دیو آنند: بالی وڈ لیجنڈ جو اپنی محبت کی کہانی کی طرح اپنی سیاسی جماعت کو کسی انجام تک نہ پہنچا سکے

مہتاب عالم - صحافی، نئی دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیو آنند

Getty Images

بالی وڈ کی معروف جوڑی سنیل دت اور نرگس کے بارے میں یہ قصہ خاصا مشہور ہے کہ فلم ’مدر انڈیا‘ کی شوٹنگ کے دوران نرگس ایک سین میں آگ کی لپٹوں میں گھر گئیں تھیں۔ اُس وقت سنیل دت نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر انھیں بچایا، جس میں وہ زخمی بھی ہو گئے۔

یہیں سے اِن دونوں کے درمیان محبت کا آغاز ہوا اور پھر وہ شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

کچھ اسی طرح کا حادثہ اداکار دیو آنند اور ثریا کے ساتھ بھی پیش آیا تھا، یہ الگ بات ہے ان دونوں کےمحبت کے چرچے تو خوب ہوئے لیکن وہ کسی انجام تک نہیں پہنچا۔

دراصل فلم ’ودیا‘ کے ایک گانے ’کنارے کنارے چلے جائیں گے‘ کی شوٹنگ ہو رہی تھی اور اچانک وہ کشتی پلٹ گئی جس میں یہ دونوں سوار تھے۔ کہتے ہیں کہ دیو آنند نے ثریا کو بروقت بچایا نہ ہوتا تو وہ ڈوب جاتیں۔

اس واقعہ کے کئی سال بعد ثریا نے فلم میگزین ’سٹار اینڈ سٹائل‘ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے بعد میں دیو آنند سے کہا کہ ’اس دن اگر آپ مجھے نہیں بچاتے تو میں ڈوب جاتی تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ اگر آپ ڈوب جاتیں تو میں بھی مر جاتا۔‘

سنیل دت سے دیوآنند کی اس مماثلت کے علاوہ ایک اور چیز ہے جو دونوں میں یکسانیت رکھتی ہے۔ وہ ہے دونوں کا سیاست سے رشتہ اور اس میں عمل دخل۔

سنیل دت کے بارے میں تو سب جانتے ہیں کہ انھوں نے عملی سیاست میں حصہ لیا اور مرکزی حکومت میں وزیر بھی رہے، لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ دیو آنند نے نہ صرف عملی سیاست میں حصہ لیا بلکہ وہ واحد بالی وڈ سٹار تھے جنھوں نے ایک قومی سطح کی سیاسی پارٹی تشکیل دی، جس کا نام تھا ’نیشنل پارٹی آف انڈیا‘ تھا۔

تاہم دیو آنند ثریا کے ساتھ اپنی محبت کی کہانی کی طرح اس پارٹی کو بھی کسی انجام تک نہیں پہنچا سکے۔

ایمرجنسی کی مخالفت

سیاست اور سیاسی شخصیات سے دیوآنند کے پرانے مراسم تھے۔ انھوں نے اپنی خود نوشت ‘رومانسگ ود لائف’ میں لکھا ہے کہ آل انڈیا کانگریس کے ناگپور اجلاس میں انھیں خصوصی مہمان کے طور پر مدعوکیا گیا تھا اور ان کے بیٹھنے کا انتظام اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کے ساتھ کیا گیا تھا۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’اسی اجلاس کے دوران میں نے نہرو کو اپنے نئے پراجیکٹ (فلم گائیڈ) کے بارے میں بتایا تھا جس کے لیے انھوں نے مجھے شاباشی دی تھی۔‘

نہرو کی بیٹی اور بعد میں انڈیا کی وزیر اعظم بننے والی اندرا گاندھی سے بھی دیوآنند کے اچھے تعلقات تھے۔ اس کا بھی ذکر ان کی خود نوشت میں ملتا ہے۔ اس کے باوجود جب جون 1975 میں اندرا گاندھی کے دور حکومت میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تو دیوآنند ان چند فلمی ہستیوں میں تھے جنھوں نے اس کی مخالفت کی تھی اور اس کا انھیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑا تھا۔
دیو آنند

Getty Images

بالی دڈ فلم انڈسٹری کے ستاروں کی سیاسی زندگی پر کتاب لکھنے والے سینیئر صحافی اور ’نیتا، ابھینیتا: بالی وڈ سٹار پاور ان انڈین پالیٹکس‘ کے مصنف رشید قدوائی نے مجھے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیوآنند بنیادی طور پر آزاد خیال شخصیت کے مالک تھے اور کسی موضوع پر سٹینڈ لینے سے نہیں ڈرتے تھے۔

قدوائی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اپریل 1976 میں جب اُن سے گزارش کی گئی کہ وہ اندرا گاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی اور یوتھ کانگریس کے بار ے میں سرکاری ٹی وی چینل کے لیے چند تعریفی کلمات کہہ دیں تو انھوں نے یکسر انکار کر دیا تھا۔

واضح ہو کہ اُس دور میں سنجے گاندھی وزیر اعظم کے بعد سب سے زیادہ طاقتور شخص مانے جاتے تھے اور خود اندرا گاندھی بھی ان کے مشورے کے بغیر کوئی اہم قدم نہیں اٹھاتی تھیں۔

اس وقت کے وزیرِ اطلاعات و نشریات ودا چرن شکلا اور اداکارہ نرگس نے انھیں منانے کی کوشش بھی کی کہ وہ حکومت اور ایمرجنسی کے خلاف نہ بولیں، پر وہ تیار نہیں ہوئے۔

قدوائی کے مطابق اُن کے اس انکار کے بعد قومی ٹی وی (دور درشن) پر ان کی فلمیں دکھانا بند کر دی گئیں۔ ساتھ ہی آل انڈیا ریڈیو کے پروگراموں میں جہاں بھی دیو آنند کا نام یا حوالہ آتا اسے حذف کیا جانے لگا۔ اس کے باوجود وہ ایمرجنسی کی مخالفت کرتے رہے۔

اُن کا خیال تھا کہ باوجود اس کے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے بہت ساری اچھی چیزیں بھی ہوئی ہیں لیکن اس نظام کی وجہ سے عوام کی روح اور خیالات کو دبایا جا رہا ہے، جو کہ درست نہیں ہے اور اس کی مخالفت کی جانی چاہیے۔

نیشنل پارٹی آف انڈیا کا قیام

دیوآنند کی بے مثال ہمت اور یقین کا ذکر کرتے ہوئے رشید قدوائی کہتے ہیں کہ ’یہی وجہ کہ لوگ انھیں حقیقت میں ایک حیرت انگیز شخصیت مانتے تھے کیونکہ ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں پایا جاتا تھا۔وہ بہت ہی صاف گواور با ضمیر انسان تھے۔‘

ان کو قریب سے جاننے والے اور معروف فلم جرنلسٹ راج کمار کیسوانی بھی قدوائی کی باتوں سے اتفاق کرتے ہیں۔ کیسوانی نے مجھے بتایا کہ ’اصل میں سیاست سے خود ذاتی طور پر انھیں کچھ نہیں چاہیے تھا، وہ ایک جذبے کے تحت یہ سب کر رہے تھے۔‘

ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد سنہ 1977 میں ہونے والے عام انتخابات میں انھوں نے حزبِ ختلاف کی جماعت ‘جنتا پارٹی’ کے لیے مہم بھی چلائی، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ مطلق العنان اور جابر لیڈر (اندرا گاندھی) کے ساتھ ہاتھ ملانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

لیکن وہ بہت جلد ہی جنتا پارٹی کے سیاسی کے تجربے سے بھی مایوس ہو گئے اور اگلے عام انتخابات سے قبل انھوں نے اپنی سیاسی پارٹی لانچ کی۔

ستمبر 1979 میں ممبئی کے تاج ہوٹل میں ہونے والے اس لانچ اور پریس کانفرنس کے موقع پر راج کمار کیسوانی وہاں موجود تھے۔ ان کے مطابق انڈیا کی سیاسی تاریخ میں یہ ایک عجیب لیکن حقیقی واقعہ تھا جب کسی ایک سپر سٹار نے اپنی سیاسی پارٹی لانچ کی تھی۔ دیو آنند اور اُن کے ساتھیوں نے اس موقع پر بدعنوان اور لالچی سیاست دانوں کے خلاف ’کروسیڈ‘ کا اعلان کیا تھا۔

شروعات میں اس مشن میں ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے لیکن دھیرے دھیرے سب الگ ہوتے گئے اور اس طرح سنہ 1980 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ہی ناکام ہو گئی۔

پارٹی کی ناکامی کا سبب بیان کرتے ہوئے کیسوانی نے مجھے بتایا کہ ’اقتدار میں بیٹھی ہوئی کوئی بھی پارٹی ہو، وہ اس طرح کی آزاد آواز کو برداشت نہیں کرتی۔ حکومتِ وقت کو یہ خطرہ تھا کہ یہ ہمارے لیے مصیبت بن جائیں گے اسی لیے اُن کے نمائندوں نے پارٹی سے قریب لوگوں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دھیرے دھیرے لوگ پارٹی سے دور ہوتے گئے اور ایک طرح سے وہ آخر میں تنہا رہ گئے۔ ان کو احساس ہوا کہ اکیلے تو یہ کام نہیں ہو سکتا۔ اوراس طرح ایک خواب نے شرمندہ تعبیر ہونے سے قبل ہی دم توڑ دیا۔‘

رشید قدوائی نے بھی اپنی بات چیت میں اِن باتوں کی طرف اشارہ کیا۔ ساتھ ہی وہ پارٹی کے لیے فنڈز کی کمی اور پورے ملک میں انتخاب لڑنے کے لیے مناسب امیدواروں کے فقدان کو بھی پارٹی کی ناکامی کا سبب قرار دیتے ہیں۔

55 سال بعد لاہور کا سفر

ان سب کے باوجود دیوآنند نے اپنے آپ کو سیاست اور سیاسی شخصیات سے پوری طرح سے الگ نہیں کیا تھا۔ کانگریس کے علاوہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے بی ) کے رہنماؤں سے بھی قریب تھے، جن میں اٹل بہاری واجپائی اور لال کرشن اڈوانی کے نام سر فہرست ہیں۔

ایک موقع پر دیو آنند نے واجپئی کے حق میں رائے شماری کا کام بھی کیا تھا۔ واجپئی کے ساتھ ان کے تعلقات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 1999 میں جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان (دہلی سے لاہور) ’دوستی بس سروس‘ کا آغاز ہوا تو وزیر اعظم انھیں بھی اس بس میں اپنے ساتھ لے گئے۔ لاہور پہنچ کر وہ بہت خوش ہوئے کیونکہ وہ 55 سال بعد وہاں لوٹ پائے تھے۔

یہ وہی شہر تھا، جہاں سے انھوں نے سنہ 1943 میں پہلی بار بمبئی کا سفر کیا تھا، جو کہ بعد میں ان کا اصل گھر بن گیا۔

یاد رہے کہ دیوآنند کی پیدائش 26ستمبر 1923 میں شکرگڑھ میں ہوئی تھی، جو کہ اب پاکستانی پنجاب کا حصہ ہے۔ انھوں نے لاہور گورنمنٹ کالج سے انگریزی میں بی اے کیا تھا اور اس کے بعد یہیں سے انھوں نے بمبئی کا سفر کیا۔

لاہور کے سفر کو یاد کرتے ہوئے وہ اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ ’اتوار کا دن تھا اور کالج بند تھا۔ اس کے باوجود جب طلبا کو پتا چلا کہ ایک سابق راویین (گورنمنٹ کالج لاہور کا طالب علم) اور انڈیا کی اہم فلمی ہستی کالج کا دورہ کر رہی ہے تو جوق در جوق سٹوڈنٹس وہاں جمع ہو گئے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ کالج جتنا آپ کا ہے، اتنا ہی میرا بھی ہے۔‘

وہ کالج پہنچ کر اپنے طالب علمی کے دنوں کی یادوں میں کھو گئے، یہاں تک کہ انھیں لنچ کے لیے ایک ریسٹورنٹ پہنچنا تھا جس میں انھیں ایک گھنٹہ کی تاخیر ہوگئی۔ ریسٹورنٹ میں وہ جب کھانا کھا رہے تھے تو انھیں اپنی فلم ’ٹیکسی ڈرائیور‘ کے ایک گانے کی دھن سنائی دی۔
دیو آنند

Getty Images

دیو آنند کی وفات تین دسمبر 2011 کو ہوئی تھی

انھوں نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک بانسری والا یہ دھن بجا رہا تھا۔ دونوں کی نظریں ملیں تو پھر اس شخص نے بانسری بجانا بند کر دی اور وہ دیو آنند کے پاس آیا اور کہا کہ ‘میں نے آپ کی ساری فلمیں دیکھی ہیں۔ آپ حُکم کریں میں آپ کی کسی بھی فلم کے گانے کی دھن بجا سکتا ہوں۔’

دیو آنند کو یقین نہ ہوا، اس لیے انھوں نے اس شخص سے کہا آپ ایسا نہیں کر پائیں گے۔ جس کے جواب میں بانسری والے نے کہا کہ آپ فرمائش کر کے دیکھیں۔ اُس کے اصرار پر دیو آنند نے ’شوخیوں میں گھولا جائے پھولوں کا شباب‘ کی فرمائش کی تو بانسری والے نے کہا کہ ’اوہ، پریم پجاری فلم کا گانا؟‘ اس کے بعد اس نے اپنی بانسری کو چوما اور وہ دھن بجانے لگا۔

دیو آنند کی حیرت کا ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’اس کے اس دھن بجانے کی وجہ سے میں خیالوں میں ہی کولہا پور پہنچ گیا، جہاں وحیدہ رحمٰن کے ساتھ اس گانے کو فلم بند کیا گیا تھا۔ وہ بانسری والا جیسا دکھتا تھا اور جس محبت کے ساتھ اس نے وہ دھن بجائی تھی وہ کولہاپور کا رہنے والا ہو سکتا تھا، بلکہ انڈیا میں کہیں کا بھی ہو سکتا تھا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16081 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp