پرندے، تجریدی آرٹ اور ہمارا سائنسی علم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاک ڈاؤن کے دنوں میں ہماری قوت مشاہدہ نے یہ نوٹ کیا کہ پرندے آرٹ، خاص طور پر پینٹنگ سے کوئی خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔ جہاں کہیں شجر سایہ دار کے نیچے کوئی گاڑی کھڑی نظر آئے، ان کی اندر کا فنکار بیدار ہو جاتا ہے اوریہ قدرتی پینٹ سے اپنے فن کے نمونے، گاڑی پر منتقل کر دیتے ہیں۔ ہمیں فنون لطیفہ اور آرٹ کی زیادہ سمجھ بوجھ نہیں، مگرگمان غالب ہے کہ ان نمونوں کا تعلق تجریدی آرٹ سے ہو گا۔

ہم اگر پکاسو اور مونئے کی پینٹینگز دیکھیں تو رنگوں، برش کرنے کے انداز اور موضوعات کی بنیاد پرشاید ان میں فرق نہ کر پائیں۔ تاہم پرندے آرٹ کی سمجھ بوجھ میں خود کو ہم سے بہتر ثابت کر چکے ہیں۔ ماضی میں پرندوں پر کی گئی ایک تحقیق بتا چکی ہے کہ مناسب تربیت کے بعد کبوتر پکاسو اور مونئے کی پینٹنگز میں فرق کر سکتے ہیں۔ خیر سر دست تو ان پینٹینگز اور رنگوں کا ذکر مقصود ہے جس کے لیے پرندے ہماری کاروں، لانوں اور چھتوں کو کینوس کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ گاڑی سے پرندوں کی بیٹ کا صفایا جان جوکھوں کا کام ہے۔ خاص طور پر گرمیوں میں اگران داغوں کو صابن اور اسفنج کی مدد سے فوراً دھویا نہ جائے تو یہ مستقل نشانوں میں بھی بدل سکتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پرندوں کے فضلے کا گاڑیوں، پکے دالانوں اور چھتوں سے صفایا اتنا کٹھن کیوں ہے؟

پرندوں میں مائع اور ٹھوس فاسد مادوں کا اخراج ایک ہی مقام سے ہوتا ہے۔ ان کی بیٹ کا بیرونی سفید اور نسبتاً سیال حصہ دراصل چھوٹا پیشاب ہے جبکہ سیاہی مائل مرکزی حصہ ان کا پاخانہ۔ ممالیہ جانوروں کے برعکس، پرندے اپنے نائٹروجنی فاسد مادوں کو یورک ایسیڈ کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔ بھلا ہو مرغن غذاوں اورسست طرز زندگی کا کہ ان کی بدولت ہمیں اس سائنسی اصطلاح کی وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔

یورک ایسیڈ اپنی تیزابیت کی وجہ سے گاڑی کے پینٹ کو خراب کرنے کی وجہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہی وہ مرکب ہے جسے بیٹ کے سفید رنگ کی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں، پکے دالانوں اورعمارتوں سے بیٹوں کو صاف کرنے کی مشکلات میں بھی دوش یورک ایسیڈ کو ہی دیا جاتا ہے۔ گویا

کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم

گاڑیاں بنانے والی کمپنی فورڈ نے رواں سال ایک دلچسپ تجربہ کیا ہے۔ انھوں نے پرندوں کے فضلے کے رنگ اور ترکیب والا مصنوعی رنگ بنا کر اپنی گاڑیوں کے پینٹ پر اس کے اثرات رقم کیے۔ فورڈ کے بقول ان کی گاڑیوں کے رنگ، پرندوں کی بیٹ کی تیزابیت سے خراب نہیں ہوتے۔ فورڈ نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ اگر آپ گاڑی کو باقاعدگی سے دھوتے رہیں تو یہ پرندوں کی بیٹ سے ہونے والے نقصان سے آپ کو بچاتا رہے گا۔

تاہم گزشتہ سال یونیورسٹی آف ٹیکسس (آسٹن) کے ایک سائنس دان نے ایک تحقیق شائع کی جس کے نتائج کافی حیرت انگیز اور دلچسپ ہیں۔ چھ انواع کے پرندوں کی بیٹوں کا تجزیہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان میں سے کسی ایک نمونے میں بھی یورک ایسیڈ موجود نہیں تھا۔ یہ نتائج 1970 میں چھپنے والی اس تحقیق کی نفی کرتے ہیں جس میں طائرانہ فضلے میں یورک ایسیڈ کی موجودگی رپورٹ کی گئی تھی۔ محققین کا خیال ہے کہ غالباً یورک ایسیڈ کو، خارج ہونے سے پہلے ہی، پرندوں کی آنتوں میں موجود بیکٹیریا توڑ دیتے ہیں۔

اس تحقیق میں یورک ایسیڈ کی موجودگی کو جانچنے کے لیے ایکسرے کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہمارے خیال میں جدید تجزیاتی طریقوں سے پرندوں کے فضلے کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ پرندوں کی فزیالوجی کے نئے پہلو آشکار ہو سکیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس تحقیقی مقالے کے چھپنے سے اس میدان میں تحقیق کو فروغ ملے گا۔

پرندوں کا فضلہ ایک عمدہ کھاد ہے جوفصلوں کی نشو ونما کے لیے ضروری عناصر نائٹروجن اور فاسفورس مہیا کرتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق سمندری پرندے ہر سال تقریباً چار ملین ٹن نائٹروجن بناتے ہیں۔ یہ نائٹروجن جانداروں میں زندگی کے لیے ضروری مرکبات جیسا کہ وراثتی مادے اور پروٹین بنانے کے کام آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •