جب سوویت یونین میں ایک کتاب گرفتار ہوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتابوں کے اٹھائے جانے اور غائب ہونے کا موسم ہے (ویسے آج کل یہ اصطلاحات انسانوں کیلے زیادہ استعمال ہو رہی ہیں ) تو سوچا کیوں نہ اس کتاب کا ذکر کریں جو باقاعدہ اندیشہ نقص امن میں گرفتار کی گئی اور پھر کوئی دو دہائی اوپر پابند سلاسل بھی رہی۔ سال ہے انیس سو اکسٹھ کا اور ذکر ہے آئرن کرٹن کے اس پار سویت یونین کا، جب خفیہ ایجنسی کے جی بی کے ہرکاروں نے ایک ادیب کے اپارٹمنٹ پہ چھاپہ مار کر اس کے ناول کے مسودے، نوٹس بک اور ٹائپ رائٹر پر قبضہ کر لیا۔

واسلی گروسمین ایک جنگی نامہ نگار تھا جو دوسری جنگ عظیم کے دوران سٹالن گراڈ اور ماسکو کے محاذوں پہ رپورٹنگ کر چکا تھا، اس سے پہلے کمیونسٹ پارٹی سے وابستگی کے دنوں خصوصاً 1930 کے عشرے کی بدنام زمانہ گریٹ پرج کے دوران بیوی اور قریبی دوست کی گرفتاری اور غائب کر دیے جانے نے اسے اسٹالن کی استبدادی ریاست کے قریبی مشاہدے کا موقع فراہم کر دیا تھا۔ یہ سارے تجربات اس کے شاہکار ناول لائف اینڈ فیٹ (life and fate) میں شامل ہو گئے۔

گروس مین نے یہ ناول یوں تو 1955 کے آس پاس ہی مکمل کر لیا تھا مگر اسے اشاعت کے لیے منظور کروانے کی ہمت اسے اسٹالن کی موت کے چند برسوں بعد ہی ہوئی، اس کا اندازہ غالباً یہ تھا کہ نئی حکومت کے زیر اثر تبدیلی کی لہر اسٹالن کی مطلق العنانیت پر تنقید کو برداشت کر لے گی۔ مگر یہ ایک سنگین غلط فہمی تھی، خروشیف حکومت کی اسٹالن مخالف پالیسی سوویت ریاست کے انتظام میں کسی دیرپا تبدیلی کے بجائے چند مقتدر افراد کے ذاتی ایجنڈے سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ ناول اور اس کے مصنف کے ساتھ پھر کیا ہوا یہ جاننے سے پہلے ذرا ہم سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کون سے سچ ہیں جنہوں نے ایک کتاب کو اشتراکی مادیت کے خودساختہ مفسر مخائل سوسلوف کے بقول ایٹم بم سے زیادہ مہلک بنا دیا۔

گروسمین نسلاً یوکرینی یہودی تھا اور اپنے اس ناول میں اس نے بڑی تفصیل سے آمریتوں کے اس رویے کا بیان کیا ہے جو وہ اقلیتوں خصوصاً وہ گروہ جو ریاستی نظریے کے مرکزی دھارے سے باہر ہوں، کے ساتھ روا رکھتی ہیں۔ یہ رویہ غیر ہمدردانہ بلکہ سفاکانہ ہے اور اس میں فاشزم یا کمیون ازم کی کوئی تخصیص نہیں۔ گروس مین ہمیں دکھاتا ہے کہ اسٹالن کی حکومت میں کٹھ ملائیت نظام کی ہر سطح پہ سرایت کر چکی ہے جس کے لیے کسی بھی قسم کا معاشرتی تنوع زہر قاتل ہے (کیونکہ تنوع سے اختلاف رائے پیدا ہوتا ہے جو ناقابل معافی ہے ) اسی لیے اختلاف کو ریاستی جبر کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے۔ درسگاہیں ہوں، ادب یا ابلاغ کے ذرائع سب کا مقصد کسی کارخانے کی کنویئر بیلٹ کی طرح دھڑا دھڑ مثالی سویت شہری پیدا کرنا ہے جن کا کوئی مذہبی اور ثقافتی پس منظر نہ ہو۔

نظریاتی انقلاب کے بطن سے پیدا ہونے والی آمریت کا ایک اور مسئلہ سچائی پر کنٹرول بھی ہے، مذہب اور پرانے سماجی ڈھانچے کی تخریب کر کے بظاہر تو وہ علوم کو ہر قسم کے تعصبات سے پاک کرنے کا دعوا کرتی ہے مگر درحقیقت اس کی فکری کاوشیں اپنے نظریاتی کو کون سے باہر نہیں نکل پاتیں۔ ناول کا کردار وکٹر ایک ماہر طبیعات ہے جس کی غیر معمولی تحقیق کو مارکسی نظریات کا اثبات نہ کرنے کی وجہ ہے مسترد کر دیا جاتا ہے، اپنے موقف پہ اصرار کی پاداش میں وکٹر ناصرف نوکری سے برطرف کیا جاتا ہے بلکہ سائنسی حلقے سے بھی باہر کر دیا جاتا ہے۔

مطلق العنانیت کے زیر اثر پروان چڑھنے والے نظام کا مطالعہ گروس مین کا پسندیدہ موضوع ہے۔ یہاں طاقت کے دائروں میں بقا کی بے رحم جنگ جاری ہے، نظریے کے نام پہ بنے والی ریاست میں نظریہ اور آدرش پیچھے رہ گئے ہیں، دوست اور رفقا مخبری اور سازش کے ذریعے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مشغول ہیں۔ مشرقی یورپ کے یہودی کیمپ ہوں یا سائبیریا کی بیگار جیلیں ہر جگہ ایک ہی اصول کار فرما ہے۔ ناول میں کئی جگہ کرداروں کی زبان سے نازی جرمنی اور اسٹالن کے روس کی مماثلت بیان کی گئی ہے، گویا بظاہر ایک دوسرے سے برسرپیکار ریاستیں دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

ہمارے نزدیک ناول کے بہترین حصے وہ ہیں جہاں اس کے کرداروں کی جذباتی زندگی کا بیان ہے، گویا جنگ کی مصیبتوں اور سیاسی جبر سے پیدا ہونے والی بے یقینی اور خوف کے باوجود جینے کا سلسلہ جاری ہے۔ لوگ محبت بھی کرتے ہیں، رشتے بھی نبھاتے ہیں اور انسانی اقدار کی پاسداری بھی کرتے ہیں۔ مگر اس ناول کی قسمت کا حتمی فیصلہ اس کی اس سیاسی جہت نے کیا جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ ذرا تصور کریں تاریخ کی عظیم ترین جنگ میں بے مثال کامیابی جس کے نتیجے ایک درجن کے قریب مشرقی یورپی ممالک کمیونزم کی زیر اثر آ گئے ہوں اور ملک کو عالمی طاقت کا رتبہ مل جائے اس پر تنقید (گویا دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کا عمل) نے ریاستی مفاد کے ٹھیکے داروں کو کس قدر چراغ پا کیا ہوگا۔

خروشیف سے دوستی نے گروس مین کی جان بخشی تو کرا دی مگر سوسلوف نے ناول پہ پابندی کا فیصلہ کر لیا، طریقہ اس کا یہ نکالا گیا کہ مصنف کو تو اچھے چال چلن کی وجہ سے ایک موقعہ دے دیا گیا مگر کتاب کو گرفتار کر لیا گیا۔ گروس مین نے اس انوکھے سلوک پہ احتجاج کرتے ہوئے لکھا ’میرے لیے یہ جسمانی آزادی بے معنی ہے جبکہ وہ کتاب جسے میں نے اپنی زندگی دی قید ہے‘ مگر اس کی فریاد صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔ واسلی گروسمین کی زندگی کے آخری سال ایک ٹوٹے ہوئے انسان کی کہانی ہیں جس کا کرب وہی محسوس کر سکتا ہے جس کی عمر بھر کی محنت خاک کردی گئی ہو۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ خروشیف اور سوسلوف اپنی تمام تر سرکاری طاقت اور ذہانت کے بندوبست کے باوجود نہ تو سوویت یونین کو ٹوٹنے سے بچا سکے اور نہ لائف اینڈ فیٹ کو شایع ہونے سے روک سکے۔ گروسمین کے دوستوں کی کوششوں سے یہ کتاب مغربی یورپ اسمگل ہو گئی جہاں اسے شایع کر دیا گیا، بعد میں گورباچوف کے زمانے میں سویت یونین میں بھی اس کی اشاعت ہوئی۔ اب یہ ساری دنیا میں مشہور ہے اور بیسویں صدی کے بڑے ناولوں میں شمار ہوتی ہے۔ یونی پولر ورلڈ کی برکتوں سے فیضیاب دنیا کو دیکھ کر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ کاش سوسلوف اور خروشیف نے لائف اینڈ فیٹ کو جیل کے بجائے پرنٹ کے حوالے کیا ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ثنا اللہ خان، کینیڈا کی دیگر تحریریں