ریپ کی شکار عورت اور مجرم کی مددگار عدالت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مجھے ذاتی طور پر ریپ کار کی پھانسی پر کوئی اعتراض نہیں، مگر میں صرف پھانسی کی سزا کو قالین تلے جھاڑو سے گرد چھپانے کی ہرگز تائید نہیں کرتی۔ آپ بے شک تختہ دار پر لٹکائیے مگر اس سے قبل اس ریپ کار نظام کو بھی تو پھانسی دیجئے۔ چلئے نظام درست کر لیجیے اگر نظام کو لٹکانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ عورتوں کے خلاف نظام میں تشدد ہے، روایتی، اخلاقی، تاریخی رویوں پر مبنی عمارت میں تشدد ہے۔ اس تشدد اور ستم کو جب تک پانی دینا بند نہیں کریں گے، ریپ، تشدد، غیر مساوی رویوں، فطرتی نفرت کی یہ بیلیں اپنے تنے یونہی ہر سانحے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہی کرتی رہیں گی، اس اثناء میں آپ ریپ کرنے والے کو پھانسی دیں یا سڑک پر ریپ پر مبنی گالیاں یا دو چار طمانچے لگا کر فارغ ہوں، تشدد کبھی نہیں رکے گا اور ریپ کا بوٹا پھلتے پھولتے تناور ہوتا ہی رہے گا جو کہ آج تک ہوتا آیا ہے۔ میری ان گھسی پٹی کئی سو بار دہرائی باتوں کے مابین ناجانے کتنے ہی ان گنت لوگوں نے کسی عورت، کسی بچی یا بچے پر ہاتھ صاف کر دیے ہوں گے، ان عورتوں اور بچوں میں آپ کے اپنے پیارے بھی ہو سکتے ہیں۔

کلفٹن کراچی کی ہولناک خبر تو سن ہی چکے ہوں گے۔ محنت کرنے والی ایک بائیس سالہ لڑکی کو ساری رات، جی ہاں، ساری رات اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ساری رات! کوئی کتنی بے بس ہوگی، کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا، ہاں البتہ ریپ کے جہنم کو ایندھن مہیا کرنے والے لڑکی پر خوب الزام اور مغلظات کی بہتات کر سکتے ہیں۔ اسی معاشرے، اس کی روایات اور نظام نے کھلی اجازت جو دے رکھی ہے۔ تشدد پر آوز اٹھانے والیاں جہنمی اور تشدد کی دوزخ میں چربی مونڈنے والے جنتی۔

ذرا کراچی سے راولپنڈی تشریف لائیے، ایک سال تک، جی ایک سال تک لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے مرد کو ”نظام“ نے تحفے میں وہی لڑکی عطاکر دی ہے جس سے ہوس کی بھٹی کو وہی شخص سال بھر تک جلا بخشتا رہا۔ سیشن جج صاحب نے، اللہ ان کی ترقی کرے، عین عدالت کے وسط عدالت، قانون اور عدل کا ریپ کرتے ہوئے لڑکی کا نکاح اسی کے مجرم کے ساتھ کروا دیا۔ اسی کو کہتے ہیں عدل کی جیت، نظام کی سر بلندی، قوم کی فتح، روایت کی بہتری کیونکہ اب سے وہ لڑکی سر اٹھا کے جی سکے گی۔

مرد نے صرف یہیں تو اکتفا نہیں کیا، سال بھر زیادتی کرتا رہا، لڑکی حاملہ ہوگئی، نومولود کی پیدائش اور موت پر بچی کو سڑک پر پھینک کر چلا گیا۔ اس سب کے جاننے کے بعد بھی کرمنل جسٹس سسٹم نے متاثرہ شہری کو انصاف دلانے کی بجائے اس کے مجرم سے عقد باندھ دیا۔ ایسا ہوتا ہے نظام جس کو ریپسٹ کے ہمراہ لٹکانے کی ضرورت ہے۔

پھر یہی معاشرہ جس کا اخلاق تب جاگتا ہے جب کوئی کتا یا بلی کوڑے کے ڈھیر سے نومولود کے مردہ جسد کو منہ میں چبائے شہر کی سڑکوں پر گشت کرتا ہے۔ تب یہی لوگ جو ہمہ وقت اپنے تقریباً ہر عمل سے عورت کے جسم پر اس کی حاکمیت کو اقدار کی نفی قرار دیتے ہوئے مرد کی فضیلت کا گیان دیتے نہیں تھکتے الزام اپنے گریبان میں تلاشنے کی بجائے مخلوط تعلیم، جدت پسندی، جمہوریت کو دیتے نہیں تھکتے۔

یہی ہیں وہ مفاہیم و مطالب جو تشدد کی بنیاد رکھتے ہیں۔ پھر جب ہلچل مچتی ہے کہیں تو انہی کی کم ظرف مردانگی بارش کی نباتات کے مانند تڑپ اٹھتی ہے۔

کس نے کہا کہ عورت کی کل کائنات دیو مالائی ”پردہ“ بکارت اور اس کی زندگی کا مقصد شادی ہے؟ انصاف نہیں دے سکتے تو درخواست گزار کو منہ پر واشگاف الفاظ میں کہہ دیں کہ بی بی تم آخر زندہ ہی کیوں ہو، مر کیوں نہیں جاتی، جاؤ کہیں مر جاؤ کہ قوم کا سر عزت سے بلند ہو اور قوم کے مرد سر اٹھا کر چلیں؟ مگر اس کا عقد اس کے بد ترین دشمن اور اس کی زندگی میں آنے والے بد ترین شخص سے تو نہ باندھیں۔ نہیں دینا انصاف تو نہ دیں، پھولوں کے ہار اور سونے کی گہنے پہنا کر ریپ کاروں کو چاہے سر پر بٹھائیں یا ان کے قدموں میں بیٹھیں مگر آپ کو کس نے خدا بننے کا حق دیاہے؟ کیا یہ کسی آزاد قومی ریاست کی عدالت تھی یا ریپ کی اجازت دینے والی کوئی مقامی پنچایت؟ آپ کو عزت کی تعریف کا تعین نہیں، مجرم کو قانون کی دفع تین سو چھہتر کے تحت لٹکانا یا پچس سال بمع جرمانے کے سزا سنانا تھا۔ آپ کو میچ میکنگ کا اختیار کس نے دیا تھا؟

نومولود کی لاش کی بے حرمتی کرنے کی ہی کوئی دفعہ لگا دی ہوتی اگر ریپ جیسا بد ترین جرم اس ملک کے قانون کی نظرمیں اتنا ہی معمولی سا تصور ہوتا ہے۔ آپ پر آپ کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے کوئی آپ کا گریبان پکڑ لے، آپ اس کی دھجیاں اڑا کر آ جاتے ہیں اور یہاں ہر لمحہ، ہر دن کوئی مرد کسی عورت کے جسم میں بنا اس کی رضا کے اور خالصتاً دھونس، جبر اور تشدد سے داخل ہوتا ہے اور یہاں کسی کو فرق نہیں پڑتا؟ الٹا کوتوال متاثرہ عورت کو ڈانٹے؟

ریپ سے متاثرہ لڑکی کا حمل نہیں ٹھہرنا چاہیے، ریپ سے متاثرہ لڑکی کا نکاح مجرم کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے جو کہ سراسر قانوناً جرم کی حیثیت اختیار کرنا چاہیے۔ متاثرہ عورت کو ہر گز اس کے مجرم کے روبرو پیش نہیں کرنا چاہیے۔ جو ان امور میں ملوث پائے جائیں، ان کو بھی ریپسٹ کے ساتھ کٹہرے میں کھڑا کریں اور ظلم کا حساب لیں۔ اگر یہ سب نہیں کر سکتے تو واضح بتا دیں اور میچ میکنگ کا یہ غیر انسانی اور عورت دشمن دھندہ عدالت اور کرمنل جسٹس سسٹم سے کوسوں دور رکھیں تاکہ قانون توڑنے والے انجام کو پہنچ سکیں اور کوئی جرات نہ کر سکے کہ کسی کی مرضی کے بنا اس کی آزادی کو سلب کرنا گھناؤنا جرم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •