی ایم کیو ایم کے علاقوں میں قدم نہیں رکھ سکتے، کہیں کوئی گلی ’سرحد‘ کا کام دیتی ہے کہیں کوئی سڑک۔ ایسے گھرانے بھی ہیں جن میں ایک بھائی ایم کیو ایم کا کارکن ہے تو دوسرا ’حقیقی گروپ‘ سے وابستہ، دونوں ایک دوسرے کے دشمن۔

نو گو ایریاز ہی کیا برقرار تو سبھی کچھ ہے ․․․ لاشوں کا گرنا، گرفتاریاں، شکایتیں، الزامات، ہڑتالیں۔ ایک تماشا یہ بھی ہوا کہ الطاف حسین نے بھوک ہڑتال کرنے کے لیے مہاجر عوام کا ریفرنڈم کروایا، اور ایم کیوایم کے مطابق اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے انھیں بھوک ہڑتال کرنے سے روک دیا۔ کسی نہ کسی کی جان تو روز ہی لی جا رہی ہے، لیکن قتل کے دو افراد کی شہادت نے تو جان ہی نکال کر رکھ دی، ایک حکیم محمد سعید دوسرا فراز۔

چھوٹے چچا اور چچی پر قیامت گزر گئی، جب انھیں اطلاع دی گئی ”مبارک ہو آپ کا بیٹا کشمیر میں شہید ہوگیا ہے۔“ جنازے پر جماعت اسلامی والے چچا کے گلے میں ہار ڈال رہے تھے، انھیں مبارک باد دے رہے تھے، رونے سے منع کیا جا رہا تھا، بیٹے کو مٹی کے حوالے کر کے، وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے کیسا تڑپ تڑپ کر اور بلک بلک کر روئے ہیں۔ تب بھی انھیں چپ کرانے کی کوشش کی گئی ”روتے کیوں ہیں یہ تو سعادت ہے“ چچا چیخ پڑے تھے، ”ارے اب رو تو لینے دو خدا کے لیے ․․․!

“ اور حکیم محمد سعید․․․ اتنا شریف ایسا نفیس شخص بھی یوں بے دردی سے مارا جا سکتا ہے ․․․! ان کا سفید براق لباس سرخ کر دیا گیا۔ وہی لباس جو مہاجر ہونے کی علامت تھا۔ دو فوجی، رینجرز اور پولیس کے اہل کار بھی مارے جا چکے ہیں۔ بانوے کے آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس افسران تو چن چن کر قتل کیے جا رہے ہیں۔ انسپیکٹر فخر عالم، طارق کمانڈو اور اسلم حیات کو مار ڈالا گیا۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ملک شاہد حامد کی جان لے لی گئی، آفاق احمد بم دھماکے میں بال بال بچ گئے۔

حکیم سعید کے قتل کے الزام میں ایم کیوایم کے کارکن عامراللہ کو گرفتار کیا گیا ہے، جسے کے ’اعتراف‘ اور ’انکشاف‘ پر وزیراعظم نواز شریف ایم کیوایم سے دیگر ملزمان کو حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایم کیوایم حکومت کا حصہ بھی ہے اور اس سے ناراض بھی۔ اس دور میں ایم کیوایم کو سندھ کی حکومت میں لگ بھگ اتنا ہی حصہ ملا تھا جتنا جام صادق کے دور میں تھا، نواب مرزا سندھ اسمبلی کے اسپیکر بنائے گئے تھے اور ڈاکٹرفاروق ستار سنیئر وزیر، مزید وزارتیں اس کے علاوہ تھیں۔

جو اسیر تھے وہ وزیر ہوگئے، لیکن شہر کی قسمت نہ بدلی۔ ایم کیوایم اور حقیقی کے درمیان تصادم کے واقعات اور ایم کیوایم کی جانب سے نو گو ایریاز کے خاتمے کے پرزور مطالبے سے خدشہ ہے کہ کہیں ان دونوں جماعتوں کی باقاعدہ جنگ شروع نہ ہو جائے۔ شکر ہے اشتیاق اظہر کو لوگوں اور کارکنوں میں حمایت میسر نہیں ورنہ ان کے ایم کیوایم سے اخراج کے بعد ’تیسرا گروپ‘ بھی وجود میں آ سکتا تھا۔ اشتیاق اظہر پر یہ الزام لگاکر استعفا لیا گیا ہے کہ انھوں نے ایم کیوایم کی ’رابطہ کمیٹی‘ کے کنوینر کی حیثیت میں بھاری معاوضوں کے عوض لوگوں کے ہالینڈ اور فرانس کے ویزے لگوائے۔

اشتیاق اظہر نے اس الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھ سے بندوق کی نوک پر استعفا لیا گیا، انکار پر انیس ایڈووکیٹ نے زدوکوب کرنے کی کوشش کی، گھر جلانے کی دھمکی دی گئی۔ یہ وہی اشتیاق اظہر ہیں، جو ایم کیو ایم کے مشکل وقت میں آگے آئے تھے اور جو اس جماعت کے پرامن اور معصوم ہونے کا پرچار کیا کرتے تھے، اب اسی جماعت سے جان کی امان چاہتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب اشتیاق اظہر الطاف حسین کی نمائندگی کرتے ہوئے عظیم احمد طارق پر الزامات لگا رہے تھے، اور اب ان کے خلاف یہی فریضہ رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر آفتاب احمد شیخ ادا کر رہے ہیں۔

کچھ نہیں بدلا، لیکن ایم کیوایم پوری کی پوری بدل گئی۔ جس جماعت نے ’مہاجر‘ نام پر سیاست کا آغاز کیا، اس نام پر جدوجہد کی، جس نام کی خاطر لوگوں نے جانیں دیں، ”چریا ہے مہاجر چریا ہے، الطاف کے پیچھے چریا ہے“ کا نعرہ لگا کر جس نام کا مذاق اڑوایا گیا، آج وہ نام ترک کیا جا چکا ہے۔ مہاجرقومی موومنٹ کو ”متحدہ قومی موومنٹ“ کا نام دے دیا گیا ہے۔ یعنی ایم کیو ایم اپنے اوپر سے لسانی تنظیم کا ٹھپا ہٹاکر اب قومی جماعت بننے کے راستے پر گام زن ہے۔

پچھلے سال ہونے والے انتخابات میں ایم کیوایم نے ملک کے دیگر حصوں سے بھی امیدوار کھڑے کیے تھے۔ عقل سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایم کیوایم کی حکمت عملی کیا ہے۔ ایک طرف جماعت کا نام بدل دیا گیا ہے، قومی سیاست کے ارادے ہیں، ملک بھر کے مظلوموں کو متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت کی ترغیب دی جا رہی ہے، دوسری طرف ’جیے سندھ قومی محاذ‘ کے ساتھ مل کر سندھ کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کی تیاریاں ہیں۔

جب یہ خبر آئی کہ ’جیے سندھ تحریک‘ کے بانی جی ایم سید مرحوم کی رہائش گاہ پر ایم کیوایم اور جیے سندھ قومی محاذ کے مذاکرات ہوئے ہیں اور دونوں جماعتوں نے کالا باغ ڈیم، این ایف سی ایوارڈ اور مردم شماری کے خلاف متحد ہو کر جدو جہد کر نے کا فیصلہ کیا ہے، تو میرے دماغ میں ماضی کے واقعات اور بیانات کی فلم چلنے لگی۔ سندھی مہاجر بھائی بھائی کے نعرے، الطاف حسین کے یہ اعلانات کہ ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے اور سندھیوں کو ریڈانڈین نہیں بننے دیں گے، جی ایم سید سے ملاقاتیں، پھر حیدر چوک کا معاملہ، حیدرآباد میں مہاجروں کا قتل عام، اندرون سندھ سے کتنے ہی مہاجروں کی ہجرت، کراچی میں بیسیوں سندھیوں کا بہتا خون، الطاف حسین کا یہ کہنا کہ سندھودیش ہماری لاشوں پر بنے گا․․․ زیادہ پرانی بات تو نہیں، جب الطاف حسین نے سندھ کی تقسیم کا نعرہ بلند کیا تھا․․․ اور اب ایک بار پھر ایم کیوایم ’سندھی مہاجر اتحاد‘ کی سیاست کر رہی ہے۔

اب تو سندھی ٹوپی اور اجرک پہنے الطاف حسین کی تصویریں بھی جگہ جگہ لگی ہیں۔ شاید ایم کیوایم کی دنیا سے لفظ مہاجر اور پاجامہ کرتا ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد نائن زیرو پر ہونے والے اجلاس میں ایم کیوایم اور جیے سندھ قومی محاذ نے مشترکہ جدوجہد کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ سندھ وفاق کی کالونی بنا ہوا ہے۔ اونٹ کی کروٹ اور ایم کیوایم کی سیاست کا کچھ پتا نہیں، گزشتہ دو سال کے دوران ایم کیو ایم جس حکومت میں شامل رہی اس کے خلاف احتجاج بھی کرتی رہی، حکومت چھوڑنے کی دھمکیاں یوں دی جاتیں، جیسے بس آج کل میں اقتدار کے ایوانوں سے نکل آئے گی، لیکن پتا چلتا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

حکومت سے الگ ہوئی، کچھ روز بعد دوبارہ سرکار کا حصہ بن گئی۔ نوشاد چچا کبھی کبھی ملنے آ جاتے ہیں۔ ایک روز کہنے لگے، ”الطاف حسین مہاجروں اور ریاست کا ٹکراؤ چاہتا ہے، پتا نہیں اپنے لیے یا دوسروں کی خاطر۔“ وہ اس خطاب پر دیر تک بات کرتے رہے تھے جس میں الطاف حسین نے کہا تھا، ”اگر حکومت پاکستان انسانی حقوق کا احترام نہ کرے تو بین الاقوامی مالیاتی ادارے اسے قرضے نہ دیں۔ یہ قرضے پولیس کے لیے سامان خریدنے اور پنجاب کے دیہی علاقوں سے بنائی گئی پولیس پر خرچ کر دیے جاتے ہیں، جسے سرحد، بلوچستان اور سندھ اور خاص طور پر شہری علاقوں میں یہ کہہ کر بھیجا جاتا ہے کہ قتل عام کرو۔

“ اس خطاب میں الطاف حسین نے یہ بھی کہا تھا کہ، ”ہم سب مل کر ظالم پنجابی حکم رانوں سے سندھ کو نجات دلائیں گے۔ یہ نغمہ گایا جاتا ہے کہ میرا پاکستان ہے یہ تیرا پاکستان ہے، آپ کہیں یہ میرا نہیں پنجاب کا پاکستان ہے۔“ اور جب چودہ اگست کو کراچی میں پاکستان کا پرچم جلائے جانے کا واقعہ ہوا، تو مجھے نوشاد چچا کی بات سچ لگنے لگی۔ نوشادچچا الطاف حسین کے مہاجروں کے قسمت کا مالک بن جانے کو مہاجروں کی بدقسمتی کہتے ہیں، ”اپنی ذات کو قبلہ بنائے طواف میں مصروف اور ہر دم اپنے جذبات سے مغلوب شخص، جس میں تدبر تو دور کی بات بردباری تک نہیں۔

“ وہ بڑا دل چسپ واقعہ سناتے ہیں، ”یہ اس وقت کی بات ہے جب ایم کیوایم نے نئی نئی مقبولیت حاصل کی تھی، نسرین جلیل نے اپنے گھر میں الطاف حسین کو استقبالیہ دیا، مجھے بھی بلایا گیا تھا، میرے ساتھ نادرشاہ عادل سمیت کچھ دوسرے سنیئر صحافی بھی تھے۔ وہاں پہلے دیگر راہ نماؤں نے تقریریں کیں۔ چاروں صوبوں کی ثقافتوں کا مذاق اڑایا گا۔ پھر الطاف حسین نے خطاب کیا۔ موصوف نے مہاجرثقافت کی عظمت بیان کرتے ہوئے طوائف کو اس ثقافت کا مظہر قرار دیا اور اس ادا سے ہاتھ لہرا اور بل کھاکر اور کمر پر ہاتھ رکھ کے ٹھمکا لگاکر رقص کی جھلک دکھائی کہ وہاں موجود ہم صحافی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ اٹھے ․․․ یہ ہیں مہاجروں کے قائد۔

“ ایم کیوایم والوں کی رعونت کے قصے بھی یہ بتاتے ہیں کہ عام سا انسان طاقت ملتے ہی کیسے فرعون بن جاتا ہے، ”بانوے کا آپریشن شروع ہونے سے دو دن پہلے کی بات ہے۔ گلشن اقبال میں مشاعرہ تھا۔ شہر کے سارے معروف شعرا اسٹیج پر بیٹھے تھے۔ اتنے میں عظیم احمد طارق اپنے مسلح محافظوں کے ساتھ ہال میں داخل ہوئے۔ انھیں دیکھتے ہی سب بہ ادب کھڑے ہوگئے، بس ایک جون ایلیا جوں کے توں بیٹھے رہے۔ ایک غصے سے بھری آواز آئی․․․اس حرام زادے کو اٹھا کر باہر پھینک دو․․․ اور جون ایلیا کو اٹھاکر باہر پھینک دیا گیا۔“ نوشاد چچا سے یہ قصہ سن کر میں نے سوچا جب عظیم احمد طارق جیسے ”ایم کیوایم کے شریف ترین راہ نما“ کا یہ حال تھا تو باقی راہ نماؤں کے شاہانہ تیوروں کا عالم کیا ہوگا۔

قتل وغارت گری کا سلسلہ عوام سے حکم رانوں تک معمول کی بات بن کر رہ گیا ہے، لیکن حکیم سعید کے قتل نے سب کو ہلاکر رکھ دیا۔ اس واقعے نے ہی نشان دہی کی کہ کراچی کی صورت حال کتنی خطرناک ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے سندھ میں گورنرراج نافذ کر دیا گیا ہے۔

’گورنر راج‘ ہو یا جمہوریت راج کرے، ہم اہل کراچی پر تو لندن سے حکومت کی جاتی ہے۔ ہم کراچی والوں کی بھی کیا قسمت ہے۔ پورے برصغیر سے لندن کا اقتدار ختم ہوگیا، مگر ہم پر اب تک لندن سے حکم رانی کی جا رہی ہے۔ برطانیہ کے دارالحکومت میں ہونے والے فیصلے اور وہاں سے آتے ٹیلی فونک خطاب ہماری زندگیوں اور روزوشب کا فیصلہ کرتے ہیں۔ الطاف حسین کے لیے لندن ایسا محفوظ ٹھکانا ہے، جہاں بیٹھ کر وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور ایک ٹیلی فون کال کے ذریعے کچھ بھی کروا سکتے ہیں۔

اب تو انھیں وہاں غیرمعینہ مدت تک کے لیے سیاسی پناہ دے دی گئی ہے۔ پہلے بے نظیر بھٹو کی حکومت میں اور پھر نواز شریف کے دور میں کوشش کی گئی کہ برطانیہ الطاف حسین کو پاکستان کے حوالے کر دے، لیکن یہ ساری کوششیں ناکام ہوگئیں۔ لندن ایم کیوایم والوں کا دوسرا ٹھکانا بن چکا ہے۔ عمران فاروق بھی اپنی سات سال کی روپوشی ختم کرکے لندن پہنچ چکے ہیں، بلکہ انھوں نے لندن پہنچ کر ہی روپوشی ختم کی۔ خبروں میں آیا تھا کہ وہ شیعہ عالم کا روپ دھار کر ایران کے ذریعے برطانیہ پہنچے ہیں۔

نوشاد چچا کہتے ہیں، ”حیرت ہے جو کراچی میں دہشت گردی کا ماسٹرمائنڈ سمجھا جاتا تھا جس کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر سات لاکھ روپے انعام تھا، وہ سات سال تک چھپا رہا اور ہمارے ادارے اسے ڈھونڈ نہ پائے، اب وہ بڑے آرام سے فرار ہوکر لندن کو مسکن بنا چکا ہے۔“ ایک عمران فاروق ہی کیا، ایم کیوایم کے کتنے ہی راہ نما اور کارکن امریکا، برطانیہ، عرب امارات، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک میں جا بسے ہیں۔ چلو مہاجروں کو حقوق نہیں ملے مگر ایم کیوایم کے ان لوگوں کو پرسکون اور اچھی زندگی گزارنے کا موقع مل گیا۔

پتا چلا تھا کہ آپریشن کے متاثرین کے لیے ایم کیوایم کو معاوضہ دیا گیا ہے، پورے پچاس کروڑ روپے، باقی پچیس کروڑ روپے بھی ملنا تھے، نہ جانے ملے یا نہیں۔ لوگوں نے مجھے مشورہ دیا کہ تم بھی شہید کی بیوہ ہو معاوضہ وصول کرنے کے لیے رابطہ کرو، مگر میرا دل نہیں مانا، آپریشن کا متاثر کون نہیں، کسی کی جان گئی، کسی کی املاک تباہ ہوئیں، کسی کا کاروبار ختم ہوگیا، وہ لڑکیاں جو آپریشن کے ساتھ نازل ہونے والے حقیقی گروپ کے کارکنوں کی زبردستی بیویاں بنا دی گئیں۔

میری بھی کیا قسمت ہے، جہاں سے شہادت ملی وہیں سے شہید کی بیوہ کا اعزاز بھی عطا ہوا۔ ہم شہدا کے ورثا کی ایم کیوایم میں بڑی عزت ہے، انھیں ایوانوں میں منتخب کروایا جاتا ہے، جلسوں اور پروگراموں میں بلاکر بڑے احترام سے بٹھایا جاتا ہے۔ میں کیوں کہ نو گو ایریا کی باسی ہوں، اس لیے مجھ سے ایم کیو ایم والوں کا رابطہ ممکن نہیں ہوتا، اچھا ہی ہے، جاتی بھی نہیں۔ سوچتی ہوں اگر کوئی ایم کیوایم والا اس ”شہید کی بیوہ“ کی ڈائری پڑھ لے اور اس میں لکھے اپنی جماعت اور قائد کے بارے میں خیالات جان لے تو کیا ہوگا؟ ہونا کیا ہے، شہید کی بیوہ بھی شہید کر کے شہدا قبرستان میں بسا دی جائے گی۔

Facebook Comments HS