پاکستان کی خارجہ پالیسی 1947 ۔ 1965

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


انگریزی سے ترجمہ: محمد نادر

پاکستان کی خارجہ پالیسی اور علاقائی سیاست گزشتہ صدی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور ان کے مضمرات سے اب تک نجات حاصل نہیں کرسکی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حکمت عملی کا محور شروع دن سے ہندوستان اورکشمیر رہا ہے ہم نے ایک مذہبی ریاست کے طور پر خود کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس پالیسی نے ان گنت مسائل کو جنم دیا جن کا سامنا ریاست اور عوام دونوں کو کرنا پڑا۔ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان، ہندوستان، ایران یہاں تک کہ بنگلہ دیش سے بھی خوشگوار تعلقات بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

پاکستان کی تمام تر توانائیاں اور وسائل ان علاقائی تنازعوں کی بھینٹ چڑھتے چلے گئے ریاست پاکستان 70 سال گزرنے کے بعد بھی اپنے عوام کو معیاری تعلیم، صحت کی بہتر سہولیات اور پینے کا صاف پانی تک فراہم نہیں کرسکی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے غیر قانونی اقدامات سے مودی کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کی عملداری میں شامل کرکے مودی نے پاکستان کو سخت مشکل میں ڈال دیا ہے۔

اپنی شہ رگ کے کٹ جانے پر بھی ہم کسی بھی قسم کا ردعمل اب تک ظاہر نہیں کرسکے ہیں۔ پاکستان کی علاقائی سیاست اور جغرافیائی حکمت عملی نے پاکستان کی اندرونی سیاست کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستانی عوام اپنے جمہوری اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کردیے گئے ہیں۔ ہمیں اپنے ملک پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور جمہوری ملک کی طرح دنیا میں باعزت مقام حاصل کرنے کے لیے ایتھوپیا کی طرح اپنی پالیسیوں میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

علاقائی سیاست کا تجزیہ:

علاقائی سیاست کے تجزیے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ یہ پیش گوئی کرسکیں کہ قومی یا بین الاقوامی سیاست میں کون سا واقعہ کب ظہور پذیر ہوگا۔ 1980 میں کون یہ کہہ سکتا تھا کہ بطور ایک مملکت سوویت یونین 1991 ءمیں دنیا کے نقشے سے غائب ہو جائے گا۔ 2019 کے آغاز پر یہ کون جانتا تھا کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اپنی عمل داری میں شامل کرلے گا اور جواباً پاکستان عالمی لیڈروں کو چند فون کال اور چند جذباتی تقریروں کے علاوہ کچھ نہیں کرسکے گا۔

پاکستان نے ایک کام ضرور کیا کہ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کا بھرپور تاثر دے دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے تجزیے کا کیا فائدہ جو یہ نہ بتا سکے کہ کب کہاں کیا ہونے والا ہے۔ لیکن ایک تجزیہ کار آپ کا یہ ضرور بتا سکتا ہے کہ تسلسل کے ساتھ ظہور پذیر ہونے والے واقعات کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ سوویت یونین کے معاملے میں کسی کو نہیں معلوم تھا کہ یہ ملک ٹوٹنے والا ہے۔

لیکن آثار اور واقعات بتا رہے تھے کہ اگر ضروری قدم نہ اٹھائے گئے تو تباہی دور نہیں۔ بالکل اسی طرح کشمیر کے معاملے پر بھی وقت سے زیادہ واقعات اہمیت کے حامل ہیں۔ مودی نے الیکشن میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ دوسری بارمنتخب ہونے کے بعد وہ مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کی عمل داری میں شامل کردے گا۔ علاقائی سیاست کے تجزیے کا مقصد دراصل ”پالیسی سازوں کی توجہ ان حالات و واقعات کی جانب مبذول کرانا ہوتی ہے جو مستقبل میں جغرافیائی تبدیلیوں کا موجب بن سکتے ہیں“ (ساول بی کوہن 2015 ) علاقائی سیاست کا تجزیہ ہمیں بین الاقوامی سطح پر پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام سے باخبر رکھتا ہے اور مستقبل قریب میں پیدا ہونے والے غیر متوازن صورتحال کی پیش بندی کی صلاحیت دیتا ہے۔

مثال کے طور پر 2001 میں افغانستان پر ہونے و الا امریکی حملہ یا 2003 میں عراق پر امریکی یلغار اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ یہ خطہ ایک طویل جنگ کی لپیٹ میں آنے والا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کا تنازعہ ہو یا شام پر ترکی کا حملہ جب ہم ان معاملات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ استنبول سے اسلام آباد تک اور کیسپئن سے بحیرہ احمر تک تمام علاقے ایک تباہ کن جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور قیامت خیز صورتحال سروں پر منڈلا رہی ہے۔ علاقائی سیاست اور جغرافیہ پر گیری نظر رکھنے والے ماہر تجزیہ کار ”ساؤل بی کوہن“ کہتے ہیں ”کسی بھی قوم کی قوت اور استحکام کا دار و مدار چار باتوں پر منحصر ہوتا ہے۔

( 1 ) فوجی قوت اور اس کے ساتھ لڑنے کا حوصلہ۔
( 2 ) مضبوط معاشی نظام جو آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ آپ دوسری ریاستوں کی مدد اور سرمایہ کاری کرسکیں۔
( 3 ) اپنے نظریات پر کاربند رہنے والی قیادت جو دوسری اقوام کے لیے بھی مشعل راہ بن جائے۔
( 4 ) ایک موثر اور منظم نظام حکومت۔

اب ہم سیاسی اور جغرافیائی تناظر میں پاکستان کے کردار کا اجمالی جائزہ لیں گے جو اس نے 20 ویں صدی کے دوران اس خطے میں ادا کیا ہے۔

20 ویں صدی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور جغرافیائی حکمت عملی

پاکستان اپنے قیام کے وقت سے ہی دنیا کے چار اہم ترین ممالک یعنی امریکا، سوویت یونین، چین اور ہندوستان سے خوشگوار تعلقات بنانے میں مشکلات سے دوچار رہا۔ افغانستان اور ایران قریبی ہمسایہ ممالک ہونے کے باوجود پاکستان کی نظر میں زیادہ اہمیت کے حامل نہیں تھے۔ پاکستان کے قیام سے افغانستان خوش نہیں تھا جبکہ ایران بلوچستان کے بارے میں تحفظات رکھتا تھا۔ جسے پاکستان میں شامل کر لیا گیا تھا۔ افغانستان سوویت یونین کے زیر اثر تھا جبکہ ایران کے امریکا سے بہت گہرے مراسم تھے۔

جغرافیائی لحاظ سے امریکہ کی نسبت سوویت یونین پاکستان کے زیادہ اہتمام قریب واقع تھا۔ ابتدائی دنوں میں پاکستانی قائدین لیاقت علی خان اور وفاقی سیکریٹری چوہدری محمد علی مذہبی رجحانات کے حامل تھے۔ ہماری سیاست قیادت اور افسر شاہی کے جانبدارانہ اقدامات کے باعث پاکستان سوویت یونین سے دور اور امریکہ کی آنکھ کا نور بن گیا۔ 1948 میں ریاست حیدرآباد دکن اور کشمیر کے بہت بڑے حصے پر بھارتی قبضے کے بعد پاکستان کو کسی طاقتور دوست کی تلاش تھی اس وقت ہندوستان کے وزیر اعظم جواہرلال نہرو تھے جو اپنی جوانی سے ہی سوویت یونین کے لیے نرم گوشتہ رکھتے تھے، خارجہ تعلقات بنانے میں جواہر لال نہرو نے پاکستان سے زیادہ مستعدی کا مظاہرہ کیا اور بہت جلد سوویت یونین سے اچھے تعلقات استوار کرلیے۔

1949 میں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی سے قرار داد مقاصد منظور کرلی گئی۔ یہ قرار داد پاکستان کو ایک مذہبی رجحانات کی حامل ریاست میں بدلنے کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی۔ اندرونی سیاست کے بدلتے رجحانات نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور جغرافیائی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایک کمیونسٹ ملک ہونے کے باعث سوویت یونین ہمارا اچھا دوست نہیں بن سکتا تھا۔ یا شاید ہمارے ذہنوں میں یہ بات راسخ کردی گئی تھی۔ جزیرہ نما کوریا کی جنگ نے پاکستان کو امریکہ کے اور بھی قریب کر دیا۔

سوویت یونین کا دعوت نامہ پہلے موصول ہونے کے باوجود لیاقت علی نے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ پاکستان امریکا کی حمایت حاصل کرنے کا خواہشمند تھا۔ 1950 کے عشرے میں پاکستان کی سیاست میں دو اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ پاکستان میں ایک جمہوری نظام نہ صرف قائم نہیں کیاجاسکا بلکہ جمہوری رویے بھی پروان چڑھنے نہیں دیے گئے۔ امریکا کی جانب پاکستان کا جھکاؤ بڑھتا چلا گیا۔ سوویت یونین پر نظر رکھنے کے لیے پاکستان نے امریکا کو اپنے ایئر پورٹ استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

حسین شہید سہروردی جنہیں بائیں بازو کی سیاست کا عملبردار سمجھا جاتا تھا۔ عوامی لیگ کے سامراج مخالف نظریات کے برعکس امریکا کی حمایت کا فیصلہ کر لیا۔ نہر سوئز کے تنازع میں عرب ممالک کا ساتھ نہ دے کر اپنے عرب دوستوں کو بھی ناراض کر لیا۔ سہروردی 1956 سے 1957 تک اقتدار میں رہے۔ لیکن اس دوران انہوں نے ایک اچھا کام ضرور کیا اور وہ تھا پاک چین دوستی کا آغاز۔ 1958 کے آنے تک یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ پاکستان کے پہلے صدر میجر جنرل اسکندر مرزا بہت جلد 1956 ءکا آئین منسوخ کرنے والے ہیں۔

1956 میں آئین کے نفاذ کے بعد الیکشن کا انعقاد ایک لازمی امر تھا لیکن دو وجوہ کی بنا پر الیکشن نہیں ہو سکے یہی وہ وجودہ تھی جنہوں نے آگے چل کر پاکستان میں سیاست کی سمت کا تعین کیا۔ پہلی وجہ میجر جنرل اسکندر مرزا کی اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش بنی۔ وہ جانتے تھے کہ الیکشن کے بعد انہیں صدر پاکستان کا عہدہ چھوڑنا پڑے گا دوسری وجہ کا تعلق پاکستان کی اندرونی سیاست اور جغرافیائی حقائق سے ہے۔ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ عوام کا اعتماد کھو چکی تھی اور پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ایک نئی جماعت نمودار ہوچکی تھی۔

بائیں بازو کے رجحانات کے حامل اس نئی جماعت کا نام نیشنل عوامی پارٹی تھا۔ پاکستان کی ایک سیاسی جماعت نیشنل پارٹی کے انضمام کے بعد نیشنل عوامی پاکستان بہت تیزی سے مقبول ہوئی عوامی لیگ اور مشرقی پاکستان کی پارٹی جگتو فرنٹ کے ناراض کارکن بھی نیپ کا حصہ بن گئے۔ متوقع الیکشن میں نیپ کی فتح نوشتہ دیوار بن چکی تھی کیونکہ نیپ کی قیادت بھاشانی، برنجو، باچا خان، میاں افتخار الدین اور جی ایم سید جیسے بھاری بھرکم قائدین کے ہاتھ میں تھی۔

انتخابات میں نیشنل عوامی پارٹی کی فتح پاکستان کی سیاست میں انقلاب برپا کر سکتی تھی۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے میجر جنرل اسکندر مرزا اور کمانڈ انچیف جنرل ایوب خان کے لیے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ بائیں بازو کے نظریات کی حامل کوئی سیاسی جماعت الیکشن میں کامیابی حاصل کرے اور حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہو۔ امریکہ پاکستان میں ظہور پذیر ہونے والی سیاسی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتا تھا اس وقت امریکہ کہ یہ دلی خواہش تھی کہ پاکستانی فوج بغاوت کرکے اقتدارپر قبضہ کرلے اور جمہوریت کے نوخیز پودے کو جڑ پکڑنے سے پہلے ہی اکھاڑ کر پھینک دے۔

1960 کے عشرے میں ہمیں امریکہ اور جنرل ایوب خان کی دوستی گہری ہوتی ہوئی نظر آئی۔ امریکہ کی دوستی درحقیقت جنرل ایوب خان کی خوہش فہمی تھی جو اس وقت ہوا میں تحلیل ہوگئی جب 1965 میں پاک بھارت جنگ شروع ہوئی۔ اس وقت ہمیں پتہ چلا کہ امریکہ ہمارا دوست نہیں بلکہ صرف اور صرف اپنے مفادات کا اسیر ہے۔ 1965 کی جنگ کے بعد پاکستان کی سیاست میں ایک خطرناک موڑ آیا۔ مستقبل میں پاک بھارت دوستی کے امکانات بالکل معدوم ہوگئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •