چائے پانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چائے پانی ہمارے سرکاری دفاتر میں ایک عام کہاوت ہیں جس کے بغیر کسی بھی شخص کا قانونی کام ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ چائے پانی کو عام زبان میں کرپشن کہا جاتا ہیں۔ کرپشن کے معنی ہیں کوئی بھی شخص یا ادارہ اگر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے اس کو کرپشن کہتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب کرپشن کرنے والے کو عام لوگ بہت بری نظر سے دیکھتے تھے لیکن موجودہ دور میں یہ ایک پیشہ بن گیا ہیں۔ اگر کسی سرکاری دفتر میں جائیں تو چائے پانی کے لئے ایک چوکیدار سے لے کر ایک افسر تک سارے لوگ منتظر ہوتے ہیں۔ اس دفتر کا ہر شخص اپنے حصے کی بات کرتا ہیں۔

پچھلے دنوں فیسبک پر ایک پوسٹ پڑھی جس میں ٹی سی ایس جو کہ ایک نجی ادارہ ہیں، اس پوسٹ میں یہ کہا تھا کہ نہ تو اس ادارے کو چلانے والا کوئی سی ایس پی ہیں نہ کوئی دوسرا سرکاری افسر۔ لیکن پھر بھی اس ادارے کی ڈاک اتنی پابندی اور وقت پر پہنچ جاتی ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان پوسٹ ہیں جس کو چلانے والے سی ایس پی ہوتے ہیں حکومت سے لاکھوں روپے کی تنخواہ لیتے ہیں پھر بھی اس کی ڈاک اپنے مقررہ وقت سے دس دن بعد پہنچتی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کو اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت ہیں۔ یہ نجی کمپنی سارے ملک کے ڈاک کا نظام آسانی سے سنبھال سکتی ہیں۔

یہی حال ہر ایک ادارے کا ہے۔ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد صرف اور صرف پیسے بٹورنے کے چکر میں ہوتی ہے۔ نہ تو وہ ادارے کی ترقی کے لئے کچھ کرتے ہیں نہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے۔ آج ہمارا ملک دنیا کے کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں نمایاں ہے۔ ہر ایک سرکاری ادارہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ پولیس کی نفری تو دن بہ دن بڑھ رہی ہیں لیکن جرائم کی شرح بھی اسی طرح اوپر جارہی ہے۔ ایک معمولی تھانے دار دو تین سال میں اپنی تنخواہ سے سو گنا آمدن کماتا ہیں۔ بنگلہ اس کا ہوتا ہے، گاڑی اس کی ہوتی ہیں۔ ایک تحصیلدار کروڑوں کا بینک بیلنس کہاں سے بناتا ہے۔ ایک پٹواری پچاس اور سو کنال زمین کیسے خریدتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ان ساری خرابیوں کا ذمہ دار صرف چائے پانی ہے جس نے نہ صرف اداروں کو تباہ کیا بلکہ معاشرے میں رشوت جیسے ناسور کو جنم دیا۔ اس ناسور سے نمٹنے کے لئے ملکی سطح پر قانون سازی ہونی چاہیے تا کہ یہ تباہی مزید نقصان نہ کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •