مجھے ہوش میں رہنا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے گلگت سے روانہ ہوئے تقریباً دو گھنٹے ہو چکے تھے۔ میری یونٹ سکردو روڈ پہ سسی کے مقام پر واقع تھی۔ گلگت سے سفر کا دورانیہ تین گھنٹے تھا۔ گلگت شہر سے نکل کر کے کے ایچ پر اگر بائیں سمت جائیں تو ہنزہ کی طرف نکلتے ہیں اور دائیں جانب چلنے سے رخ راولپنڈی کی طرف ہوتا ہے۔ اسی جنکشن کے کچھ فاصلے پر ہنزہ ریور گلگت ریور میں ملتا ہے۔

ان دنوں 222 کلومیٹر لمبی سکردو روڈ زیر تعمیر تھی۔ اس دور دراز علاقے میں ایک بڑے پہاڑی سلسلہ کی سنگلاخ چٹانوں کو کاٹ کر انڈس ریور کے ساتھ ساتھ پر پیچ سڑک بنانے کے لئے کسی ٹھیکیدار کا حامی بھرنا تو دور کی بات ہے کوئی وہاں پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ایسے میں تیشہ فرہاد ہی کام آیا۔ ( فرہاد آرمی انجینئرز کا نک نیم ہے ) اس سڑک کی تعمیر کا کام فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو سونپا گیا تھا۔ اس ضمن میں وہاں جو یونٹس تعینات تھیں ان میں میری یونٹ 753 کنسٹرکشن ٹیم کے نام سے تھی جس کا ٹاسک اس سڑک پر پلوں کی تعمیر تھا۔

سڑک کی تعمیر ابھی ابتدائی مراحل میں تھی۔ پرانے ٹریک کی چوڑائی اتنی کم تھی کہ ستر کی دہائی کی ٹویوٹا جیپ جو کہ موجودہ ماڈل سے چوڑائی میں کہیں کم تھی، اس پر نہیں چل سکتی تھی۔ پہلے مرحلے میں ٹریک کو چوڑا کرنا اور اس کی ری ایلائنمنٹ تھی۔ اس سڑک کو بنانا کے کے ایچ سے کہیں زیادہ مشکل تھا۔ کے کے ایچ کا کیلٹی ریٹ one person per km تھا یعنی سڑک کے ہر کلومیٹر بنانے کے لئے ایک شخص نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا جبکہ سکردو روڈ کا کیلٹی ریٹ 1.2 تھا۔

یوں تو ہماری یونٹ کی گاڑی سرکاری ڈیوٹی پر ہر روز گلگت جایا کرتی تھی۔ مہینے میں ایک آدھ بار ہم بھی گلگت سے ہو آتے۔ گلگت سے ضروری اشیاء کی خریداری بھی ہو جاتی اور 60 سی سی ایس میں دوستوں سے ملاقات بھی اور اگلے دو تین ہفتے سکردو روڈ پر گزارنے کے لئے توانائی بھی آ جاتی۔

گلگت سے واپسی پر شہر سے نکل کر دائیں جانب کے کے ایچ پر بہت خوب صورت علاقہ ہے۔ اور سڑک کے بائیں طرف دریا کے پار چھوٹی چھوٹی بستیاں بھی نظر آتی ہیں جن کی خوب صورتی دل میں وہاں جانے کی خواہش پیدا کرتی ہے۔ سفر کا یہ حصہ تو بڑا خوشگوار تھا اس لیے تیزی سے گزر جایا کرتا۔ کے کے ایچ چند مہینے پہلے ہی ٹریفک کے لئے کھلی تھی اس لیے بلاسٹنگ کے ما بعد اثرات اکثر رونما ہوتے جو موسم کی چیرہ دستیوں سے دو چند ہو جاتے۔

کے کے ایچ پر میرا سفر صرف ساٹھ کلومیٹر کا تھا جس میں بعض اوقات دو یا تین روڈ بلاک مل جاتے جس کی وجہ سے سفر کا دورانیہ بڑھ جاتا۔ گلگت سے ساٹھ کلومیٹر کی مسافت پر جگلوٹ واقع ہے جو پہاڑی کے اوپر ایک آبادی ہے۔ جگلوٹ کی حدود میں ہی گلگت ریور انڈس ریور سے جا ملتا ہے۔ دریاؤں کے مقام اتصال سے قبل ہی سکردو جانے والی گاڑیاں کے کے ایچ سے بائیں جانب نیچے اترتے ہوئے گلگت ریور پر بنے پل سے گزر کر سکردو روڈ پر ہو لیتی ہیں جو انڈس ریور کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ اس پل کو فرہاد برج کہا جاتا ہے۔

یہاں سے آگے کا سفر تھکا دینے والا ہوتا تھا۔ اونچی نیچی بل کھاتی ہوئی کچی سڑک جس پر جمی ہوئی مٹی کی سخت متوازی لائنیں گاڑی کے ٹائروں کے ساتھ ٹکرانے سے نہ صرف مسلسل ہچکولوں کا باعث بنتیں بلکہ تھرتھراہٹ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے صوتی اثرات بھونچال کی سی کیفیت طاری کرتے۔ سڑک کے بائیں جانب بلاسٹنگ کے سبب نوکیلی چٹانوں والے پہاڑ اور دائیں طرف بہت گہرائی میں تیز بہاؤ کے ساتھ انڈس ریور کا پر شکوہ نظارہ۔ ریور بیڈ کی ڈھلوان اور بہاؤ کی تیزی کے سبب زیر آب پتھروں کے ٹکرانے کی آوازیں جب پانی کے بہاؤ کی آواز کے ساتھ مدغم ہوتیں تو پردہ سماعت پر ایک خوشگوار دھن کا گمان ہوتا۔ اس علاقے میں دریا کی چوڑائی کم مگر گہرائی بہت زیادہ ہے۔

جیپ کا ڈرائیور لانس نائک نذیر چابکدستی سے ہر آنے والے موڑ کو پیچھے چھوڑتا جا رہا تھا۔ نذیر ایک اچھا ڈرائیور تھا مگر اس کے ارد گرد کے لوگوں نے اسے پائلٹ کا نام دے کر اس کا دماغ خراب کیا ہوا تھا اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ وہ سی او صاحب کا ڈرائیور تھا جو ہمیشہ اکڑفوں ہوتا ہے۔ آفتاب کیمپ سکردو روڈ کا پہلا پڑاؤ ہوا کرتا تھا جو ہم کافی پیچھے چھوڑ آئے تھے اور اب ورکشاپ جو کہ دوسرا پڑاؤ تھا کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس کے بعد ہنوچل گاؤں اور پھر ہماری یونٹ۔ جوں جوں پڑاؤ گزرتے جاتے سفر کی منزلیں طے ہو جانے کا اطمینان ہوتا۔

اچانک ڈرائیور کی آواز آئی اوہ اوہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے دیکھا موڑ کاٹتے ہوئے وہ تیزی سے سٹیرنگ گھما رہا تھا مگر گاڑی مڑنے کی بجائے سیدھا جا رہی تھی ساتھ ہی وہ بریک لگا رہا تھا جس کی وجہ سے گاڑی تقریباً ایک لمحے کے لیے رکی بھی سہی مگر اس طرح کہ اس کے دو پہیے سڑک سے باہر دریا کی سمت ہوا میں معلق تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈرائیور کے منہ سے نکلا صاحب جی اب گئی اور ساتھ ہی گاڑی سینکڑوں فٹ گہرائی میں لڑھک گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حادثے کی جزئیات کو اگر وقت کی قید میں لائیں تو یوں کہیے کہ چشم زدن میں سب ہو گیا بس لمحوں کی بات تھی میں صرف یہی سوچ سکا کہ حادثہ تو ہو چکا مگر مجھے حتی الامکان ہوش میں رہنا ہے۔

ایک دو تین چار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں تقریباً نیم بے ہوشی کی کیفیت میں گاڑی کے ٹپے گن رہا تھا جب گاڑی نیچے لڑھک کر کسی جگہ ٹکرائی اور وہاں سے اچھال کر مزید نیچے کسی اور چٹان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر مزید نیچے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور نیچے۔ چوتھے ٹپے کے بعد لگا کہ گاڑی کسی بڑے بولڈر کے آگے آ جانے سے رک گئی ہے۔ میں نے آنکھیں کھولیں اور آسمان دکھائی دیا تو سمجھا کہ گاڑی نہیں رکی بلکہ گاڑی کی قلابازیوں کے دوران میں باہر گر پڑا تھا۔

