نواز شریف کی تقریر اور آئین کی حکمرانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

19 ستمبر کو جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے منعقد کیے ہوئے lے۔ پی۔ سی کے جلسے سے تاریخی خطاب کیا اور اس خطاب میں جو چارچ شیٹ پیش کیں اس سے بہت سے حقیقی جمہوریت پسند لوگوں اور خود میاں نواز شریف کے ووٹروں کی بھی مایوسی ختم ہوئیں جو میاں صاحب اور مریم نواز کے چپ رہنے اور شہباز شریف کی مفاہمت ہرست سیاست سے کافی دلبرداشتہ ہو چکے تھے۔ میاں صاحب قوم کے ایک حقیقی لیڈر ہیں ان کو پیچھے ہٹنے یا پیچھے ر ہنے کی بجائے اس مایوسی کے وقت میں اگے بڑھ کر قوم کی رہنمائی کرنی چاہیے اور ایسی رہنمائی جو اس کی تقریرکے مطا بق حق اور سچ پر مبنی ہو۔

واقعی! میاں صاحب نے تو اے۔ پی۔ سی میں حقیقت بیان کر کے سماں باندھ دیا ہے۔ لیکن اب سب اپو زیشن میں شامل جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ چور دروازوں سے ملنے ملانے اور اپنی ذاتی مفادات اور اقتدار کے لئے مفاہمت کی پالسی اختیار کر نے کی بجائے مل جل کر آئین اور قانون کی بلا دستی کے لئے کام کریں اور نظام کو مضبوط کر نے کے لئے جہدو جہد کر یں جب نظام مضبوط ہو گا تو فلاحی ریاست وجود میں ائیں گی اگر نظام مضبوط نہیں ہو تو دیانت اور صداقت کا امامہ پہنا کر مسند اقتدار پر بٹھا دیا جائے اور ایک پیچ پہ ہونے کے باوجود بھی تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوسکا ہے۔

اگر ہم اپنے ذاتی مفادات کے لئے آئین اور قانون کو سبو تاژ کرتے رہیں گے تو قوم کا سنہرا مستقبل اور حال داؤ پہ لگ جائے گا۔ مفادات کی اس جنگ میں ہم بحیثیت قوم بہت پیچھے چلے جائیں گے۔

کسی بھی ملک میں اس وقت تک حقیقی تبدیلی نہیں آسکتی ہے جب تک اس میں آئین اور قانون کی بالادستی نہ ہو۔ ائین اور قانون کو بنا نے والے دانشور لوگ ہو تے ہیں لیکن جب قوم کا ہر ادارہ اس پر عمل کرتاھے تو وہ قوم باضمیر، بہادر، باوقار اور خوشحال بنتی ہے۔ دنیا میں جن قوموں نے اپنے آئین اور قانون کو اہمیت دی ہیں وہ معاشی، سماجی اور تعلیمی لحاظ سے اگے بڑھ گئے ہیں۔ ہم نے 73 سالوں سے اب تک آئین کو نظر انداز کر کے اپنے ذاتی مفا دات اور اقتدار کے حرص کا تماشا کھیلتے رہے یہی وجہ ہے کہ آج اکیسوی صدی میں بھی ہماری حالت قابل رحم ہے۔ دولت اور سہولتوں کا ارتکاز صرف اشرافیاں اور با اثر خاندانو تک ہی محدود ہو کے رہ گیا باقی عوام اچھی سہولت، تعلیم، رہائش اور اچھی علاج سے محروم ہیں۔

ہمارے ملک میں اکثریت ایسے خاندانوں کی ہیں جن کی کمائی محنت مزدوری کرکے اٹھ دس ہزارتک ہو تی ہے وہ اس تنخواء سے اپنے خاندان کے اٹھ، دس افراد کو سپورٹ کرتے ہیں ایسے خاندان بھی ہیں جن کے بچوں کے سکول جانے کی عمرے ہوتیں ہیں ان کو والدین اپنی معا شی مشکلات اور فیس نہ ہونے کی وجہ سے ان سے مزدوری کرواتے ہیں۔ لوگ بے روز گاری کی وجہ سے خود کشیاں کرتے ہیں۔ گردے بیجتے ہیں۔ بھوک اور افلاس کی وجہ سے اپنے بچون کو مارتے ہیں ایک اچھی اور فلاحی ریاست ہی اپنے عوام کی حالت بہتر کر کے ان معاشی بد حالیوں کا سدباب کر سکتی ہے۔

سیالکوٹ مو ٹر ویں پررونگھٹے کھڑے کر دینے والے جیسے واقعات اس کمزور نظام کے منہ پر طمانچہ ہیں یہ اندھناک واقعات سن کے مجھے حیرت ہوتی ہے کہ مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہونے والوں کو نیند کیسے آتی ہو گی۔

ائین اور قوانین کو کا غذ کا پرزہ سمجھنے کی بجائے من وعن اس کو تسلیم کریں جب ملک میں آئین اور قانون کی صحیح حکمرانی ہوگی تو ہر شخص اپنے حقو ق اور فرائض سے اگا ہ ہو گا۔

جو لوگ خواتین صحافیوں اور بلاگرز کو ڈراتے دھمکاتے ہیں یا سوشل میڈیا میں ان کے خلاف جو نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں ایسے لوگ کمزور اور بزدل ہوتے ہیں جن کی تربیت میں عورتوں کی عزت کرنا نہیں سکھایا گیا ہے اگر ان کی بہترین تربیت ہوتیں تو وہ ایسا کبھی نہیں کرتے بلکہ اپنے گھر کی بہن، بیٹی سمجھ کر دوسری عورتوں کو بھی عزت دیتے۔

ماضی میں نواز شریف سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں لیکن 2008 کے الیکشن کے بعد نواز شریف نے قانون اور جمہوریت کی بلادستی کے لئے کام کیا اس نے پیپلز پارٹی کے اقتدار کے پانچ سال پورے ہو نے کا انتظار کیا اور 2013 میں اقتدار بڑے باوقار طریقے سے ایک جمہوری حکو مت سے دوسری جمہوری حکو مت کو منتقل ہوا۔ نواز شریف کی اس نظریاتی سیاست کی وجہ سے اس مشکل وقت میں بھی پارٹی اس کے ساتھ ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی اس کی پارٹی کو توڑنے اور لو ٹے بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

جب ہم کسی جمہوری لیڈر کی حمایت کر تے ہیں یا اچھا سمجھتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ووٹ کی طاقت اور عوام کی حق رائے دہی سے آتے ہیں اور اپنے ہر عمل کے لئے عوام کے سا منے جوابدہ ہیں جبکہ جو لوگ چور دروازوں سے لائے جاتے یا آ جاتے ہیں وہ صرف اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں ان کو نہ آئیں اور قانون کی پروا ہو تی ہے نہ عوام کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •