صفائی کس کی ذمہ داری ہماری یا حکومت کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک سبق آموز بات ہے کہ ایک پاکستانی صاحب جرمنی میں اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے سگریٹ پیتے ہوئے جب ان کے سگریٹ نے آخری سانس لی تو ان صاحب نے بڑے آرام سے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور بچے ہوئے سگریٹ کا ٹکڑا باہر سڑک پر پھینک دیا اور گاڑی آگے چلتی رہی لیکن جیسے ہی ان کی نظر بیک مرر پر پڑی تو وہ صاحب ششدر رہ گئے کہ پیچھے آنے والی گاڑی رکی اور ایک صاحب اترے اور اس راکھ شدہ ’چھوٹے سے ٹکڑے کو سڑک سے اٹھایا اور کوڑے دان میں ڈال دیا یہ سب دیکھ کر سگریٹ پھینکنے والے صاحب کو بڑی شرمندگی ہوئی ضمیر جاگا اور انھوں نے گاڑی روک کر ان صاحب سے معافی مانگی لیکن اس شخص کے لفظوں نے ان صاحب کو مزید شرمندہ کر دیا اس نے بولا کہ کوئی بات نہیں یہ میرا ملک ہے اس کو صاف رکھنا میری اولین ذمہ داری ہے۔ اگر ہر بندہ اپنے ملک کے بارے میں ایسا سوچنے لگ جائے تو یہ ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو جائے گا۔

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا ایک شعر یاد آ گیا :
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اگر ہم ایک قوم کی حیثیت سے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لیں تو آدھے سے زیادہ مسائل حل ہو جائیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو غالباً جانتے سب کچھ ہیں لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو سب بھول جاتے ہیں۔ جیسے ہی ہوش سنبھالتے ہیں یہ سبق طوطے کی طرح رٹوایا جاتا ہے ’اس کے علاوہ ہر رکشہ‘ موٹر ’اور ویگن کے پیچھے لکھا ہوتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے‘ چونکہ پیچھے لکھا ہوتا ہے اس لئے شاید نظر سے اوجھل ہوجاتا ہے۔

ہمارا ہر عمل ہماری تربیت کو ’ہمارے خاندانی وقار و اقتدار کو ظاہر کرتا ہے جب ہم کھا کر خالی ریپر‘ پی کر پانی کی خالی بوتل یا جوس کا خالی ڈبہ وغیرہ گاڑی سے باہر پھینک دیتے ہیں یا چلتے چلتے رستے میں پھنکنا اپنا فرض سمجھتے ہیں یا تفریح کا ایک ذریعہ تصور کرتے ہیں اور تو اور ہم شاید بھول جاتے ہیں کہ یہ گندگی جو ہم پھیلا رہے ہیں یہ ہمارے لئے ہی نقصان دہ ہے۔ اگر ہمیں اس نقصان کا جو ہماری پھیلائی گندگی سے ہمیں پہنچتا ہے کا ادراک ہو جائے تو ہم کبھی ایسا عمل نہ کریں لیکن ہم سوچتے نہیں ہیں خود میں سدھار نہیں لاتے اپنی سوچ پر کام نہیں کرتے اپنی بحیثیت ایک قوم کے ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے بس چاہتے ہیں کہ ہم آگے چلتے جائیں اور حکومت ہمارے پیچھے ہمارا ہی پھیلایا ہوا گند صاف کرتی جائے کیونکہ یہ ہماری نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دراصل ہمیں عادت ہو گئی ہے ہر بات کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرانے کی۔

ہمارے دین اسلام میں صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے صفائی میں ہماری اپنی جسمانی ’اندرونی اور بیرونی صفائی‘ ہمارے اردگرد کی صفائی شامل ہے دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے اگر ہم اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف نہیں رکھیں گے تو جراثیم اور بیماریاں جنم لیں گی جس کا نہ صرف ہماری صحت پر اثر ہو گا بلکہ ہماری نفسیات پر بھی گہرا اثر ہوگا۔

حالیہ مون سون کی بارشوں میں کراچی میں بد ترین صورتحال دیکھنے میں آئی جب ندی نالوں میں کچرا ہی کچرا بہتا نظر آیا یہ صورتحال صرف کراچی کی نہیں بلکہ ہر جگہ ہر شہر میں دیکھنے میں آتی ہے گلی کوچوں حتی کہ تفریح گاہوں میں کوڑا کرکٹ نظر آتا ہے جو ہم ہی پھیلاتے ہیں کوئی آسمان سے نہیں برستا۔ یہ کوڑا تعفن پیدا کرتا ہے جو کئی موذی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ حتی کہ ہماری جہالت کی حد تو یہ ہے کہ لوگ کیلا کھا کر اس کا چھلکا سڑک پر پھینک دیتے ہیں جس پر سے پیر پھسلتا ہے اور لوگ اچانک گر کر شدید زخمی ہو جاتے ہیں۔

بہت ساری بیماریاں صرف ہماری پھیلائی گندگی سے پیدا ہوتی ہیں جن کا ہمیں ذرا برابر ادراک نہیں ہوتا۔ صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے اور اپنی سوچ کو بدلنے کے لئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں پڑتی نہ ہی کسی موٹیویٹر کی بس احساس اور ضمیر کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا سیکھ جائیں تو بہت سی جان لیوا بیماریوں سے بچ سکتے ہیں اس کے علاوہ جو بجٹ ہم صحت پر خرچ کرتے ہیں اس میں بھی واضح کمی کر سکتے ہیں صرف اپنی سوچ پر کام کر کے۔

کچھ دن پہلے ایک رکشہ ڈرائیور کو دیکھا اس نے کوڑا ایک شاپر میں اکٹھا کیا ہوا تھا ایک جگہ رکشہ روکا اور کوڑے کا وہ شاپر کوڑے دان میں ڈال کر کم پڑھے لکھے ہونے کے باوجود نہ صرف اپنے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیا بلکہ ہمیں شرمندہ بھی کر گیا۔

شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی بھی ہم نے اپنے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں کہیں گم کر دی ہے۔ ان پریوں کی دلکش وادیوں میں ہم نے جگہ جگہ اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت دیا ہے لیکن مجال ہے کہ ہمیں ذرا برابر بھی شرمندگی ہو اس بات کی۔

اگر ہم واقعی ترقی یافتہ مہذب قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں نہ صرف صفائی بلکہ اپنی سوچ اور رویوں پر بھی کام کرنا ہوگا۔ اگر گھر ہمارا ہے جس کی ہم صفائی کرتے ہیں تو یہ گلیاں ’محلے‘ یہ سڑکیں سب سے بڑھ کر یہ ملک بھی ہمارا ہے جس کے وجود سے ہم پہچانے جاتے ہیں لہذا ایک قوم کے ناتے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہی سمجھداری ہے اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے دوسروں پر ڈالنے کی بجائے خود قدم اٹھائیں بہتری کی طرف تنہا نکلیں گے اور ساتھ لوگ ملتے جائیں گے اور قافلہ بنتا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کروا کرعوام کو مزید سہولیات مہیا کرے اور ہم سب کا فرض ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کا خیال رکھیں اور کہیں بھی گندگی پھیلانے کا سبب نہ بنیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •