نظریہ ارتقا، ڈارون اور مسلمان مفکرین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حقیقت یہ ہے کہ چارلس ڈارون سے صدیوں پہلے جاحظ، ابوالعلاء المعری، زکریا القزوینی، ابن خلدون، ابن مسکویہ اور اخوان الصفاسمیت متعدد مسلمان مفکرین نے نظریہ ارتقا پیش کر دیا تھا۔ ڈارون کے نظریے کے دو بنیادی جزو ہیں ؛ ایک نیچرل سلیکشن یا قدرتی انتخاب جبکہ دوسرے جزو کا نام ڈیسنٹ ود موڈیفکیشن یا سلسلہ نسب کا ترمیم کے ساتھ چلنا۔ پہلے جزو کو جاحظ نے چارلس ڈارون سے تقریباً ایک ہزار سال پیش کیا تھا جو ڈارون کے نظریے سے حد درجہ مشابہ ہے۔

ڈارون کا کمال صرف اتنا ہے کہ اس نے اس نظریے کو پختہ منطقی اور سائنسی بنیادوں پراس طرح استوار کیا کہ یہ اس کی پہچان بن گیا۔ بظاہر اس نے یہ نظریہ مسلمان اساتذہ یا ان کی کتابوں سے حاصل کیا تھا کیونکہ اس بات کے شواہد ملتے ہیں کہ ڈاکٹر بننے کے بعد جب وہ دنیا سے متنفر ہوا تو اس نے عیسائی مذہب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور یہی وہ زمانہ ہے جب وہاں متعدد مسلمان مفکرین کے مختلف کتب پڑھائی جاتی تھیں۔

ہمارے ہاں ڈارون کا نظریہ شاید اس کے غیر مسلم ہونے کی وجہ سے بھی پیچیدگی پیدا کرتا ہے لیکن اس پروپیگنڈے میں بہرحال کوئی حقیقت نہیں ہے کہ وہ ملحد تھا۔ وہ ایک مذہبی آدمی تھا اور اس نے کیمبرج یونیورسٹی میں باقاعدہ تقابل ادیان کا علم بھی حاصل کیا۔ یہیں اس نے اسلام سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے عربی زبان بھی سیکھی۔ ڈارون کے خطوط کا جو مجموعہ شائع ہوا ہے اس میں اس نے اپنے عربی استاذ کا نام حد درجہ ادب سے لیا ہے۔

قرین قیاس یہی ہے کہ اسی دور میں وہ مسلمان مفکرین کے نظریہ ارتقا پر مطلع ہوا اور کانٹ چھانٹ کر اسے اس طرح پیش کیا کہ لوگ اسی کو اس نظریے کا خالق سمجھنے لگے۔ اس قدر تمہید کے بعد ابن مسکویہ اور اخوان الصفا کا نظریہ ارتقا پیش خدمت ہے۔ میں نے ابن مسکویہ کی ”الفوز الاصغر“ اور اخوان الصفا کی ”رسائل“ (تیسری چوتھی صدی ہجری کی کتابیں ) کا انتخاب اس لیے کیا ہے کیونکہ ان میں نظریہ ارتقا بالکل واضح ہے۔

ان کے مطابق موجودات کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ وہ صرف اجسام مفردہ یعنی عناصر کی شکل میں تھے۔ ان عناصر نے جب باہم ترکیب پائی تو سب سے پہلے جمادات وجود میں آئے اور یہی عالم ترکیب کا سب سے نچلا درجہ ہے۔ جمادات ترقی کر کے نباتات کے درجے پر پہنچے اور پھر نباتات نے درجہ بدرجہ ترقی کی، پہلے گھاس وجود میں آئی جو کسی بیج کی بجائے اپنے آپ سے ہی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد درخت پیدا ہوئے۔ ان میں حیات نے ارتقائی منازل طے کیں توکچھ ایسے درخت پیدا ہوئے جن میں تنا، شاخ، پھل اور پھول لگتے ہیں اورحیوانوں کی طرح انہیں خوارک کے لیے زمین، پانی اور ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔

