غیرسنجیدگی اور ہماری قوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دنوں قبل سوشل میڈیا کی بدولت ایک لڑکی کو پذیرائی ملی۔ اس لڑکی نے کوئی خاص کارنامہ سرانجام نہیں دیا کہ اس کے حصے میں وہ پذیرائی آئے۔ عادت میں بچپنا اور طبیعت کی شوخی نے محترمہ کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا اور اس کا سہرا ہمارے میڈیا کے سر جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی سوشل میڈیا سے اٹھنے والا ایک شیر خوار بچہ ٹی وی کی زینت بنا رہا۔ نجانے اور کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے فطری چونچلے پن کو سوشل میڈیا اور پھر ٹی وی شوز پہ انوکھا سمجھا گیا۔

ایک عام گھرانے میں پلنے والے بچوں میں یہ شوخ مزاجی عام سی بات ہے۔ لیکن ان باتوں کی بدولت بچوں کو ٹی وی کی زینت بنا لینا اس بات کی دلیل ہے کہ بطور قوم ہم مسخرے ہیں۔ بعض اوقات تو معروف ادکار جو کہ اینکر بنے بیٹھے ہیں ان بچوں کی بدتمیزی سے اس قدر لطف اندوز ہوتے ہیں کہ بدتمیزی اور شوخی میں فرق ہی نہیں رہتا۔ جب کبھی ایسے بچے سوشل میڈیا کے راستے ٹی وی شوز کی رونق بنتے ہیں تو قوم کی حالت ان دنوں حالت یہ رہتی ہے کہ کسی جگہ پہ بھی ا یسے لوگوں سے ہٹ کر کوئی بات نہیں ہوتی ہے۔ آج ہمارے میڈیائی اینکرز اس بات کا ڈھونگ رچاتے ہیں کہ ان کے پروگرام معلومات سے بھرپور ہوتے ہیں لیکن حقیقت بے ثمر، بے سایہ دکھاتی ہے۔

دوسری طرف سوشل میڈیا خصوصاً یو ٹیوب پہ اخلاقی انحطاط اس قدر عروج پہ پہنچ چکا ہے کہ یو ٹیوب پہ جوغیر مذہبی ٹولہ شہرت اور دولت کی دیوی کا پجاری بنا ہوا ہے۔ آپ یو ٹیوب کھولیں اور ٹرینڈز میں جائیں۔ اس بات کی قوی امید ہے کہ پانچ میں سے دو ویڈیوز ان یوٹیوبرز کی چل رہی ہوتی ہیں جن کے منہ سے گالی کے علاوہ دوسرا کوئی لفظ نہیں نکلتا۔ ہر جملے میں گالی دینا ان حضرات کے لیے فرض عین کی طرح ہے۔ کسی زمانے میں جو حرکتیں نازیبا خیال کی جاتی تھیں۔ خیر سے آج وہ یوٹیوب کی بدولت کھلم کھلا دکھلائی جارہی ہیں۔ ان یوٹیوبرز کے ساتھ چند موٹیوشنل اسپیکرز بھی ہیں جو اچھی باتیں تو کرتے ہیں۔ لیکن ان کا کام محض چلانا ہے، معاشرے کی خامیاں گنا گنا کر تھکتے نہیں۔ شاید اس بات سے ناواقف ہیں کہ مخض گلا پھاڑ کر چلانے سے آواز میں وزن پیدا ہوجاتا ہے بات میں نہیں۔ ہماری نئی نسل ان دو طرح کے لوگوں کو سننے پہ مجبور ہے۔

کسی قوم کی ترجیحات اس کے سنجیدہ پن کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ آج ہماری نئی نسل کی ترجیحات میمز اور ٹک ٹاک کے علاوہ کیا ہیں؟ ایک بے ہودہ حرکت اور شہرت جھولی میں آگرتی ہے۔ ا س ذہانت کا کیا فائدہ جو بے مقصد ٹھہرے۔ اس بات پہ فقط ناز کیوں کر ہو کہ ہماری قوم کی اکثریت نوجوان ہیں۔ ان جوانیوں کا کیا فائدہ جو بے مصرف اور دماغی طور پہ مفلوج ہوں۔ اعداد وشمار کبھی بھی قوموں کی سمت درست نہیں کرتے۔ ترجیحات کا فرق ہی قوموں کے عروج کا باعث بنتا ہے۔ اسی لیے تو قرآن میں آیا ہے۔

ترجمہ: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے اور جب اللہ کسی قوم کو برے دن دکھانے کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر اسے کوئی ٹال نہیں سکتا اور اللہ کے سوا ایسوں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہو سکتا (رعد:11)

ہم ایک نئی نسل کو مسخرہ نہیں بنا رہے۔ بلکہ ہم اگلی آنے والی نسلوں کو مسخرہ بنا رہے ہیں۔ ہماری ترجیحات کا فرق ہمارے زوال کا باعث بن چکا ہے۔ یہ ترجیحات کسی زمانے میں کھیل کود تک محدود تھیں لیکن آج کل شہرت ان کی لونڈی بن چکی ہے اس شہرت کو ہر گلی محلے کی زینت بنانے میں ہمارا میڈیا خصوصاً ٹی وی ڈرامے و مارننگ شوز کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ ان ٹی وی شوز کو نام نہاد میڈیا ان اینکرز کے سر پہ چلا رہا ہے جن کا اپنا کردارایسے کرتوتوں سے رنگا ہوا ہے کہ ان کا ذکر کرنا بھی محال ہے۔ لیکن سچائی کے محافظ جن کا اپنا وجود سرتا پا گرگٹ کی طرح روز رنگ بدل دیتا ہے۔ فقط مزاح کے لیے قوم کی اخلاقیات کا جنازہ سرعام ٹی وی پہ نکال رہے ہیں۔

یہ غیر سنجیدگی سرطان کی صور ت میں ہمارے معاشرے میں داخل ہو چکی ہے جس کا خمیازہ ہمیں آج نہیں تو کل ضرور بھگتنا ہوگا۔ ایک مشہور مقولہ ہے کہ

”المیہ یہ نہیں کہ آج کی نوجوان نسل بگڑ رہی ہے بلکہ المیہ یہ ہے آنے والی نسلوں کو بگڑے ہوئے والدین ملیں گے“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی حیدر سعید کی دیگر تحریریں