جمہوریت سے آمریت تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان ایک ایسا ملک جسے بہت کوششوں اور قربانیوں سے حاصل کیا۔ ہر ادوار میں بہت سی قربانیاں پیش کرنے کے بعد اس ملک کو حاصل کیا گیا۔ اب بات کرتے ہیں جمہوریت کی جس کا راگ ہر سیاستدان الاپتا تو ہے کیا صحیح معنی میں اس لفظ کے مفہوم سے بھی یہ لوگ واقف ہے اگر بلا دریغ کہا جائے کہ نہیں تو بالکل غلط نہیں ہوگا۔ اسٹیبلیشمنٹ کی باگ ڈور تو آج بھی کسی مضبوط ہاتھوں میں جکڑی ہے جس کی مرضی کے بغیر ملک میں پتہ بھی نہیں ہلتا۔

جمہوریت تو دراصل عوام الناس یعنی عوام کی حکمرانی کا نام ہے اگر ہم پولنگ کریں اور ہر عام انسان سے یہ سوال کریں کیا ملک میں آپ کی مرضی کے فیصلے رائج کیے جاتے ہیں یا آپ کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے تو اس کا جواب نفی میں ہوگا اور وہ کہیں گا فیصلے تو حکمرانوں کے چلتے ہیں ہمارے نہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ اب میں کڑی سے کڑی ملانے کی طرف آتی ہوں جب عوام حکمرانوں کے فیصلوں پر خوش نہ ہو اور عوام سے کئیے وعدوں کو پورا نہ کیا جا رہا ہو تو کیا اس صورت میں جمہوریت پروان چڑھ سکتی ہے۔

چند روز قبل مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے تقریر کی گئی جہاں انہوں نے یہ بات واضح کیں کہ اسٹیبلیشمنٹ تمام فیصلوں کی ذمہ دار ہے مگر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب سابق وزیراعظم خود بھی اسی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں گھیلتے رہے ہیں اس وقت بھی عوام کے حقوق کو بالکل فوقیت نہیں دی گئی اب جبکہ وہی تمام تاریخ کسی اور حکمرانوں کی جانب سے دہرائی جارہی ہے تو تنقید کیوں یہ تو ہمارے ملک میں کامیاب سیاستدان بننے کا سب سے کارآمد ہربا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملا لیے جائیں ورنہ حکومت میں الٹی گنتی گتننے کا وقت قریب ہوتا ہے۔

یاد رکھیں ترقی وہی ممالک کرتے ہیں جن ممالک میں جمہوریت کو پروان چڑھنے دیا جائے اور عوام کی رائے کو مقدس سمجھا جائے مگر ہمارے ملک میں افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے جمہوریت تو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تو پروان چڑھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہیں نہ کہیں ہم سب کسی ڈکٹیٹر کے شکنجے میں جکڑے ہیں وہ جب جیسے چاہتا ہے ہم پر فیصلے مسلط کرتا ہے ابھی تک جمہوریت سے نابلد ہیں اس ملک کے لوگ۔ میں نے ان ممالک کو ترقی کرتے اور اگے بڑھتے دیکھا ہیں جہاں ہر ادارہ اپنی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے سمجھتا ہے۔

سیاستدان ملکی مفاد اور عوام کی رائے کو سب سے اوپر رکھتے ہیں۔ جہاں افواج سرحدوں کی حفاظت اور دفاعی معاملات میں پوری دلجمعی سے لگے ہوتے ہیں انہیں سیاست اور سیاسی معاملات میں ہرگز دلچسبی نہیں ہوتی ان ممالک کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جہاں نازی حکمران نے عوام کو غلام بنانا چاہا اور انہیں اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑی جو کہ عوام کی جانب سے شدید ردعمل کی صورت میں سامنے آئی۔ ہر ملک کی افواج قابل احترام اور قابل عزت ادارہ ہے کیونکہ ملک کا دفاع ان ہی باہمت جوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے مگر جب کوئی ادارہ اپنے ادارے کے ساتھ ساتھ دوسرے معاملات میں بھی دلچسبی لینا شروع کر دے، بگاڑ اس جگہ سے پیدا ہوتا ہے۔

اپنے اپنے وقت میں ہر حکمران کہیں نہ کہیں اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ منسوب رہا ہے یہ ایک اپنے قدم جمائے رکھنے اور دیر تک حکمرانی کرنے کا طریقہ ضرور ہو سکتا ہے مگر جمہوریت ہرگر نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت کو زندہ رکھنے کے لئے سب سے پہلے عوام کی رائے کو اہمیت دینا پڑتی ہے وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتی جن کی عوام ان کے حکمرانوں سے خوش نہ ہوں۔ ترکی جیسا اسلامی ملک ایک زندہ مثال ہے وہاں کا حکمران عوام کی رائے کو ہر بات میں فوقیت دیتا ہے جمہوریت کا لفظ صرف کتابوں تک محدود نہیں بہت سے ممالک کو بہترین جمہوریت کی پریکٹس کرتے دیکھا جا سکتا ہے مگر ہمارے ملک میں یہ نام تو سب سیاستدان لیتے ہیں مگر دراصل ان سب سیاستدانوں نے حقیقت میں عوام کو آج بھی غلام بنایا ہوا ہے اور ہماری عوام بھی اپنے آقاؤں کو تو بدلنا سیکھ گئی ہے مگر جمہوریت کا سبق بالکل فراموش کر چکی ہے اب نا جابے کون اور کب اس عوام کو جمہوریت اور آمریت میں فرق کرنا سکھائے گا۔ کیونکہ اب تو آقاؤں کو خوشی خوشی قبول کرنے اور ان کے حق میں نعرے بلند کرنے کا رواج کے چہرے بدلتے جاتے ہیں حکمران تبدیل ہو جاتے ہیں مگر آمریت کی نا دیدہ زنجیروں سے بیچاری عوام کو کبھی رہائی نہیں ملتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •