کیونکہ ستم گر ہے ستمبر


پاکستان کی سیاست کی کہانی بھی کسی بارہ مصالحے کی سپر ہٹ فلم سے تو کم نہیں ہے۔ جس میں ایک زمانے کے ظلم کا ستایا ہوا اینگری مین ہیرو ہوتا ہے اور اس کی ایک بہت ہی معصوم مگر امیر ٹائپ ہیروئن ہوتی ہے جس کا کام ہیرو کی انٹری سے پہلے یا اس کے بعد بھی صرف آنسو بہانا یا دو چار گانوں پر دل لبھانا ہوتا ہے۔

ساتھ میں ہیرو کی معذور بہن بیوہ ماں اور بہت تڑکا ہو تو ایک عدد بھائی بھی جس کو یا تو غنڈوں نے ماردینا ہوتا یا پھر اس نے ولن کے ساتھ مل کر بغاوت کے علم بلند کرنے ہوتے ہیں۔

ہاں اور تھوڑا بہت دیکھنے والوں کی دل چسپی کے لیے ہیرو کے بیچارے ایک دو ایکسٹرا دوستوں کو بھی ڈال دیا جاتا ہے جن کا کام اپنی سستی کامیڈی سے دو چار سین نکالنا ہوتا ہے۔

جبکہ اسی بارہ مصالحے کی چاٹ میں ہیروئن کا امیر باپ ضرور ہوتا ہے جوکسی صورت میں اپنی بیٹی کی شادی ہیرو سے نہیں ہونے دینا چاہتا اور زیادہ تر فلموں میں خود ہی ولن نکل آتا ہے۔

جس کی بیٹی کورٹ میں اس کے خلاف کھڑے ہو کر چلا چلا کر گواہیاں دیتی ہے یا پھر ہیرو کی نیکیوں سے متاثر ہو کر اپنی بیٹی اور جائیداد سب غریب ہیرو کو دے کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر گولیاں کھاکر رخصت ہو جاتا ہے۔ جبکہ ہینڈسم ہیرو کے نصیب جاگ جاتے ہیں

(اب آپ اپنی مرضی سے ان کرداروں کو پاکستانی سیاست میں کہیں بھی فٹ کر لیں سب کردار پاکستان کی سیاسی فلم میں نگینے کی طرح فٹ بیٹھتے ہیں )

ہیپی اینڈنگ دو چار ہٹ گانے، ایک عد آئٹم سانگ کلایمکس میں دو چار اموات اور ہیرو کی محیرالعقول حرکات فلم سپرہٹ پیسہ وصول۔

پاکستانی سیاست میں یہ راز تو کسی سے ڈھکا چھپا ہے نہیں کہ ہیرو کی انٹری کیسے ہوتی ہے اور دوسری جانب ہیرو بھی ڈائریکٹر کے کیسے منتیں ترلے کرتے ہیں اپنی انٹری کے لیے۔

اب یہ بھی قسمت ہے کہ فلم ہٹ ہے یا فلاپ فلم ہٹ تو ہیرو کی تو واہ واہ مگر ڈائریکٹر کی بھی واہ واہ لیکن اگر فلم فلاپ تو اسکرپٹ کمزور ہیرو کی بھی قسمت پھوٹی۔

تاہم ہیرو اگر خوش قسمت تو دوبارہ چانس پر فلم ہٹ ہونے کی پوری توقعات۔

پاکستان تحریک انصاف اس لحاظ سے بہت ہی خوش نصیب رہی ہے کہ اسے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی کمزوریوں مجبوریوں مصلحتوں نے بھرپور اور بارہ مصالحے کا سپر ہٹ اسکرپٹ دیدیا۔

اب یہ الگ بات ہے کہ فلم میں سب کچھ لیکن بس نہیں ہے تو ہیرو کی پرفارمنس۔

ادھر ادھر سے سپورٹنگ ایکٹرز پوری کوشش کر رہے ہیں کہ فلم ہٹ ہو جائے لیکن کیا کریں فلم میں مصالحے پورے لیکن عوام بجلی گیس آٹے چینی کو ترس گئی تو کیا کرے گی عوام ایسی فلم کا جب دیکھنے کے لیے جیب میں دمڑی بھی نہ ہو۔ دوسری جانب فلم کی پرموشن زور و شور سے جاری ہو مگر فلم کا بزنس اچھا نہ ہو۔

دوسری جانب لڑکھڑاتی گرتی سنبھلتی اپوزیشن نے اے پی سی کر ہی ڈالی جس میں دیکھنے اور سننے والوں کے لیے تو ایک ہی تقریر تھی اور وہ میاں صاحب کی تھی جو انہوں نے لندن کی پر کیف فضاؤں سے پاکستانی عوام کے نام کی۔

کیا ہوا کیوں ہوا اب پیچھے رہ گیا عوام کو تو بس یاد رہنا کہ جب وہ مہنگائی کی اس چکی میں پس رہے تھے تو کون سا سپر ہیرو ان کے ساتھ کھڑا تھا۔

چھپ چھپ کر ملنے کی ملاقاتوں کے قصے بھی پاکستانی سیاست میں کوئی نئے تو ہیں نہیں نہ معاہدے کی کہانیاں کوئی پرانی ہیں نہ ہی شیخ رشید کی شوخیاں کبھی سائیڈ ہیرو کی طرح پرانی ہوں گی ۔ نہ ہی عوام کو سپنے دکھانے کے آسرے کوئی نئے ہیں۔ نہ ہی ایک دوسرے پر غداریوں کے الزامات اور اپوزیشن کو جیلوں کی سیر کرانے کی عادتیں بدلی ہیں۔

ہاں بس دیکھنا یہ ہے کہ ابھی مزید اور کیا کیا ہونے جا رہا ہے۔
ادھر گلگت بلتستان کے الیکشن ہیں ایف اے ٹی ایف کی تلوار سر پر ایل او سی کا محاذ بھی گرم ہے۔

یہاں حکومت اپنے ہی مہربانوں کی مہربانیوں سے عوام میں تو کم از کم اعتماد کھوتی جا رہی ہے بھلے اس ہٹ فلم کے ڈائریکٹر صاحب ناراض نہ ہوں۔

رہ گئی اپوزیشن تو اسے تو اندرونی اور بیرونی محاذوں کے ساتھ ڈائریکٹر کو بھی منانا ہے کہ ان کا پرانا فارمولہ اسکرپٹ ایک بار پھر ہٹ ہو جائے گا۔

ہیمشہ سے سنا کہ ستم گر ہے ستمبر اور اب دیکھ بھی لیا کہ واقعی سچ ہے ستم گر ہے ستمبر دیکھتے ہیں کہ ستمبر کی ستم گریاں کیا رنگ لاتی ہیں۔

Facebook Comments HS