درختوں میں حیات ارتقا کرتی رہی یہاں تک کہ ان میں کچھ ایسے خواص پیدا ہوئے جو حیوانوں سے بہت قریب تھے جیسا کہ کھجور کا درخت ہے کہ اگر اس کا سر کاٹ دیا جائے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا اور یہ خصوصیت حیوانوں میں توپائی جاتی ہے لیکن سوائے کھجور کے اور کسی بھی نبات میں نہیں پائی جاتی۔ یعنی نباتات میں ارتقائی معراج کا مظہر کھجور کا درخت ہے۔ اسی طرح کھجور اور خرما میں حیوانوں کی طرح نر اور مادہ بھی ہوتے ہیں اور جس طرح ان میں نر اور مادہ کی مباشرت سے نسل آگے بڑھتی ہے اس طرح کھجور اور خرمامیں جب تک پیوند کاری نہ ہو یہ بارآور نہیں ہوتے۔ ایک حدیث میں بھی اس جانب بڑا لطیف اشارہ ہے کہ اپنی پھوپھی کھجور کی عزت کرو کیونکہ یہ اسی مٹی سے بنی ہے جو حضرت آدم کی خاک سے بچ رہی تھی۔

ارتقائی سفر جب آگے بڑھتا ہے اور نباتات، حیوانات سے متصل ہوتے ہیں تو ایک ایسی صنف وجود میں آتی ہے جو نباتات اور حیوانات دونوں کا مجموعہ ہے مثلاً مونگا اور سیپ وغیرہ۔ ان کے یاں صرف یہی دو مثالیں ملتی ہیں جس کی وجہ اس دور کے محدود وسائل بھی ہو سکتے ہیں ورنہ آج کل کئی ایک درخت اورگھاسیں دریافت ہو چکی ہیں جو دوسرے جانداروں کو کھا جاتے ہیں یا ان کا خون چوستے ہیں۔ بہرحال ابن مسکویہ اور اخوان الصفا کے مطابق نباتات جب ترقی کر کے حیوانات کے درجے پر پہنچتے ہیں تو سب سے پہلے کیڑے پیدا ہوتے ہیں جن میں اختیاری حرکت کے علاوہ کوئی اور وجہ امتیاز نہیں پائی جاتی۔

ان میں رفتہ رفتہ ترقی ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ قوت لمس کے علاوہ ان میں باقی حواس پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور پھر ایسے حیوانات بھی وجود میں آ جاتے ہیں جن میں قوت لامسہ، سامعہ، شامہ، ذائقہ اور باصرہ بھی ہوتی ہے۔ ان میں ارتقا کا سفر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ ایسے جانور وجود میں آ جاتے ہیں جو محض چلتے یا کودتے ہیں۔ مزید ترقی کے بعد کچھ ایسے جانور پیدا ہو جاتے ہیں جو بہت زیادہ بہادر، ذہین اور چالاک ہوتے ہیں اور ان کی بہت سی حرکات انسانوں کے مشابہ ہوتی ہیں۔

ان میں ترقی ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ انسانوں کی سرحد کے بہت قریب آ جاتے ہیں مثلاً بندر کہ ان کے قوائے عقلیہ بہت کچھ انسانوں سے مشابہ ہو تا ہے اوریہ حیوانیت کانقطہ انجام اور انسانیت کا نقطہ آغاز ہے جس میں ان کا کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا اور قد بھی انسانوں کی طرح سیدھا ہو جاتا ہے۔ مثلاً بعض افریقہ وغیر ہ میں ایسے بہت سے قبائل ہیں جن میں بندروں اور انسانوں میں بہت کم فرق رہ جاتا ہے اور یہیں سے انسان شروع ہوتا ہے۔ آخر میں صرف اتنا کہنا ہے کہ جب ان مسلمان مفکرین نے نظریہ ارتقا پیش کیا تھا تو ان پر کسی نے کفر کا فتویٰ نہیں لگایا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •