مخلوط تعلیم اور ریپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریپ ایک انگریزی لفظ ہے لیکن آج ان دیگر عام الفاظ کی طرح ہماری زبان کا معلوم ہوتا ہے جن کا ماخذ انگلش ہے جیسے گلاس، پلیٹ، اسکول، بیگ، پرس، سوری وغیرہ کیا وجہ ہے کہ ریپ جیسا رکیک لفظ ہماری عام بول چال کا حصہ بن گیا؟

اس کی وجہ، کس سے چھپی ہے؟ وجہ آئے دن سامنے آنے والے وہ واقعات ہیں جن کی تعداد میں روز اضافہ ہی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پولیس رپورٹس، اسپتالوں کے ریکارڈ، سماجی تحقیق سے ملے حقائق واضح کرتے ہیں کہ ریپ کن علاقوں، کس سماجی حیثیت اور تعلیم رکھنے والے طبقات میں زیادہ ہوتے ہیں۔

استثنا کسی طبقہ کو نہیں۔ لیکن پھر بھی ایک ریشو سامنے آ چکا ہے۔ اس پے معاشرے کو کام کرنا پڑے گا۔ اگر کوئی معتبر شخصیت اس کی توجیہہ محض ایک بیان کرتی ہے تو یہ ایک سوچ کی عکاسی ہے۔ یہاں عورت، مرد، مخنث، دو سال کی بچی یا بچے سے پچاس یا ساٹھ سالہ عورت حتی کہ مردے تک محفوظ نہیں۔ تو اس میں مخلوط تعلیم کا کیا عمل دخل؟ بیشتر مجرمان نے اسکول کی شکل نہیں دیکھی۔ ریپ۔ صرف شہروں میں نہیں ہوتے جہاں مخلوط تعلیم ہے۔

یہ قبیح فعل انسان کی ذاتی نفسی ذلالت ہے ورنہ اللہ کبھی اسلام کی عظیم ترین عبادت حج کو مخلوط نہ کرتا کیونکہ انسانی فطرت کا سب سے اعلی نفسیات داں وہی ہے۔ عورتیں صرف مخلوط تعلیم کے لئے ہی باہر نہیں نکلتیں، کھیتوں میں کام کرتی ہیں، مویشی چراتی ہیں، پانی بھر کے لاتی ہیں، فیکٹریوں میں کام کرتی ہیں، راج مزدوری کرتی ہیں، ٹیچرز، ڈاکٹرز، پیرا میڈک ہیں، آرمی افسر ہیں، ملکی زرعی اور صنعتی پیداوار کا اہم ترین حصہ ہیں۔ انہیں گھر میں بند نہیں کیا جا سکتا۔

دوسرے ریپ صرف عورتوں بچیوں کے نہیں، معصوم بچوں ( لڑکوں ) کے بھی لاتعداد کیسز ہیں۔ اول تو علما اس پہ کبھی بات ہی نہیں کرنا چاہتے، مذمتی بیان ہمیشہ عمومی دیتے ہیں۔ کوئی کیس سامنے رکھا جائے تو اس پے بات سے کتراتے ہیں۔ جو علما بات کرتے ہیں، وہ بے پردگی، مخلوط تعلیم، مغربی انداز کی پیروی وغیرہ کو الزام دے کے بات ختم کر دیتے ہیں۔ آئے دن جو مساجد و مدارس سے بچی یا بچے کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آتے ہیں، وہاں کون سی مخلوط تعلیم ہے؟

لڑکوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز بھی کم نہیں۔ ریپ کی بڑھنے کی وجہ مجرم کا یہ اطمینان ہے کہ اسے کوئی سزا نہیں ہو گی، اول تو اس کا ثبوت نہیں مل سکے گا کیونکہ پولیس اتنی دیر میں پرچہ کرے گی کہ میڈیکل نہ ہو سکے، دوسرے متاثرہ عورت یا بچے بچی کی گواہی /بیان حتمی نہیں مانا جاتا۔ تیسرے، بتایا جاتا ہے کہ رشوت دے کے ڈی این اے یا فارنزک رپورٹ بدلوا دینا آسان ہے۔ سزا کیا ملے گی؟ یہ بحث بیکار ہے کیونکہ اہم یہ ہے کہ فوری اور شفاف شواہد اور درست تفتیش ہو۔ مجرم کا اعتماد جرم کی وجہ ہے جو پولیس کے ناقص نظام نے اسے دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •