اسلام آباد پر قبضہ، مولانا طارق جمیل، حامد میر، ندیم افضل چن سمیت رہنماوں کے قتل کی دھمکی: لشکر جھنگوی/ پنجابی طالبان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجابی طالبان (ملک اسحٰق لشکر جھنگوی گروپ) سے منسوب ایک پمفلٹ اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں ایک بار پھر سے اسلام آباد پر قبضے، ملک میں خود کش بم دھماکوں کا نیا سلسلہ شروع کرنے، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو قتل کرنے، صحافیوں اور سیاستدانوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ اہل تشیع فرقہ کے خلاف کارروائیوں کی دھمکیاں دی گئیں ہیں۔

اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ شیعت کفر عظیم ہے اور ملک اسحاق شہید کے تصور کے مطابق دنیا کو شیعت سے پاک کرنے کا مشن ایک بار پھر سے شروع کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں شیعہ افراد کے خلاف مذہبی منافرت پر مبنی باتیں درج ہیں جن کی بنیاد پر انہیں ذبح کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ساتھ ہی ساتھ سنی فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو کہا گیا ہے کہ شیعوں سے تعلق رکھنے، کالا رنگ یا علم دیکھنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے جس کی تجدید کرانا ضروری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ دو پولیس اہلکاروں کے نام لیتے ہوئے انکے قتل کا ذمہ قبول کیا ہے جبکہ یہ کہا گیا ہے کہ ہم آئی جی اسلام آباد کو بھی قدرے آرام سے گولی مار سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ واضح طور پر قابل قتل افراد کی ایک فہرست جاری کی گئی ہے۔ اس فہرست میں ملک کے نمایاں سیاستدان، مذہبی شخصیات اور صحافی شامل ہیں۔

ان میں سینئر صحافی حامد میر، مبشر لقمان، وسعت اللہ خان، وجیہہ شاہ، ہارون الرشید، مولانا طارق جمیل، صاحبزادہ حامد رضا، مولانا شہنشاہ نقوی، مولوی انجینئر محمد علی مرزا، حسن ظفر نقوی، مخدوم فیصل صالح حیات، ندیم افضل چن سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔ ان افراد کے ناموں کے آگے حملے کی نوعیت لکھی گئی ہے جس میں تیزاب گردی سے لے کر ذبح کر ڈالنے تک درج ہے جبکہ انہیں کافر قرار دیا گیا ہے۔

پمفلٹ میں لکھا گیا ہے کہ پولیس اہلکار ان سے مل جائیں اور شیعہ جلوسوں کو روکیں ورنہ ناکے پر کھڑے اہلکاروں کو قتل کردیا جائے گا۔ پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سب اسلامی ریاست کے تشکیل کی جدوجہد ہے۔

(نام نہاد مجاہدین اسلام کی تحریر میں علم کی املا الم ناک ہے۔ مدیر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •