حسین شہید سہروردی پر کیا گزری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حُسین شہید سہروردی پاکستان کے ایک مختصر عرصے تک وزیراعظم رہے۔ گو کہ اُس وقت کے صدر پاکستان ان کے سخت خلاف تھے لیکن صدر کو یہ کڑوی گولی نگلنی پڑی۔ بیگم شائستہ اکرام سہروردی حسین شہید سہروردی کی سوانح عمری میں رقم طراز ہیں کہ چوہدری محمد علی کی وزارت کے خاتمے کے بعد صدر کو مجبور کیا گیا کہ وہ شہید بھائی کو وزیراعظم کی حیثییت سے قبول کریں گو کہ اس سے قبل صدر اس بات کا اظہار کر چکے تھے کہ ایسا صرف ان کی لاش پر ہی ممکن ہے۔ لیکن حالات نے انھیں اپنا ارادہ بدلنے پر مجبور کیا۔

شائستہ اکرام سہروردی نے اپنی کتاب میں سہروردی صاحب کی ذاتی اور سیاسی زندگی کے بارے میں ایسے بے شمار انکشافات کیے ہیں جو جن سے تقسیمِ ہند پاکستان کے سیاسی میدان میں اُکھاڑ پچھاڑ اور انتقامی کارروائیوں سے آگہی ہوتی ہے۔بیگم شائستہ کی بات یقیناً درست ہو گی لیکن وزیرِ اعظم بننے کے بعد سہروردی شہید اور اسکندر مرزا کے تعلقات کتنے خوش گوار ہوگئے تھے اس کا اندازہ نعیم احمد خان، محمد ادریس، اور عبدالستار کی یادداشتوں پر مرتب کتاب ”پاکستان کے پہلے سات وزرائے اعظم “ کے صفحہ نمبر 83 اور 84 پر تحریر اس متن سے ہوتا ہے:

”سہروردی صاحب کھلانے پلانے کے بہت شوقین تھے، ان کے دور میں وزیرِ اعظم ہاﺅس میں بہت زیادہ دعوتیں ہوتی تھیں۔ ان دعوتوں میں اکثر ڈیڑھ سو، دو سو کے قریب لوگ شامل ہوتے تھے۔ ان پارٹیوں میں شراب بے دریغ استعمال کی جاتی تھی۔ لیکن سہروردی صاحب جب تک وزیراعظم کی حیثیت سے وزیراعظم ہاﺅس میں رہے انھوں نے شراب نہیں پی۔ سنا تھا کہ وہ بہت شراب پیتے تھے لیکن کسی بیماری کی وجہ سے ڈاکٹروں کے مشورے پر شراب پینا بند کر دی تھی۔ سہروردی صاحب اکثر بیگم اسکندر مرزا کے ساتھ ڈانس کرتے تھے۔

یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اتنے اچھے اور دوستانہ تعلقات ہونے کے باوجود اسکندر مرزا نے سہروردی صاحب کو استعفیٰ دینے پر کیوں مجبور کیا۔ ان کے دوستانہ تعلقات کی وسعت کے بارے میں کتاب کے مرتبین مزید لکھتے ہیں کہ:

”مجید چپڑاسی نے بتایا کہ ایک رات تو یہ رنگ جما کہ ناچتے ناچتے رات کے دو بج گئے،شراب کے دور پر دور چلتے رہے۔ اسکندر مرزا اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گورنر جنرل ہاﺅس چلے گئے۔دوسرے مہمان بھی چلے گئے۔ سہروردی صاحب اپنے کمرے میں جا چکے تھے۔ مجید چپڑاسی نے ہال سے متصل کمرے کا پردہ اُٹھا کر دیکھا تو معلوم ہوا ایک عورت صوفے پر بے ہوش پڑی ہے۔ وہ شراب کے نشے میں اس قدر دھُت تھی کہ اسے اپنے کپڑوں کا ہوش بھی نہیں تھا۔ مجید چپڑاسی آگے گیا تو پہچان گیا کہ یہ اسکندر مرزا کی بیگم ہیں۔ اس نے سہروردی صاحب کو جا کر اطلاع دی کہ حضور بیگم اسکندر مرزا تو یہیں رہ گئی ہیں۔ سہروردی صاحب آئے، بیگم موصوف کے کپڑے درست کیے اور کسی طرح گھسیٹ کر گاڑی تک لے آئے۔ سہروردی صاحب خود گاڑی چلا کر بیگم اسکندر مرزا کو گورنر جنرل ہاﺅس چھوڑ آئے۔“

حسین سہروردی ایک بڑے سیاست دان تھے۔جناح صاحب خود چاہتے تھے کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہوں اور مشترکہ ہندوستان کے صوبے بنگال میں مسلم لیگ کی قیادت سنبھالیں ۔وہ جناح صاحب کی توقعات پر پورا اترے۔سیاسی میدان میں مصروفیات کے ساتھ وہ ایک خوش مزاج اور بذلہ سنج انسان بھی تھے۔ مشترکہ ہندوستان اور بعد ازاں پاکستان کے معروف فلمی ستارے کمال نے اپنی سوانح عمری”داستانِ کمال “ میں لکھا ہے کہ:

”کراچی میں پہلے اور شاید آخری صدارتی ایوارڈ کا اعلان ہوا۔ کراچی اسٹیشن پر بھی ہمارا زبردست استقبال ہوا۔ ہم سب لوگ میٹروپول ہوٹل میں ٹھہرائے گئے۔اگلے روز سب کو ایوان صدر میں بلایا گیا۔ اس وقت کے وزیرِاعظم سہروردی مرحوم نے فلم والوں سے بہت اچھی طرح ملاقات کی۔ انھیں فوٹو گرافی کا بہت شوق تھا۔ انھوں نے خود اپنے کیمرے سے فلم اسٹارز کی تصویر یں بنائیں۔“

حسین شہید سہروردی ایک انتہائی قابل وکیل تھے۔ مقدمات کے دوران وہ صرف دلائل سے ہی کام نہیں لیتے تھے، بلکہ اشعار سے بھی کام لیتے تھے۔ایسا ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کے خلاف ایبڈو کے تحت قائم کیے جانے والے ایک مقدمے میں وہ اپنی پیروی خود کر رہے تھے۔شائستہ سہروردی اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ:

” عدالتوں میں ان کی کارکردگی مثالی ہوتی تھی۔جن مقدمات کی سماعت میں وہ پیش ہوتے تھے، لوگ عموماً ان کے دلائل سننے کے لیے عدالت آتے تھے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے خلاف ایبڈو کے تحت مقدمے کی پیروی کر رہے تھے۔ وکیلِ استغاثہ چوہدری نذیر احمد وقت بے وقت اور بلا وجہ انھیں پریشان کر رہے تھے۔ سہروردی ان کی ان حرکتوں کو نظر انداز کر رہے تھے۔ایک موقعے پر اچانک انھوں نے کہا:

” ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تُو کیا ہے،

تم ہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے“

اسکندر مرزا جلاوطنی میں

سہروردی صاحب ایک ماہر قانون دان تھے۔سیاست ان کا پیشہ نہ تھا۔ روزگار کے لیے وکالت کرتے تھے۔ لیکن پاکستان کی انتقامی سیاست نے ہر دور میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔عموماً سب سے پہلے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ معتوب فرد کے اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے اور اسے اس حد تک مجبور کیا جائے کہ اس کی روزی روٹی کا حصول اس کے لیے مسئلہ بن جائے۔ سہروردی صاحب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ شائستہ سہروردی اکرام اللہ سہروردی کی سوانح عمری کے صفحہ نمبر 74 پر لکھتی ہیں کہ:

”انھوں نے اپنی وکالت دوبارہ سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔حکومت نے انھیں روکنے کے لیے اپنی سازشوں میں اضافہ کر دیا۔ کراچی اور لاہور کی عدالتوں کو یہ ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ وکیل کی حیثیت سے انھیں رجسٹر نہ کریں۔ منٹگمری کی ایک عدالت نے حسین شہید سہروردی کو وکیل کی حیثیت سے قبول کیا۔“

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments