انسداد غربت سے ترقی و خوشحالی کا سفر
اقوام متحدہ کے 2030 کے 17 پائیدار ترقیاتی اہداف کی بات کی جائے تو اس میں غربت کا خاتمہ ایک اہم ہدف ہے لیکن کووڈ۔ 19 کی موجودہ وبائی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو انسداد غربت، خوراک کے تحفظ اور صحت عامہ سے متعلق مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر غربت کی بنیادی وجوہات میں غیر متوازن اقتصادی ترقی، تنازعات میں اضافہ، تعلیم و صحت جیسی بنیادی سہولیات تک عدم رسائی اور بے روزگاری و بد عنوانی جیسے سماجی مسائل کلیدی عوامل ہیں۔ ایسے دیرینہ مسائل کو حل کیے بغیر دس برس سے کم عرصے میں دنیا بھر سے غربت کا خاتمہ یقیناً کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے۔
دوسری جانب رواں سال 2020 چین سے غربت کے مکمل خاتمے کا سال ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ کی متحرک قیادت میں چینی حکومت کی کوشش ہے کہ غربت کے مکمل خاتمے سے ایک اعتدال پسند خوشحال معاشرے کی تکمیل کی جائے۔ انسداد غربت میں چین کی اعلیٰ قیادت کی سنجیدگی اور دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صدر شی جن پھنگ نے حالیہ عرصے کے دوران غربت سے دوچار علاقوں کے تواتر سے دورے کیے ہیں اور تخفیف غربت کے امور کا خود جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے دیہی باشندوں سے ان کے حالات زندگی سے متعلق دریافت کرنے سمیت انہیں درپیش مسائل کے حل کے لیے موقع پر احکامات جاری کیے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان علاقوں میں غربت کے خاتمے کے لیے متعین سرکاری اہلکار ہمیشہ چوکس رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اعلیٰ قیادت کی نگاہیں ان پر مرکوز ہیں اور فرائض سے غفلت برتنے کی صورت میں انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چین کی کوشش ہے کہ غربت کے مکمل خاتمے سے ترقی کے ثمرات تمام عوام تک یکساں بنیادوں پر فراہم کیے جائیں۔ اس ضمن میں انسداد غربت کی کوششوں میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔ اگرچہ چند حلقوں کا یہ خیال تھا کہ کووڈ۔ 19 کی وبائی صورتحال میں شاید چین غربت کے خاتمے سے متعلق اپنے اہداف میں تبدیلی لائے گا مگر چین کی اعلیٰ قیادت نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے یہ عزم ظاہر کیا کہ موجودہ معیارات کے تحت ہی سال 2020 ملک سے مکمل غربت کے خاتمے کا سال ہو گا۔
چین نے گزشتہ چالیس برسوں میں 70 کروڑ سے زائد لوگوں کو غربت کی دلدل سے باہر نکالا ہے۔ سال 2012 سے سال 2019 کے درمیان 9 کروڑ سے زائد لوگوں کو غربت سے نجات دلائی گئی۔ سال 2019 کے اواخر تک غربت کے شکار افراد کی تعداد صرف 55 لاکھ تک رہ چکی ہے جبکہ غربت کی مجموعی شرح 10.2 فیصد سے کم ہو کر صرف 0.6 فیصد کی سطح تک آ چکی ہے۔ انسداد غربت میں چین کی ان بے مثال کامیابیوں سے دنیا بھی سیکھنے کی خواہش مند ہے۔ ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں انسداد غربت میں چین کے کامیاب تجربات سے سیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے سال 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ دنیا کے لیے تعجب انگیز ہے کہ چین دس برس قبل ہی انسداد غربت کا ہدف حاصل کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔
انسداد غربت کی کوششوں میں ایک جانب جہاں چینی کمیونسٹ پارٹی کی مضبوط قیادت کی بدولت پالیسیوں کا تسلسل دیکھنے میں آیا وہاں دوسری جانب وقت کے بدلتے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے پیش قدمی کی گئی۔ شہروں کی طرز پر دیہی علاقوں میں بھی لوگوں کو تعلیم، صحت، رہائش سمیت تمام بنیادی ضروریات زندگی فراہم کی گئیں۔ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ لوگوں نے شہروں کا رخ کرنے کی بجائے اپنے اپنے علاقوں میں روزگار کو ترجیح دی۔
دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے لوگوں کو جدید سہولیات سے آراستہ نئے رہائشی مقامات پر منتقل کیا گیا جہاں ان کی بہتر دیکھ بھال اور روزگار کے انتظام کو یقینی بنایا گیا۔ غربت سے دوچار علاقوں کو جدید ٹیکنالوجی بالخصوص انٹرنیٹ تک رسائی دی گئی جس کے ثمرات آج سامنے آ رہے ہیں جب ایک عام کسان بھی اپنی زرعی مصنوعات باآسانی آن لائن فروخت کر سکتا ہے۔ چین کی جانب سے دیہی سیاحت کے فروغ کا ایک نیا ماڈل سامنے آیا، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ لوگوں نے تعطیلات کے دوران بیرونی ممالک یا بڑے شہروں کا رخ کرنے کی بجائے پرسکون دیہی علاقوں کا رخ کیا جس سے مقامی لوگوں کی آمدن میں زبردست اضافہ ہوا اور روزگار کے نت نئے مواقع سامنے آئے۔ مختلف علاقوں میں روایتی صنعتوں مثلاً دستکاری، کشیدہ کاری، ظروف سازی وغیرہ کو فروغ دیا گیا اور ان میں جدت لاتے ہوئے مقامی شہریوں کو روزگار فراہم کیا گیا۔
انسداد غربت میں اگر چین کی کامیابیوں کا احاطہ کیا جائے تو ایک چیز واضح ہے کہ تمام تر مسائل کے باوجود چین نے غربت کے خاتمے کی کوششوں کو سست روی کا شکار نہیں ہونے دیا ہے۔ سیاسی قیادت میں تبدیلی ضرور آتی رہی مگر غربت کے خاتمے کی پالیسیوں کا تسلسل جاری رہا بلکہ ہر گزرتے لمحے اس میں مزید بہتری لائی گئی۔ انسداد غربت کی کوششوں میں رکاوٹ بننے والے عناصر کی سختی سے حوصلہ شکنی کی گئی اور کڑے احتساب سے شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین پوری دنیا بالخصوص ترقی پذیر ممالک اور غربت سے دوچار ممالک کے لیے امید کی ایک کرن اور ترقی کا بہترین قابل تقلید نمونہ ہے۔