میں ایک بڑے بولڈر پر چت پڑا تھا مگر حرکت کرنے کی سکت نہ تھی۔ اور تو کسی چیز کا ہوش نہ تھا بس درد کی شدت سے محسوس ہوتا تھا کہ کمر میں خنجر گھونپا گیا ہے۔ کچھ دیر بے حس و حرکت پڑے رہنے کے بعد سر میں بھی درد محسوس ہوا اور ہمت کرکے بمشکل بازو کو حرکت دے سکا۔ سر کے پیچھے ہاتھ لے گیا تو گیلا سا لگا۔ میں سمجھ گیا کہ سر پہ بھی چوٹ لگی ہے۔ اس وقت خود کو حرکت دینے کے قابل نہ ہونا بڑا مسئلہ تھا اس لیے وہیں پڑا کراہتا رہا۔

شام ہونے کے قریب تھی۔ اس دور میں سکردو روڈ پر شام کے بعد ڈرائیونگ پر پابندی عائد تھی اس لیے ہر کوئی دن کی روشنی میں اپنی منزل تمام کرنے کی کوشش کرتا۔ میں سوچ رہا تھا کہ شاید کوئی ورکنگ پارٹی اپنا کام دیر سے ختم کرنے کی وجہ سے یہاں سے گزرے اور حادثے والی جگہ کو دن کی روشنی میں دیکھ لے تو ہمیں مدد پہنچ سکتی ہے ورنہ کل صبح تک پڑے رہیں گے۔ مجھ پر غنودگی کا غلبہ ہوتا جا رہا تھا۔ پھر خود کو یاد دلایا کہ مجھے ہر حال میں ہوش میں رہنا ہے۔

غنودگی کا چھا جانے اور حواس کا قائم رہنے کا مقابلہ ہوتا رہا حتی کہ دن سمٹ گیا اور شام کی پرچھائیاں وارد ہوئیں۔ اچانک کچھ آوازیں سنائی دیں جو چند لمحوں بعد واضح ہوئیں۔ میرے کندھے کے بیجز دیکھ کر کوئی بولا یہ تو کپتان صاحب ہیں۔ مجھے اٹھانے لگے تو میں نے کراہتے ہوئے انہیں منع کیا اور کہا میرے تین ساتھی اور ہیں پہلے انہیں تلاش کرو اور گاڑی میں اس طرح لٹاؤ کہ ان کی ٹانگیں اوپر اٹھی ہوں۔ در اصل راستے میں دو لوگوں کو لفٹ دی تھی اس لیے ہم کل چار ہو گئے۔

یہ ورکنگ پارٹی کے لوگ ہی تھے جو کام ختم کر کے واپس آ رہے تھے۔ کافی دیر کے بعد وہ لوگ دوبارہ آئے اور کہنے لگے کہ سب زخمی تلاش کر لئے گئے اور اوپر سڑک تک پہنچا دیے ہیں۔ پھر مجھے اٹھا کر ناہموار راستوں سے اوپر لے گئے جو ان کے لئے تو مشکل کام ہو گا ہی لیکن میرے لئے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ مجھے بھی گاڑی میں لٹا دیا گیا ان سے کہا کہ میرے پاؤں اوپر اٹھا کر رکھیں اور ہوش میں رہتے ہوئے میں نے یہ آخری بات کہی تھی۔ اس کے بعد کا احوال مجھے معلوم نہیں کیونکہ میں محسوس کر رہا تھا کہ مجھے حواس قائم رکھتے ہوئے جو کرنا تھا وہ ہو چکا اس لئے میں نے غنودگی کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔

رات کے کسی پہر میں آنکھ کھلنے کا یاد ہے معلوم ہوا کہ آفتاب کیمپ میں 20 سی سی ایس میں رکھا گیا ہے۔ یوں تو سارے جسم پر چوٹیں اور خراشیں تھیں مگر اللہ کا شکر ہے کہ ڈی 8 فریکچر تھا مگر کوئی پیچیدگی نہیں ہوئی، آنکھ کے قریب بڑا زخم تھا مگر اللہ نے آنکھ بچا دی، سر پر چوٹ لگی اور بچت رہی، ٹانگ پر چپ فریکچر تھا اور بچت ہو گئی۔ یہ سب اللہ تعالی کا خصوصی کرم تھا ورنہ سکردو روڈ کے حادثات جان لیوا ہوا کرتے تھے۔ 20 سی سی ایس میں سہولیات نہیں تھیں اس لیے اگلے روز 60 سی سی ایس میں گلگت بھیجا گیا جہاں پر ڈی 8 فریکچر ( ریڑھ کی ہڈی کا فریکچر) کی تشخیص ہوئی اور دو روز بعد سی ایم ایچ راولپنڈی ایر ایواکوایشن کی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •