پچیس ستمبر۔ ورلڈ فارماسسٹ ڈے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مصنفین: ڈاکٹر خالد محمود صادق اور عبدالعلیم اعوان۔

ورلڈ فارماسسٹ ڈے ہر سال 25 ستمبر کو فارمیسی اور فارماسسٹ کی اہمیت کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ 25 ستمبر 1912 کو انٹرنیشنل فارماسوٹیکل فیڈریشن (FIP) معرض وجود میں آئی۔ 2009 میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ اس دن کی مناسبت سے ہر سال پچیس ستمبر کو ہیلتھ کیئر سسٹم میں فارماسسٹ کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے پوری دنیا میں ورلڈ فارماسسٹ ڈے منایا جائے۔

پاکستان میں یہ روایت کچھ زیادہ پرانی نہیں ہے کیونکہ ابھی کچھ ہی عرصے سے فارماسسٹ کی اہمیت کے بارے میں بحث کا آغاز ہوا ہے۔ اس کے لیے خاص طور پر نوجوان فارماسسٹ قابل تحسین ہیں جو اپنی درسگاہوں سے نکلے اور آج کے زمانے کے ہر موثر پلیٹ فارم پر اپنی اہمیت کا مقدمہ پیش کیا۔

پاکستان میں اس وقت فارماسسٹ کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی اگر آدھے سے زیادہ فارغ التحصیل فارماسسٹ امریکہ، کینیڈا، یورپ، نیوزی لینڈ، اور مشرق وسطی میں اپنا مستقبل تلاش کرنے کے لیے جانے پر مجبور نہ ہوتے۔ ہر سال تقریباً ڈھائی ہزار فارماسسٹس 50 سے زیادہ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہو رہے ہیں۔ انسانی ترقی کے اشاریوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان جیسی آبادی کے ملک کے لیے فارماسسٹس کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن حکومت کی فارماسسٹ کو ہیلتھ کیئر سسٹم میں کھپانے کی نا اہلی کی وجہ سے بہت سے فارماسسٹس ابھی بھی بے روزگار پھر رہے ہیں۔

اسپتالوں میں فارماسسٹس کو بستروں کی تعداد کے لحاظ سے مقرر کرنا اور کلینکل فارمیسی میں ان کی مہارت سے استفادہ کرنا تو دور کی بات، ابھی تک کمیونٹی اور ریٹیل فارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ کی ہمہ وقت موجودگی کو بھی یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ مریض ہمیشہ کی طرح دوائیاں میٹرک پاس دکانداروں سے لینے پر مجبور ہیں۔

دنیا میں ہیلتھ کیئر سسٹم پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو محسوس کرتے ہوئے ماہرین طب کے ساتھ ساتھ فارماسسٹ کو بھی اگلے محاذ پر لڑنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ فارماسسٹ کے کردار کو اہمیت دیتے ہوئے چار سالہ بیچلر آف فارمیسی کے بجائے پانچ سالہ ڈاکٹر آف فارمیسی کی صورت میں پوری دنیا میں فارمیسی کا نصاب تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر آف فارمیسی کلینکل فارمیسی میں تخصیص کے ساتھ فارغ التحصیل ہوتا ہے اور مریضوں کو زیادہ بہتر طریقے پر میڈیسن کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

اب وہ ایک مربوط نظام کا حصہ ہوتا ہے جس میں وہ ڈاکٹرز اور نرسز کے ساتھ مل کر کوالٹی فارماسیوٹیکل کیئر فراہم کرتا ہے۔ مریضوں کے ساتھ اس کے ہمہ جہت رابطے کی وجہ سے ترقی یافتہ ملکوں میں فارماسسٹ کو اس کے روایتی کردار سے بڑھ کر ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں جن میں کچھ بیماریوں کی تشخیص، پوائنٹ آف کیئر ٹیسٹنگ اور ویکسینیشن شامل ہیں۔

پاکستان میں ہیلتھ کیئر سسٹم میں فارماسسٹ کے بدلتے ہوئے کردار کی اہمیت کو ابھی تک پوری طرح محسوس نہیں کیا گیا۔ یہ ایک المیہ ہے کہ فارماسسٹ اپنی تعلیم کے انتہائی مشکل سال مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں اپنی صحیح جگہ پر نہیں پہنچتا۔ اس سے جہاں حکومت خود انسانی ترقی پر اپنی انویسٹمنٹ کو ضائع کرتی ہے اور فارغ التحصیل فارماسسٹ میں اپنے مستقبل کے بارے میں بددلی پیدا ہوتی ہے وہیں مریض فارماسسٹ کی ماہرانہ صلاحیتوں سے استفادہ کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

آج بھی فارماسسٹ ڈگری لینے کے بعد فارماسوٹیکل انڈسٹری میں اپنا مستقبل تلاش کرتا ہے یا ملک سے باہر جانے کی تگ و دو میں مصروف ہو جاتا ہے۔ کلینیکل فارمیسی کا ماہر ہونے کے باوجود پاکستانی ہیلتھ کیئر سسٹم میں فارماسسٹ کی کوئی جگہ نہیں ہے جس سے ایک طرف ڈاکٹرز کے اوپر دباؤ پڑتا ہے اور دوسری طرف مریض کو دوائی کے بارے میں صحیح رہنمائی فراہم نہیں ہوتی۔

فارماسسٹس بہت عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کے ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد کے مطابق فارماسسٹ کا تقرر کیا جائے اور ان کو ڈاکٹرز کی تجویز کردہ میڈیسن کے جائزے اور رد و بدل کا اختیار دیا جائے۔ اس کے علاوہ ملک میں کمیونٹی اور ریٹیل فارمیسی میں فارماسسٹ کے مسلمہ کردار کو تسلیم کیا جائے اور ساری دنیا کی طرح ریٹیل فارمیسی پر کوالیفائیڈ فارماسسٹ کی ہر وقت موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد محمود صادق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •